معاویہ ابن ابی سفیان کا امام علی ابن ابی طالب (علیھم السلام) کو گالی دینا اور اہل سنت علماء کی خیانتیں (تحریفات)
امام ابن ماجہ القزوینی (المتوفی ۲۷۵ ہجری) نے اس طرح روایت نقل کی ہے :
حدثنا علي بن محمد. ثنا أبو معاوية. ثنا موسى بن مسلم، عن ابن سابط، وهو عبد الرحمن، عن سعد بن أبي وقاص، قال: قدم معاوية في بعض حجاته، فدخل عليه سعد، فذكروا عليا. فنال منه. فغضب سعد، وقال: تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ” من كنت مولاه فعلى مولاه “. وسمعته يقول أنت منى بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي “. وسمعته يقول ” لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله “؟
سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ معاویہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی ؓ کا تذکرہ کیا تو معاویہ نے علی کو گالی دی، اس پر سعد ناراض ہوگئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ ﷺ سے میں نے یہ بھی سنا: تم (یعنی علی) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔
⛔️سنن ابن ماجہ – ابن ماجہ القزوینی // جلد ۱ // مقدمہ // رقم ۱۲۱ // طبع دار الحدیث قاہرہ مصر
اسی روایت کو ابن کثیر دمشقی (المتوفی ۷۷۴ ہجری) نے حسن قرار دیا لیکن اس روایت میں الفاظ “ فنال منه ، فغصب سعداً “ کے الفاظ کو روایت سے حذف کیا تاکہ معاویہ کا امام علی (علیھم السلام) کو گالی دینے کو مشکوک بنایا جائے
البدایہ و النہایہ – ابن کثیر // جلد ۱ // صفحہ ۱۳۹۶ // طبع
بیت الافکاریہ اردن