سورۂ النساء کی آیت 64 اور توسل کا جواز
کیا یہ آیت صرف نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ تک محدود ہے
یا وفات کے بعد کے زمانے کو بھی شامل ہے؟
عبد الله بن صديق الغماري
سورۂ النساء کی آیت 64 کے بارے میں کہتے ہیں:
یہ آیت حالتِ حیات اور حالتِ وفات دونوں کو شامل ہے۔
اور ان دونوں میں سے کسی ایک حالت کے ساتھ آیت کو خاص کرنا دلیل کا محتاج ہے،
جبکہ یہاں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ:
آیت کے عموم کا ثبوت کہاں سے ملتا ہے؟
تو ہم کہتے ہیں:
اس کا ثبوت اس بات سے ہے کہ فعل [ظلموا] شرط [لو] کے سیاق میں آیا ہے۔
اور علمِ اصولِ فقہ میں یہ قاعدہ مسلم ہے کہ:
جب فعل شرط کے سیاق میں آئے تو وہ عام ہوتا ہے۔
کیونکہ یہاں فعل نکرہ کے معنی میں ہے،
اور اصول یہ ہے کہ:
نکرہ اگر نفی یا شرط کے سیاق میں واقع ہو تو وہ عموم پر دلالت کرتا ہے۔
لہٰذا یہ آیت عام ہے
اور حالتِ حیات اور حالتِ وفات دونوں کو شامل ہے۔
اور ان دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اسے خاص کرنا دلیل چاہتا ہے،
جبکہ یہاں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں۔
پھر اگر یہ کہا جائے کہ:
آیت کے لیے عموم کہاں سے ثابت ہوتا ہے،
تاکہ اسے صرف حیاتِ نبوی کے ساتھ خاص کرنا ایک دعویٰ بن جائے جو دلیل کا محتاج ہو؟
تو جواب یہ ہے:
اس کا عموم اس وجہ سے ہے کہ فعل شرط کے سیاق میں آیا ہے،
اور اصولِ فقہ کا مقررہ قاعدہ یہ ہے کہ:
فعل جب شرط کے سیاق میں آئے تو عام ہوتا ہے،
کیونکہ فعل اپنے اندر ایک نکرہ مصدر کو شامل ہوتا ہے،
اور نکرہ جو نفی یا شرط کے سیاق میں آئے وہ وضعاً عموم پر دلالت کرتا ہے۔
حوالہ:
المحكم المتين على كتاب القول المبين
تالیف: الغماري
صفحہ: 44
