Recommended articles
شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
سبل الهدى والرشاد میں توسل عند القبر
February 27, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

کیا شیعہ ابوبکر عمر کو کافر سمجھتے ہیں اور کیا علی علیہ السلام نے ان کی بیعت کی؟؟

February 2, 2026
0
0

 شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ابو بکر اور عمر کافر تھے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ علی—جو کہ معصوم امام ہیں—نے ان دونوں کی خلافت کو تسلیم کیا، ایک کے بعد دوسرے کی بیعت کی، اور ان کے خلاف خروج نہیں کیا۔ شیعہ عقیدے کے مطابق علی نے اس پر رضامندی ظاہر کی۔
اس سے لازم آتا ہے کہ علی معصوم نہیں رہے، کیونکہ انہوں نے کافروں، ناصبیوں اور ظالموں کی بیعت کی اور اس طرح ان کے عمل کی تائید کی۔
یہ بات عصمت کے منافی ہے، اور ظالم کے ظلم میں اس کی مدد ہے، اور ایسا فعل کسی معصوم سے سرزد نہیں ہو سکتا۔
یا پھر علی کا یہ فعل عین حق اور درست تھا، کیونکہ ابو بکر اور عمر دونوں مومن، سچے اور عادل خلفاء تھے۔ اس صورت میں شیعہ اپنے امام کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان دونوں کی تکفیر، سبّ و شتم، لعنت، اور ان کی خلافت سے عدمِ رضامندی کے قائل ہیں۔ یوں ہم ایک حیرت میں پڑ جاتے ہیں: یا تو ہم ابو الحسن (علی) کے راستے پر چلیں، یا ان کے نافرمان شیعوں کے راستے پر؟
کیا علیؑ نے ابو بکر، عمر اور عثمان کی بیعت کی؟!
اوّلًا: ہم نہ اس بات پر راضی ہیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی جواز دیکھتے ہیں جو سوال کرنے والے کی جانب سے ابو بکر اور عمر کو کافر کہنے کی صورت میں صادر ہوا ہے۔ ہم اسے حدود سے تجاوز سمجھتے ہیں، جس پر معذرت کرنا اور اس سے باز آنا ضروری ہے۔
ثانیًا: جو بات علیؑ کی ابو بکر اور عمر سے بیعت کے بارے میں بیان کی جاتی ہے، اس پر شواہد مددگار نہیں ہیں۔ ہم ان میں سے چند کا ذکر کرتے ہی
الف: امیرالمؤمنینؑ کا یہ قول:
“پس میں نے اپنا ہاتھ روک لیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک گروہ اسلام سے پلٹ چکا ہے، اور وہ محمد ﷺ کے دین کو مٹانے کی دعوت دے رہا ہے۔ پس مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں اسلام اور اہلِ اسلام کی مدد نہ کروں تو دین میں ایسا شگاف یا ایسی تباہی دیکھوں گا جس کی مصیبت میرے لیے خلافت کے فوت ہو جانے سے کہیں زیادہ عظیم ہو گی۔”

جواب

یہ عبارت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امیرالمؤمنینؑ ایک مدت تک اپنا ہاتھ روکے رہے اور بیعت نہیں کی۔
لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ اسلام کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے تو انہوں نے دینِ محمد ﷺ کی نصرت کے لیے قدم اٹھایا، مگر یہ ذکر نہیں کیا کہ انہوں نے یہ نصرت ابو بکر اور عمر کی بیعت کے ذریعے کی ہو۔ ممکن ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کی مدد کا ہاتھ بڑھایا ہو جنہوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، تاکہ دین کو مٹائے جانے سے روکا جا سکے۔
ب: یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ علیؑ نے ابو بکر کی بیعت کی، لیکن پھر خود ہی اس بیعت کے وقت کے بارے میں اختلاف کیا گیا:
کہا گیا: چھ ماہ بعد (۱)
اور کہا گیا: رسولِ اکرم ﷺ کی وفات کے چند ہی دن بعد۔
اور کہا گیا: صدیقۂ طاہرہؑ کی وفات کے بعد، اور خود ان کی وفات کے وقت میں بھی اختلاف ہے۔
اور کہا گیا: رسول اللہ ﷺ کی وفات کے چالیس دن بعد، یا بہتر دن بعد، یا پچھتر دن بعد، یا تین ماہ بعد، یا آٹھ ماہ بعد — اور اس کے علاوہ بھی متعدد اقوال بیان کیے گئے ہیں۔
پھر انہوں نے بیعت کے سبب میں بھی اختلاف کیا، اور یہ دعویٰ کیا کہ علیؑ کو حضرت فاطمہؑ کی زندگی میں لوگوں کی حمایت حاصل تھی، لیکن جب وہ وفات پا گئیں تو لوگوں کا رجحان ان سے پھر گیا، چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد بیعت کر لی۔
زہری سے پوچھا گیا: کیا علیؑ نے چھ ماہ تک بیعت نہیں کی؟
اس نے کہا: اللہ کی قسم! نہ علیؑ نے بیعت کی اور نہ ہی بنی ہاشم میں سے کسی نے، یہاں تک کہ علیؑ نے بیعت کی (۱)۔
اور ہم کہتے ہیں:
الف: علیؑ کی بیعت اس زمانے میں تمام لوگوں کے نزدیک غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔
بڑے اور چھوٹے سب اس پر نظر رکھے ہوئے تھے، لہٰذا اس حد تک اس کا مخفی رہ جانا عقل کے خلاف ہے،
خصوصاً جبکہ وہی اصل صاحبِ حق تھے، اور لوگ ان کے ہر عمل کو دیکھ رہے تھے اور ان سے کسی اقدام کے منتظر تھے۔
ب: ان لوگوں نے علیؑ کی حرمت کو پامال کیا، انہیں قتل کی دھمکیاں دیں، ان کی زوجہ کو مارا، ان کے فرزند کو قتل کیا، اور ان کے گھر کو ان کی بیوی اور بچوں سمیت جلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے ان کی کسی حرمت کا لحاظ نہیں رکھا۔
بلکہ سیدہ زہراءؑ کو اس تمام اذیت میں سب سے زیادہ حصہ ملا۔

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد
زواج حضرت جناب سیدہ ام کلثوم سلام اللہ علیھا
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)7
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات4

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions