نبی ﷺ نے خود توسل کی دعا سکھائی حدیثِ عثمان بن حنیفؓ
عثمان بن حنیفؓ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ ﷺ نے ایک نابینا شخص کو ایک دعا سکھائی
جس کے ذریعے وہ شفا حاصل کرے۔
وہ دعا یہ تھی:
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں
اور تیری بارگاہ میں تیرے نبی محمد ﷺ، نبیِ رحمت کے ذریعے توسل کرتا ہوں۔
اے محمد ﷺ! میں آپ کے ذریعے اپنے رب کی طرف
اپنی اس حاجت میں متوجہ ہوا ہوں
تاکہ وہ میری حاجت پوری فرما دے۔
اے اللہ! آپ ﷺ کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔
سند کی حیثیت
شعیب الأرنؤوط کہتے ہیں:
اس حدیث کی سند صحیح ہے،
اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
حوالہ:
مسند احمد
روایت ہے:
ابو جُریّ جابر بن سُلیمؓ کہتے ہیں:
میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کی پیروی کرتے تھے،
وہ جو بات کہتے، لوگ اسی کو اختیار کر لیتے۔
میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟
لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔
میں نے کہا:
علیک السلام یا رسول اللہ (دو مرتبہ)
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یوں نہ کہو ‘علیک السلام’، کیونکہ یہ مردوں کی سلامتی ہے،
بلکہ یوں کہو: ‘السلام علیک’.”
پھر میں نے کہا:
آپ رسول اللہ ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
“میں رسول اللہ ہوں،
وہ کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے
اور تم مجھے پکارو
تو اللہ اسے تم سے دور کر دیتا ہے۔
اور اگر تمہیں قحط سالی پیش آئے
اور تم مجھے پکارو
تو اللہ اس میں برکت پیدا کر دیتا ہے۔
اور اگر تم کسی ویران یا سنسان زمین میں ہو
اور تمہاری سواری گم ہو جائے
اور تم مجھے پکارو
تو اللہ اسے تمہارے پاس لوٹا دیتا ہے …”
نبی ﷺ کی جبہ سے شفا حاصل کی جاتی تھی
اسماء بنت ابی بکرؓ بیان کرتی ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی ایک جبہ نکالی اور کہا:
یہ رسول اللہ ﷺ کی جبہ ہے،
ہم اسے مریضوں کے لیے دھوتے تھے
اور اس کے ذریعے شفا حاصل کی جاتی تھی۔
حوالہ:
صحیح مسلم
مسند احمد
امام نوویؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ
نیک لوگوں کے آثار اور ان کے کپڑوں سے تبرک حاصل کرنا مستحب ہے۔
