سماعِ موتیٰ پر دلائل: صحیح احادیث اور شنقیطی کے اقوال کی روشنی میں

کتاب: أضواء البيان في إيضاح القرآن بالقرآن
مصنف: الشيخ محمد الأمين الشنقيطي رحمه الله
نبی ﷺ کا اہلِ قبور سے یہ کہہ کر خطاب کرنا:
تم پر سلام ہو
اور یہ فرمان:
اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے
اور اس جیسی دوسری باتیں
واضح طور پر اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ آپ ﷺ کا سلام سنتے ہیں۔
کیونکہ اگر وہ آپ ﷺ کا سلام اور کلام نہ سنتے ہوتے
تو ان سے خطاب کرنا ایسے ہوتا جیسے کسی معدوم چیز سے خطاب کرنا۔
اور یقیناً ایسا کرنا عقل مند لوگوں کا طریقہ نہیں۔
لہٰذا نبی ﷺ سے ایسی بات کا صادر ہونا بہت بعید ہے۔
اور جب آپ ان صحیح دلائل کو دیکھ لیں جو مردوں کے سننے پر دلالت کرتے ہیں،
تو جان لیں کہ قرآن کی آیات، جیسے:
بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے
اور
آپ قبروں والوں کو نہیں سنا سکتے
ان دلائل کے خلاف نہیں ہیں۔
ہم ان آیات کی صحیح تفسیر واضح کر چکے ہیں،
اور یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ قرآنی قرائن بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہیں،
اور پورے قرآن کا مطالعہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔
جان لو کہ دلیل کے اعتبار سے زیادہ مضبوط بات یہ ہے کہ
قبروں میں موجود مردے اس شخص کی بات سن سکتے ہیں جو ان سے بات کرے۔
پہلی دلیل یہ ہے کہ
مردوں کا سننا نبی ﷺ سے متعدد احادیث میں ثابت ہے
جن میں کوئی کمزوری نہیں،
اور نبی ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ صرف کسی خاص انسان یا خاص وقت کے ساتھ مخصوص ہے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ
نبی ﷺ سے مردوں کے سننے کے بارے میں جو صحیح نصوص ہیں
ان کے خلاف قرآن یا سنت میں کوئی صریح دلیل موجود نہیں۔
لہٰذا جب یہ ثابت ہو گیا کہ
مردوں کا سننا نبی ﷺ سے ثابت ہے
اور اس کے خلاف کوئی واضح دلیل نہیں
تو یہ بات راجح ہو جاتی ہے کہ
دلائل اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