ابن القیم کے قول پر سوال، اور سلام پر میت کے جواب دینے والی روایت کا بیان
شیخ سے سوال کیا گیا کہ ابن القیم نے اپنی کتاب الروح میں لکھا ہے کہ میت کو جمعہ کے دن زائر کی آمد کا علم ہوتا ہے اور اس کو خاص جمعہ کے دن کے ساتھ جوڑا ہے، تو اس کی دلیل کیا ہے؟ اور جو آثار انہوں نے ذکر کیے ہیں وہ صحیح ہیں یا ضعیف؟
شیخ نے جواب دیا کہ جو آثار انہوں نے ذکر کیے ہیں ان کے بارے میں مجھے علم نہیں۔ اور جہاں تک جمعہ کے دن کو خاص کرنے کی بات ہے تو اس کی کوئی دلیل نہیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ موت کی یاد دلاتی ہے۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے رات کے وقت جنت البقیع کی زیارت کی جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مشہور طویل حدیث میں ہے۔ اس لیے میت کے زائر کو صرف جمعہ کے دن پہچاننے کی تخصیص کی کوئی بنیاد نہیں۔
اسی طرح سنن کی کتابوں میں ایک روایت ہے جسے ابن عبدالبر نے صحیح کہا اور ابن القیم نے بھی کتاب الروح میں اسے قبول کیا ہے کہ جو شخص کسی ایسے مسلمان کی قبر پر سلام کرے جسے وہ دنیا میں جانتا تھا تو اللہ اس کی روح لوٹا دیتا ہے اور وہ سلام کا جواب دیتا ہے، اور یہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔
پھر سوال کیا گیا کہ کیا اگر مسلمان قبر پر جا کر میت کو سلام کرے تو اللہ اس کی روح لوٹا دیتا ہے تاکہ وہ سلام کا جواب دے؟
شیخ نے جواب دیا کہ اس بارے میں مرفوع حدیث آئی ہے جسے ابن عبدالبر نے صحیح کہا ہے کہ جو مسلمان کسی ایسے مسلمان کی قبر کے پاس سے گزرے جسے وہ دنیا میں جانتا تھا اور اسے سلام کرے تو اللہ اس کی روح لوٹا دیتا ہے اور وہ سلام کا جواب دیتا ہے۔