کیا مولا علی علیہ السلام ابو بکر کے پیچھے نماز پڑھی اس نیت کے ساتھ پیچھے اس امام کے؟؟؟؟؟؟؟؟؟
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال ہیں
مگر حقیقت یہ نہیں ہے
ہم اس. مولوی صاحب کو چیلنج کرکے کہتے ایک معتبر روایت سے ثابت کردے اسی نیت سے نماز پڑھی
ان کے پاس رو دھو کر وہی ایک روایت ہیں جس میں لکھا ہیں خلفه
اس سے یہ نیت ثابت نہیں ہوتی
مولوی بولے گا
فیر تسی ثابت کرو اے نیت نیی سی
فیر اسی اکھنا اے
جے اسی ثابت کردئے شیعہ کتب تو کہ. اے نیت نیی سی فیر اپنے وڈکیا تو توبہ کرسو
اکھو سبحان اللہ
ملاحظہ فرمائیں

صلی لنفسہ اپنی نماز پڑھتے تھے
ان کے بڑوں بڑوں نے خیانت کی
وہ صلی لنفسہ کا جملہ نہیں لکھتے
ویسے بھی اھل سنت کے نزدیک یہ کوئی فضیلت کا معیار نہیں

ابنِ تیمیہ کہتا ہے کہ صحابہ اُن لوگوں کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جن کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ و فاجر ہے
اور عبداللہ بن مسعود و دیگر صحابہ نے ولید بن عقبہ کے پیچھے نماز پڑھی اور اُس نے شراب پی ہوئی تھی اور ایک مرتبہ اُس نے صبح کی نماز میں (نشے کی حالت میں) چار رکعت نماز پڑھائی ، اور عثمان نے شراب پینے کی وجہ سے اُس پر حد جاری کروائی
عبداللہ بن عمر و دیگر صحابہ نماز پڑھتے تھے حجاج بن یوسف کے پیچھے ، صحابہ اور دیگر تابعین نماز پڑھتے تھے مختار ثقفی کے پیچھے ، اس (مختار) پر الزام ہے کہ وہ ملحد تھا جبکہ یہ گمراہی کی طرف بلایا کرتا تھا
حوالہ: [مجموعة الفتاویٰ – جلد ٣ – ص ١٧٦]

♨️ امام شافعی کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کےاصحاب ان حضرات کے پیچھے نماز پڑھتے جن کے افعال کو وہ پسند نہیں کرتے تھے حکمرانوں اور دیگر میں سے۔
حوالہ : [کتاب الام – جلد ۲ – ص ۳۰۲ ]
گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے

ملا علی قاری فرماتے ہیں: ہر نیک اور فاجر بندے کے پیچھے (خلف) نماز پڑھنا جائز ہے.
حوالہ : [ شرح فقہ اکبر – صفحہ ۴١٦ ]
اسی حوالے سے ایک اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ جماعت میں کیا فرادی نماز. ہو. سکتی ہے کیا چاہے شیعہ کتاب سے ہی ثابت کرے
بشرطیکہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہو
پہلے شیعہ منہج کو. سمجھنا ہوگا
بعض اوقات شیعہ ہی اپنے منہج سے واقف نہیں ہوتے ہیں عوام میں سے
ان کیلئے یہ چیز بھیج رہا ہوں
جا، المجالس للمفید ابْنُ قُولَوَیْهِ عَنِ ابْنِ عِیسَی عَنْ هَارُونَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ أَسْبَاطٍ عَنِ ابْنِ عَمِیرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِی جَعْفَرٍ علیه السلام إِذَا حَدَّثْتَنِی بِحَدِیثٍ فَأَسْنِدْهُ لِی فَقَالَ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّی عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَیْهِمْ عَنْ جَبْرَئِیلَ علیه السلام عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ كُلُّ مَا أُحَدِّثُكَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ


اس باب میں ہمارے پاس تقریباً احادیث متواتر ہیں
ہمارے ہاں حدیث کی تعریف
قول معصوم فعل معصوم اور تقریر معصوم
یہ حدیث کہلاتی ہے
جب تفسیر قمی میں آگیا کہ مولا علی علیہ السلام نے اپنی پڑھی تو فعل. معصوم صادق آئے گا
مُنْیَةُ الْمُرِیدِ، رَوَی هِشَامُ بْنُ سَالِمٍ وَ حَمَّادُ بْنُ عُثْمَانَ وَ غَیْرُهُمَا قَالُوا سَمِعْنَا
أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام یَقُولُ حَدِیثِی حَدِیثُ أَبِی وَ حَدِیثُ أَبِی حَدِیثُ جَدِّی وَ حَدِیثُ جَدِّی حَدِیثُ الْحُسَیْنِ وَ حَدِیثُ الْحُسَیْنِ حَدِیثُ الْحَسَنِ وَ حَدِیثُ الْحَسَنِ حَدِیثُ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ حَدِیثُ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ حَدِیثُ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللّٰه علیه و آله وَ حَدِیثُ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللّٰه علیه و آله قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ.
ایک پوری سند ہیں
امیر المومنین جو کہے یعنی ایسے ہی ہیں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ نے کہا
جو کرے وہ بھی نبی کی طرف سے تھا
ہم مولوی صاحب سے مطالبہ کرے گے
اگر امام فاسق یا ناصبی وغیرہ ہو
تو کسی شیعہ کی معتبر کتاب سے ثابت کرے اس کے پیچھے نماز ہو جاتی ہیں
یا اگر فرادی کی نیت کرے تو اس کی نماز باطل ہیں
وہاں سے تو جواب نہیں ملے گا
مخالف کی اقتداء جائز ہی نہیں
یہ کوئی قوی دلیل نہیں تھی
پیچھے نماز پڑھی🤷
نا ان کے ہاں نا ہمارے ہاں
پھر بھی اگر کوئی پوچھے
کہ مولا علی کہا تھے
کہنا جناب عمر نے کہا تھا
وہ ابو بکر کا خائن جھوٹا سمجھ رہیں تھے

وسائل الشیعۃ ج 8 ص 309