جناب سیدہ سلام اللہ علیھا نعوذبااللہ مولا حسین علیہ السلام سے کراہت رکھتی تھی کیا؟

بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت فاطمہؑ نے فرمایا کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ لڑکا قتل کر دیا جائے گا تو انہیں اس کی کوئی حاجت نہ رہی، لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وصیت (اور امامت) اس کی نسل میں قرار دی گئی ہے تو وہ اس پر راضی ہو گئیں۔ پس انہوں نے اس کے قتل کو ناپسند کیا، اس کے وجود کو اس حالت میں ناپسند نہیں کیا کہ امامت اس کی اولاد میں ہے۔ اور یہ ناپسندیدگی حضرت زہراؑ کی عصمت کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ اس کے ذریعے انہوں نے کوئی گناہ یا معصیت کا ارتکاب نہیں کیا۔
وفي الكافي : 1 / 464 : عن الإمام الصادق عليه السلام قال : نزل على محمد صلى الله عليه وآله فقال له : يا محمد إن الله يبشرك بمولود يولد من فاطمة ، تقتله أمتك من بعدك ، فقال : يا جبرئيل وعلى ربي السلام لا حاجة لي في مولود يولد من فاطمة ، تقتله أمتي من بعدي . فعرج ثم هبط عليه فقال له مثل ذلك ، فقال : يا جبرئيل وعلى ربي السلام لا حاجة لي في مولود تقتله أمتي من بعدي . فعرج جبرئيل عليه السلام إلى السماء ثم هبط فقال : يا محمد إن ربك يقرئك السلام ويبشرك بأنه جاعل في ذريته الإمامة والولاية والوصية ، فقال : قد رضيت .
لانھا علمت انہ سیقتل