کیا شیعہ کُتب میں امام العصر مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کا جسم بنی اسرائیل میں سے ہو گا
تحقیق سید ساجد بخاری نقوی
جب ان نو/ا/صب کو ہماری کتابوں سے اپنے باطل کے حق میں کچھ نہیں ملتا تو یہ امانت داری چھوڑ دیتے ہیں اور کھلی خیانت پر اتر آتے ہیں
نصوص کو توڑتے ہیں سیاق چھپاتے ہیں الفاظ بدلتے ہیں اور پھر اسی تحریف کو دلیل بنا کر پیش کرتے ہیں
یہ کوئی علمی اختلاف نہیں یہ سیدھی بددیانتی ہے
اور جو بات خیانت پر کھڑی ہو وہ خود اپنے باطل ہونے کا اعلان ہوتی ہے
📛 کیا شیعہ کُتب میں امام العصر مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کا بنی اسرائیل میں سے ہونے کا ذکر کیا گیا؟ معاذالله
اس روایت پر معترضین کے اشکال کا رد
ایک روایت جو کہ شیعہ کتب سے پیش کی جاتی ہے جس پر مخالفین کا اعتراض ہے کہ نعوذ باللہ امام زمانہ عجل اللہ فرجھ الشریف کا جسم اسرائیلی ہوگا۔
دراصل ہمیشہ سے ہی ہمارے مخالفین ہماری کتب میں وارد ان عمیق گہرائیوں سے جاہل رہے ہیں جو کہ آئمہ اھلبیت ؑ نے بیان فرمائی ہیں۔ اس روایت کو جناب حذیفہ بن الیمان نے جناب رسول خدا ﷺ سے بیان کیا ہے۔ پہلے ہم اس روایت کو مکمل پیش کرتے ہیں اس کے بعد مختصر جواب دیا جائے گا۔
⬅️ روایت :
و باسناده أيضا عن حذيفة بن اليمان عن النبي صلى الله عليه وآله أنه قال: المهدي من ولدي وجهه كالقمر الدري اللون لون عربي الجسم جسم إسرائيلي يملأ الأرض عدلا كما ملئت جورا يرضى بخلافته أهل السماوات وأهل الأرض والطير في الجو يملك عشرين سنة.
ترجمہ :
جناب حذیفہ بن الیمان جناب رسول خدا ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مھدی میری نسل سے ہو گا۔ اُس کا چہرہ چاند کی طرح روش، رنگ عربی، جسم اسرائیلی ہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے ظلم و جور سے بھری ہوگی ان کی حکومت سے زمین و عرش والے پرندے بھی خوش ہوں گے اور وہ بیس سال حکومت کر گا۔
📚 بحار الأنوار – العلامة المجلسي – ج ٥١ – الصفحة ۸۰
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اس روایت کو ابن جریر طبری شیعی نے سند کے ساتھ دلائل الائمة میں بھی نقل کیا ہے۔
◀️ اس روایت کی سند ملاحظہ ہو
حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد بن محمد بن أحمد الطبري، قال: حدثنا أبو الحسن محمد بن المظفر الحافظ، قال: حدثنا عبد الرحمن بن إسماعيل، قال: حدثنا محمد بن إبراهيم الصوري، قال: حدثنا رواد (1) قال: حدثنا سفيان، عن منصور، عن ربعي بن حراش عن حذيفة بن اليمان قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله): المهدي من ولدي، وجهه كالكوكب الدري، واللون لون عربي، والجسم جسم إسرائيلي، يملأ الأرض عدلا كما ملئت جورا، يرضى بخلافته أهل السماء والطير في الجو، ويملك عشرين سنة.
📚 دلائل الامامة – محمد بن جرير الطبري ( الشيعي) – الصفحة ٤٤١
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
♦️ اس سند میں اھلسنت کے محدثین بھی شامل ہیں۔
یہ روایت دلائل الامامة ص 441 سے پیش کی گئی ہے۔
ان کتب کا ذکر جن میں یہ روایت نقل ہوئی ہے :
1) بھجة النظر فی اثبات الوصیة ولامامة الاثنی عشر
2) الفصول المھمة فی معرفة الائمة ، ابن صباغ ، ج 2 ، ص 1108
3) کشف الغمہ ، اربلی ، ج 2 ، ص 980
4) احقاق الحق وازھاق الباطل ، نور اللہ شوستری ، ج 29 ، ص 501
5) البیان فی اخبار صاحب الزمان ، گنجی شافعی ، ص 501
6) معجم الاحادیث الامام المھدی ، معارف اسلامی ، ج 1 ، ص 121
7) عقد الوررفی اخبار المنتظر ، مقدسی شافعی ، ص 40
8) أئمتنا عباد الرحمن ، ابو معاش ، ج 2 ، ص 557
9) المھدی فی القرآن والسنة ، ابو معاش ، ج 2 ، ص 309
10) دلائل الامامة ، محمد بن جریر طبری ، ص 441
11) بحار الانوار ، ج 51 ، ص 91
12) لوامع الانوار البھید و سواطع الاسرار الاثریہ ، محمد بن احمد بن سالم السفارینی ، ج 2 ، ص 74
ان کتب میں اس روایت کو نقل کیا گیا ہے ۔
✴️ اسرائیلی جسم سے کیا مراد ہے ؟
جناب رسول خدا ﷺ کا کہنا کہ اسرائیلی جسم ہوگا تو اس سے مراد یہ ہے کہ اسرائیلی جسم چونکہ بڑے اور مضبوط ہوتے تھے اس لیے امام زمانہ چونکہ امور سلطنت کو سرانجام دیں گے تو اس لیے وہ ایک مضبوط جسم کے مالک ہوں گے جو دوسروں سے بڑا ہوگا۔
اس بات کا اشارہ امام رضا ع کی ایک حدیث سے بھی ملتا ہے۔ امام زمانہ عجل اللہ فرجھ الشریف کا جسم جناب موسی بن عمران ؑ کے جیسا ہوگا۔
◀️ جیسا کہ امام رضا بادشاہ ؑ فرماتے ہیں
بأبي وأمي شبيهي وسمي جدي وشبيه موسى بن عمران.
