
سمہودی لکھتے ہیں:
جان لو کہ نبی ﷺ کے ذریعے فریاد کرنا، شفاعت طلب کرنا،
آپ ﷺ کے جاہ، مرتبہ اور برکت کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا
یہ انبیاء و مرسلین کا طریقہ ہے
اور سلفِ صالحین کا معمول ہے۔
یہ عمل ہر حال میں ثابت ہے:
آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے
آپ ﷺ کی پیدائش کے بعد
آپ ﷺ کی دنیوی زندگی میں
برزخ کے زمانے میں
اور قیامت کے مراحل میں بھی۔
اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی یہی حکم ہے۔
لوگوں نے آپ ﷺ سے آپ کی قبر کے پاس بھی یہی سوال کیا۔
بلکہ سلف نے اس شخص پر نکیر کی
جو قبر کے پاس جا کر براہِ راست اللہ سے دعا کرنے کا قصد کرے،
تو پھر خود نبی ﷺ سے دعا طلب کرنے کا کیا مقام ہوگا؟
شوکانی لکھتے ہیں:
اور دوسرا قول یہ ہے
کہ نبی ﷺ کے ذریعے توسل کیا جاتا ہے۔
نبی ﷺ کے ذریعے توسل:
آپ ﷺ کی زندگی میں بھی
اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی
آپ ﷺ کی موجودگی میں بھی
اور آپ ﷺ کی غیر موجودگی میں بھی ثابت ہے۔
اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ:
نبی ﷺ کی حیات میں آپ ﷺ کے ذریعے توسل ثابت ہے
اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد غیر کے ذریعے توسل بھی ثابت ہے
یہ سب صحابہ کے اجماعی سکوتی اتفاق سے ثابت ہے،
کیونکہ کسی ایک صحابی نے بھی حضرت عمرؓ کے حضرت عباسؓ کے ذریعے توسل پر انکار نہیں کیا۔