سلفیوں کے مطابق اللہ کے لئے کمر بند والی جگہ ثابت ہے
سلفی عالم علوئ بن عبدالقادر السقاف نے اللہ کی صفات کے بارے میں یوں لکھا :
*الْحُجْزَةُ وَالْحَقْوُ*
صفتان ذاتيان خبريَّتان ثابتتان بالسنة الصحيحة.
*الدليل:
1- حديث ابن عباس رضي الله عنهما: ((إنَّ الرحم شَجْنَةٌ آخذةٌ بحُجزة الرحمن؛ يصل من وصلها، ويقطع من قطعها)) . رواه الإمام أحمد (2956-شاكر) ، وابن أبي عاصم في ((السنة)) (538) ؛ بإسناد حسن. وانظر: ((السلسلة الصحيحة)) (1602) .
2- حديث أبي هريرة رضي الله عنه: ((خلق الله الخلق، فلما فرغ منه؛ قامت الرحم، فأخذت بحقو الرحمن، فقال: مه! قالت: هذا مقام العائذ بك من القطيعة … )) .رواه البخاري (4830) وغيره.
والحقو والحُجْزة: موضع عقد الإزار وشده.
قال الحافظ أبو موسى المديني في ((المجموع المغيث)) (1/405) :
((وفي الحديث: ((إنَّ الرحم أخذت بحجزة الرحمن)) – ثم ذكر تفسيرين للحديث- ثم قال: وإجراؤه على ظاهره أولى)) اهـ.
*کمر یا ناڈا بھاندنے والی جگ*
یہ دو ذاتی خبری صفات ہیں جو صحیح سنت سے ثابت ہیں۔
*دلیل:
1- حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“بیشک رحم ایک شاخ ہے جو رحمٰن کی کمر کو تھامے ہوئے ہے؛ جو اس سے جڑے گا، اللہ اس سے جڑے گا، اور جو اسے کاٹے گا، اللہ اس سے کاٹ دے گا۔”
اسے امام احمد (حدیث نمبر 2956، تحقیق شاکر) اور ابن ابی عاصم نے السنة (538) میں روایت کیا ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ دیکھیں: السلسلة الصحيحة (1602)۔
2- حضرت ابو ہریرہ کی روایت:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ نے مخلوق کو پیدا فرمایا، پھر جب اس سے فارغ ہوا تو رحم کھڑی ہوئی اور رحمٰن کے حقو کو تھام لیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: رُک جا! رحم نے کہا: میں تیرے ساتھ قطع رحمی سے پناہ چاہنے والے کا مقام ہوں۔۔۔”
اسے بخاری (حدیث نمبر 4830) اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے۔
الحقو اور الحُجْزة: اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں ازار (ناڈا) باندھا اور کسّا جاتا ہے۔
حافظ ابو موسیٰ المدینی نے المجموع المغيث (1/405) میں فرمایا: ….اور حدیث میں آیا ہے: “بیشک رحم نے رحمٰن کی کمر کو پکڑا” — پھر (عالم نے) اس حدیث کی دو تفسیریں ذکر کیں، پھر کہا: “اسے اس کے ظاہر پر محمول کرنا ہی زیادہ مناسب ہے۔”
⛔️صفات عزوجل ورد فی الکتاب و السنہ – علوی بن عبدالقادر السقاف // صفحہ ۱۳۸ – ۱۳۹ // طبع دار ابن عفان ریاض سعودیہ