ترجمہ :
میرے والد اور میری والدہ کے ساتھ میرے جوان ، میرے دادا ، میرے دادا ، اور موسی بن عمران کی مماثلت سے ہوں گے
📚 عيون أخبار الرضا (ع) – الشيخ الصدوق – ج 2 – الصفحة 177
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
اس لیے جناب امام زمانہ عجل اللہ فرجھ الشریف کے جسم کو اسرائیلی جسم سے مشابھت دی گئی ہے کیونکہ بنی اسرائیل پر آنے والے انبیاء اپنی جسمانی طاقت اور مضبوط جسم کی وجہ سے الگ پہچان رکھتے تھے۔
🔸اگر اسرائیلی ہونا یہودی کی علامت ہے تو پھر قرآن تو پورا یہودی ہوا کیونکہ اس کے اندر پوری ایک سورہ کا نام سورہ بنی اسرائیل ہے۔ یہ معترضین کی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔
◀️ قاضی نعمان المغربی نے شرح الاخبار میں اس روایت کی شرح کی ہے۔
ملاحظہ ہو :
ومن حديث سفيان الثوري، يرفعه إلى رسول الله صلى الله عليه وآله، أنه “قال: المهدي رجل من ولدي، أرى وجهه كالكوكب الدري، اللون لون عربي، والجسم جسم إسرائيلي”
فكذلك كان المهدي صلى الله عليه وآله، وسيما من أجمل الرجال وجها كأن وجهه كوكب دري كما قال رسول الله صلى الله عليه وآله في صفته. ضبط الغريب والكوكب الدري: هو المضئ من الكواكب، وجمعها دراري. وكذلك كان وجه المهدي مشرقا مضيئا كأنما هو نور يلوح منه لمن نظر إليه. قوله: اللون لون عربي. وكذلك كان لونه كلون رسول الله صلى الله عليه وآله سيد العرب، أبلج الوجه، يشوبه حمرة، وهو الذي يقول له أهل المعرفة بالحلي من العرب: الرفق والسمرة، ولا يقولون: أبيض في ألوان الناس، وهذا أفضل ألوان الناس عند العرب، وهو أكثر ألوان أشرافهم. وقوله: الجسم جسم إسرائيلي وأجسام بني إسرائيل أجسام جسيمة، وهم في الأكثر والأغلب أجسم من العرب. وكذلك كان المهدي وسيما جسيما بساطا لا يكاد أحد يماشيه إلا
ترجمہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ “مہدی میری اولاد میں سے ایک شخص ہوں گے، میں ان کا چہرہ درخشاں ستارے کی طرح دیکھ رہا ہوں۔ ان کا رنگ عربی ہوگا اور جسم اسرائیلی ہوگا”
پس اسی طرح مہدیؑ کا چہرہ انتہائی خوبصورت تھا، سب سے حسین چہروں میں سے گویا کہ ان کا چہرہ ایک چمکدار ستارہ تھا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان کی صفت بیان کی تھی۔
کوکب دُرّی: وہ روشن ستارہ ہوتا ہے جو دوسرے ستاروں سے زیادہ چمکدار ہوتا ہے اور اس کا جمع “دراری” ہے۔ پس مہدیؑ کا چہرہ بھی چمکدار اور روشن تھا گویا کہ وہ نور ہے جو دیکھنے والے کے لیے چمک رہا ہو۔
“اللون لون عربي” (ان کا رنگ عربی ہوگا) :
اسی طرح ان کا رنگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رنگ کی مانند تھا جو کہ تمام عرب کے سردار تھے چہرہ چمکدار جس میں سرخی کی آمیزش تھی۔ اہلِ عرب جو حسن و جمال کے ماہر ہوتے ہیں، وہ اس رنگ کو “الرفق والسمرة” (یعنی گندم گوں رنگت میں لطافت) کہتے ہیں نہ کہ عام طور پر “سفید” (ابیض)۔ یہ رنگ عربوں کے نزدیک سب سے بہترین اور ان کے اشراف میں سب سے زیادہ پایا جانے والا رنگ تھا۔
“والجسم جسم إسرائيلي” (ان کا جسم اسرائیلیوں جیسا ہوگا) :
بنی اسرائیل کے جسم عام طور پر زیادہ قوی اور جسیم ہوتے تھے، اور وہ اکثر عربوں سے زیادہ جسیم ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح مہدیؑ کا جسم بھی قوی، موزوں اور جسیم تھا، اور وہ اتنے بلند قامت اور قوی ہیکل تھے کہ کوئی شخص مشکل سے ہی ان کے ساتھ ہم قدم چل سکتا تھا۔
📚 شرح الأخبار – القاضي النعمان المغربي – ج ٣ – الصفحة ٣٧٨
