نبی ﷺ اور اہلِ قبور کے سلام سننے پر دلائل اور اہل سنت علماء کی توضیح

سائل پوچھتا ہے
کیا یہ درست ہے کہ جب کوئی شخص نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کرے اور سلام پیش کرے تو رسول اللہ ﷺ اس کا سلام نہیں سنتے؟
جو شرعی دلائل سے ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ سلام سنتے بھی ہیں اور سلام آپ تک پہنچایا بھی جاتا ہے۔ اسی طرح اہل قبور کو بھی جب سلام کیا جائے تو وہ سنتے ہیں۔ کیونکہ مسلمان کہتا ہے السلام علیکم یعنی خطاب کے ساتھ سلام کرتا ہے۔
ایک حدیث آئی ہے جسے ابن عبدالبر نے صحیح کہا اور ابن القیم نے کتاب الروح میں ذکر کیا اور اس پر اعتراض نہیں کیا کہ
جب کوئی شخص کسی ایسے آدمی کی قبر پر کھڑا ہو جسے وہ دنیا میں جانتا تھا اور اسے سلام کرے تو اللہ اس کی روح لوٹا دیتا ہے اور وہ سلام کا جواب دیتا ہے۔
اور صحیح حدیث میں آیا ہے کہ نبی ﷺ بدر کے مقتول مشرکین کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا
اے ابو جہل بن ہشام
اے امیہ بن خلف
اے عتبہ بن ربیعہ
اے شیبہ بن ربیعہ
کیا تم نے اپنے رب کا وعدہ سچا پایا؟
میں نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پایا ہے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا
یا رسول اللہ یہ کیسے سنیں گے جبکہ یہ مر چکے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو جو میں کہہ رہا ہوں، لیکن یہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔
اس سے نبی ﷺ نے ثابت کیا کہ وہ سنتے ہیں۔
جہاں تک قرآن کی آیت ہے
بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا سنانا جس سے وہ فائدہ اٹھائیں۔
کیونکہ مردہ اس طرح نہیں سنتا کہ اسے بلایا جائے اور وہ جواب دے سکے یا فائدہ اٹھا سکے۔
اسی معنی میں اللہ نے فرمایا
وہ کہتے ہیں ہم نے سنا حالانکہ وہ سنتے نہیں
یعنی وہ قبول نہیں کرتے۔
اسی طرح مردوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایسا سننا نہیں رکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھائیں یا جواب دے سکیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں راجح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص نبی ﷺ کو سلام پیش کرے تو نبی ﷺ اس کا سلام سنتے ہیں

کیا مردہ ہمارے حالات جانتا ہے؟
اگر جانتا ہے تو کیسے؟
اور کیا وہ ہمیں سنتا ہے اگر ہم قبر پر جا کر اس سے بات کریں؟
اس مسئلے میں تفصیل ہے:
جہاں تک یہ بات ہے کہ مردہ مطلق طور پر لوگوں کی خبریں سنتا یا جانتا ہے — تو ایسا نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
بے شک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔
اور فرماتا ہے:
آپ قبروں والوں کو نہیں سنا سکتے۔
اور نبی ﷺ نے فرمایا:
جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے:
جاری صدقہ، ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
اسی طرح عام طور پر سننا بھی منقطع ہو جاتا ہے،
سوائے اس کے جس پر نص (واضح دلیل) موجود ہو۔
مثلاً نبی ﷺ کا فرمان:
جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس چلے جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔
یہ نص سے ثابت ہے۔
اسی طرح قبر میں فرشتے سوال کرتے ہیں:
تمہارا رب کون ہے؟
تمہارا دین کیا ہے؟
یہ بھی نص سے ثابت ہے۔
لیکن یہ کہ وہ اپنے گھر والوں کی خبریں سنتا رہے — اس پر کوئی دلیل نہیں۔
وہ نہ سنتا ہے اور نہ ان کی خبریں جانتا ہے۔
جہاں تک قبر پر جا کر سلام کرنے کا مسئلہ ہے:
اس میں علماء کا اختلاف ہے۔
کچھ روایات آئی ہیں (جن میں کمزوری ہے) کہ اگر کوئی جان پہچان والا قبر پر سلام کرے تو اللہ اس کی روح لوٹا دیتا ہے تاکہ وہ سلام کا جواب دے سکے۔
ایک روایت میں آیا:
جو کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے اللہ میری روح لوٹا دیتا ہے تاکہ میں جواب دوں۔
یہ قول مضبوط لگتا ہے،
لیکن ان احادیث کی صحت پر بحث ہے ان میں کمزوری بھی ہے۔
لہٰذا کہا جاتا ہے:
ممکن ہے ایسا ہو اگر روایات صحیح ثابت ہوں
واللہ اعلم۔