امیرالمومنین ع نے ” ابو جہل کہ بیٹی سے نکاح کا ارادہ کیا اور اس موقع پر رسول اللہ نے فرمایا : فاطمہ میرا جزء ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی “
ایک صاحب نے دعوی کیا :
امیرالمومنین ع نے ” ابو جہل کہ بیٹی سے نکاح کا ارادہ کیا اور اس موقع پر رسول اللہ [
صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ] نے فرمایا : فاطمہ میرا جزء ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی “
اس دعوی کے اثبات میں یہ صاحب جو
انہوں نے ایک خائن کا اسٹیکر لگایا جو آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں :
جبکہ روایت کا متن سو فیصد ان کی بات کو رد کر رہا ہے ؛
آئیے روایت کو سمجھتے ہیں :
امام سے ” علقمہ ” نے شکایت کی کہ :
يَا اِبْنَ رَسُولِ اَللَّهِ إِنَّ اَلنَّاسَ يَنْسُبُونَنَا إِلَی عَظَائِمِ اَلْأُمُورِ
فرزندِ رسول ! لوگ [ سنّتِ معاویہ کے پیروکار ] ہم پر بڑی بڑی تہمتیں باندھتے ہیں
وَ قَدْ ضَاقَتْ بِذَلِكَ صُدُورُنَا
اور ان کے ان اتہماتِ ناروا کی وجہ سے ہمارے دل تنگ ہو چکے ہیں۔
امام علیہ السلام نے جوابا ارشاد فرمایا [ نقل بالمعنی ]
کہ تم تو ہمارے شیعہ ہو لوگوں نے تو انبیاء اور اوصیاء تک کو نہ بخشا اور ان کی طرف بڑے بڑے قبیح امور کی نسبت دی
پھر امام جعفر صادق علیہ السلام نے وہ تہمتیں گنوانا شروع کیں
پہلے انبیاء پر لگائی گئی تہمتوں کو ذکر کیا اور پھر امیر المومنین پر جو تہمت باندھی گئی اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
أَ لَمْ يَنْسُبُوا سَيِّدَ اَلْأَوْصِيَاءِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ إِلَی أَنَّهُ كَانَ يَطْلُبُ اَلدُّنْيَا وَ اَلْمُلْكَ وَ أَنَّهُ كَانَ يُؤْثِرُ اَلْفِتْنَةَ عَلَی اَلسُّكُونِ وَ أَنَّهُ يَسْفِكُ دِمَاءَ اَلْمُسْلِمِينَ بِغَيْرِ حِلِّهَا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ : کیا لوگو نے سید الاوصیاء پر یہ جھوٹ نہیں باندھا کہ دنیا اور حکومت کے طکبگار تھے اور وہ فتنہ
کو بھڑکا رہے تھے اور مسلمانوں کا ناجائز خون بہایا ۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا :
أَ لَمْ يَنْسُبُوهُ إِلَی أَنَّهُ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ اِبْنَةَ أَبِي جَهْلٍ عَلَی فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلاَمُ وَ أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ شَكَاهُ عَلَی اَلْمِنْبَرِ إِلَی اَلْمُسْلِمِينَ فَقَالَ إِنَّ عَلِيّاً عَلَيْهِ السَّلاَمُ يُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَ اِبْنَةَ عَدُوِّ اَللَّهِ عَلَی اِبْنَةِ نَبِيِّ اَللَّهِ أَلاَ إِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِي وَ مَنْ سَرَّهَا فَقَدْ سَرَّنِي وَ مَنْ غَاظَهَا فَقَدْ غَاظَنِي
کیا لوگو نے سید الاوصیاء کی طرف یہ جھوٹی نسبت نہیں دی کہ وہ ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کا ارادہ رکھتے تھے اور رسول اللہ نے برملا منبر پر جاکر علی ع کی شکایت کی کہ:
علی ع چاہتے ہیں کہ اللہ کے دشمن کی بیٹی سے شادی کریں نبی اللہ کی بیٹی [ کی مرضی کے خلاف ]
فاطمہ س میرا حصہ ہے جس نے فاطمہ س کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی جس نے فاطمہ س کو خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا۔۔
تبصرہ : یعنی امام فرما رہے ہیں کہ یہ نرا جھوٹ اور بہتان ہےجو امیرالمؤمنین ع پر باندھا گیا
بھلا جب امیرالمومنین ع لوگوں کی تہمتوں سے محفوظ نہ رہ سکے تو ہمارے شیعہ کیسے لوگو ں سے محفوظ رہیں گے ؟
اب اس اسکین پیج بنانے والے کی خیانت دیکھیں ” تہمت وغیرہ ” کے الفاظ کو چھوڑ کر صرف ان الفاظ کا ترجمہ کیا کہ ” امیرالمومنین نے ابو جہل کی بیٹی سے شادی کا ارادہ کیا “
یعنی کس قدر خائن لوگ ہیں
——————————————————
ہم اسکا جواب لکھنا چاہ رہے تو دیکھا ایک سسٹر کی وال پر جواب موجود ہے تو سوچا کیوں نہ ہم انکو ہی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
یہ لوگ ہمیشہ ایسے سکین لگاتے ہیں جنکی عربی عبارت کو مدھم کیا جائے تاکہ جنکو تھوڑی بہت بھی عربی آتی ہے انکو سمجھ نہ آسکے۔
ہم احتیاط کچھ اضافی سکین لگا رہے تاکہ مزید واضح ہوجائے کہ عمری لوگ خیانت کے بغیر ہم سے مباحثہ نہیں کر سکتے ۔ میں اردو سکین بھی ساتھ میں لگا رہا ہوں۔





