توسل و استغاثہ بدعت نہیں: تاج الدین فاکہانی اور امام ابن الصلاح کی تصریحات
ابن الصلاح فرماتے ہیں:
یہ (کرامات اور آثار) صرف اُن چیزوں تک محدود نہیں
جو نبی ﷺ کے زمانے میں ظاہر ہوئیں،
بلکہ آپ ﷺ کے بعد بھی زمانوں کے تسلسل کے ساتھ
یہ امور برابر ظاہر ہوتے رہے ہیں۔
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ
آپ ﷺ کی امت کے اولیاء کی کرامات،
اور لوگوں کی حاجات و مشکلات میں
نبی ﷺ کے ذریعے توسل کے بعد
ان کی دعاؤں کا قبول ہونا،
یہ سب نبی ﷺ کے لیے روشن اور قطعی دلائل ہیں،
اور آپ ﷺ کے واضح معجزات ہیں۔
ان کو نہ گنا جا سکتا ہے
اور نہ کسی حد میں محدود کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ:
فتاویٰ ابن الصلاح
جلد 1، صفحہ 210 دار المعرفۃ
تاج الدین ابو حفص الفاکہانی
جو بکریہ (اہلِ سنت) کے بڑے علماء میں سے ہیں،
اپنی کتاب کے ایک قدیم مخطوط نسخے میں لکھتے ہیں:
اور میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں
کہ وہ اس عمل کو اپنے کریم چہرے کے لیے خالص بنا دے
اور مجھے جنتِ نعیم تک پہنچا دے
محمد ﷺ اور ان کی آلِ پاک کے وسیلے سے۔ آمین۔
اور میں نے اس کتاب کا نام رکھا:
المنهج المبين في شرح الأربعين

