کیا امام مہدی علیہ السلام اپنے قتل کے ڈر کی وجہ سے چھپے ہوئے ہیں؟

یہ عجیب تماشہ ہے کہ وہ لوگ امام مہدی کے پردہ پر “بزدلی” کا طعنہ دے رہے ہیں جن کے اپنے معتبر مصادر چیخ چیخ کر لکھتے ہیں کہ ان کے بڑے بڑے خلفاء میدان جنگ میں دشمن کے سامنے کھڑے نہیں رہ سکے اور جان بچا کر دوڑ لگاتے رہے
شیخ طوسی کا جملہ ایک عالم کا قول ہے، حدیث نہیں۔ اگر اقوالِ علما کو لےکر بات کرنی ہے تو پھر تمہاری اپنی کتابیں سب سے پہلے تمہیں ہی دفن کر دیں گی۔ ابن تیمیہ سے لے کر ابن حجر تک تمہارے مفسرین اور محدثین کے ہزاروں اقوال ایسے ہیں جنہیں تم برداشت بھی نہیں کر سکتے۔
اب قرآن کھولو اللہ اپنی حجتوں کو قتل سے بچانے کے لئے خود پردہ میں رکھتا ہے
سنت الہی کا مذاق بنا کر اپنے کفر پر خود ہی مہر لگا دو۔
موسیٰ علیہ السلام قتل کے خطرے سے مدین چلے گئے۔ کئی سال غیبت میں رہےـ
فَخَرَجَ مِنۡہَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ ۫ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیۡ مِنَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ﴿٪۲۱﴾۲۱۔ چنانچہ موسیٰ ڈرتے ہوئے خطرہ بھانپتے ہوئے وہاں سے نکلے، کہنے لگے: اے میرے رب! مجھے قوم ظالمین سے بچا۔
بَلۡ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیۡہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا﴿۱۵۸﴾۱۵۸۔ بلکہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھایا اور بے شک اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام کو قتل سے بچانے کیلئے اللہ نے اٹھا لیا۔اور وہ بھی غیبت میں ہے
وَ لَبِثُوۡا فِیۡ کَہۡفِہِمۡ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیۡنَ وَ ازۡدَادُوۡا تِسۡعًا﴿۲۵﴾۲۵۔ اور وہ اپنے غار میں تین سو سال تک رہے اور نو کا اضافہ کیا۔
اصحاب کہف تین سو سال غار میں رہے تاکہ ظلم اور قتل سے محفوظ رہیں۔
اگر قتل کے خطرے سے پردہ کرنا بزدلی ہے تو قرآن کی یہ تمام آیات پہلے تمہارے منہ پر پڑتی ہیں، اس کے بعد کسی اور پر۔
آیت غار میں لکھا ہے “جب وہ دونوں غار میں تھے” (التوبہ 40)۔ غار میں کیوں تھے؟ اس لئے کہ قتل کی سازش ہوئی تھی اور جان کا خطرہ تھا، لہٰذا پناہ لی گئی۔
شیخ طوسیؒ یہ نہیں کہتے کہ امام مہدیؑ (نعوذباللہ) ڈر کر چھپ گئے، بلکہ وہ ایک اصولی نکتہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت امام کی جان کو ایسا حقیقی خطرہ لاحق ہو جس سے الٰہی منصوبہ منقطع ہو جائے اور امت اپنے آخری امام کی قیادت سے محروم ہو جائے، اس وقت ”غیبت“ اللہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے، تاکہ امام کی جان محفوظ رہے اور وہ وقت پورا ہو جس میں ان کا ظہور ہونا ہے۔ یعنی خوف امامؑ کا نہیںبلکہ امت کی نااہلی کا ہے۔ اور اگر کوئی دوسری وجہ ہوتی تو امام کا پردے میں رہنا جائز نہ تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ غیبت کسی ذاتی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم اور امت کے امتحان کی وجہ سے ہے۔ شیخ طوسیؒ صاف کہتے ہیں کہ اگر لوگ امامؑ کی حمایت، اطاعت اور مدد کے لیے تیار ہوتے تو غیبت نہ ہوتی، کیونکہ امام معصوم کی شان یہ نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری چھوڑ دے بلکہ یہ کہ امت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ پس امام کی غیبت، بزدلی نہیں بلکہ اللہ کی سنت ہے، بالکل ویسے ہی جیسے اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو بچایا، حضرت عیسیٰؑ کو پردے میں لے گیا، اور رسول اللہ ﷺ کو غارِ ثور میں محفوظ کیا۔
یہ بڑی حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ امام مہدیؑ کی غیبت پر ڈر اور چھپنے کا طعنہ وہ لوگ دے رہے ہیں جن کی اپنی معتبر کتابیں اُن کے ائمہ اور خلفاء کے میدانِ جنگ سے بھاگنے کے واقعات سے بھری پڑی ہیں۔ جن حضرات کے اکابر غزوۂ اُحد میں رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر پیٹھ پھیر گئے، غزوۂ حنین میں کثرتِ لشکر کے باوجود بھاگ کھڑے ہوئے، اور خیبر میں پرچم لے کر دشمن کے سامنے ٹھہر نہ سکے وہ آج غیبتِ امام کو بزدلی قرار دینے کی جسارت کرتے ہیں؟
قرآن خود اُن ہی حرکتوں کی مذمت کر رہا ہے جو اُن کے اکابر نے کیں، اور جنہیں اُن ہی کی معتبر کتب مستدرک حاکم، طبری، ابن ہشام اور کتبِ مغازی تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ تو اصل سوال یہ ہے کہ جن کے اپنے اکابر کے کردار کا دفاع قرآن بھی نہیں کر رہا، وہ امام مہدیؑ جیسی معصوم و منصوص ہستی پر اعتراض کیسے کر سکتے ہیں؟
تو پھر امام مہدیؑ جیسے معصوم امام پر اعتراض کرنے کی اہلیت کہاں سے لے آئے؟




