إيّاك نعبد وإيّاك نستعين : کیا یہ آیت توسل کے خلاف ہے؟
ہم نے دیکھا ہے کہ غلط فہم رکھنے والے وہابی توسل اور اللہ کے علاوہ کسی سے استعانت کے رد میں اس آیت کو دلیل بناتے ہیں:
«إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ»
(ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں)
ان کے جواب میں محمود الحسن دیوبندی، جو عمرِیہ (اہلِ سنت) کے بڑے علماء میں سے ہیں، اس آیت کی تفسیر میں صحیح استعانت کا مفہوم یوں واضح کرتے ہیں:
اس آیت (سورۃ الفاتحہ: 4) سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ حقیقی مدد طلب کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی ذاتِ احدیت سے جائز ہے،
البتہ جو شخص اللہ جلّ جلالہ کے کسی مقرب بندے کو صرف ایک وسیلہ سمجھتے ہوئے،
اس سے ظاہری طور پر مدد طلب کرے،
تو اس میں کوئی حرج نہیں،
کیونکہ حقیقت میں یہ مدد اپنے خالق ہی سے طلب کرنا ہے۔
حوالہ:
تفسیر کابلی
جلد 1، صفحہ 3
پھر ان کے کلام میں مذکور قیود (شرائط) اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ استقلال اور عدمِ استقلال میں فرق ملحوظ رکھا جائے۔
یعنی ان کا موقف یہ ہے کہ:
اگر کوئی شخص اللہ کے کسی مقرب بندے سے مدد اس عقیدے کے ساتھ طلب کرے کہ:
یہ مخلوق بذاتِ خود نفع و ضرر کی مالک نہیں
اللہ کے مقابلے میں اس کی کوئی مستقل حیثیت نہیں
بلکہ وہ صرف اللہ کے اذن سے ایک سبب اور وسیلہ ہے
تو ایسی استعانت اور استغاثہ درست ہے
اور وہ عام امور میں بھی اور غیر معمولی (خارقِ عادت) امور میں بھی نفع بخش ہو سکتی ہے۔
