عزاداری کے حوالے سے

کسی چیز کے جائز اور ناجائز ہونے کا معیار کیا ہے؟
نہایت ادب احترام سے
اگر صرف یہ کہے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا تو گویا جائز بھی نہیں ہوا
تو پھر سوال صرف عزاداری پر نہیں ہوگا ہر اس چیز پر ہوگا جو آج کا مسلمان کرتا ہے
مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو نہیں کیا
آج کا مسلمان جہاز چلاتا ہے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نہیں انجام دیا
تو معصوم نے ایسا نہیں کیا تو پھر آپ کس روایت کو لیکر چل رہیں ہیں
آج کا مسلمان فون چلاتا ہے
معصوم نے نہیں کیا
تو جب معصوم علیہ السلام نے نہیں کیا تو پھر آپ کس روایت کو لیکر چل رہیں ہیں ؟
لمحہ فکریہ
کچھ سالوں پہلے جب ریڈیو وغیرہ آیا تو اس کے استعمال کو ناجائز قرار دیا گیا اور اس پر فتوے شروع ہو گئے تھے
یہ بھی دلیل یہ سب چیزیں معصوم علیہ السلام نے انجام نہیں دی
تو جب معصوم علیہ السلام نے انجام نہیں دی
تو پھر آپ کس روایت کو لیکر چل رہیں ہیں
حرمت کا معیار دیکھے
ومن الأحاديث: قوله صلى الله عليه وسلم : ما أحل الله في كتابه فهو حلال وما حرم فهو حرام، وما سكت عنه فهو عافية فاقبلوا من الله عافيته فإن الله لم يكن نسيا. رواه البيهقي.
اور احادیث میں سے ایک حدیث یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ نے فرمایا:
جو کچھ اللہ نے اپنی کتاب (قرآن) میں حلال قرار دیا ہے وہ حلال ہے اور جو کچھ حرام قرار دیا ہے وہ حرام ہے اور جس چیز کے بارے میں سکوت فرمایا ہے وہ معاف ہے لہٰذا اللہ کی اس عطا کردہ عافیت کو قبول کرو بے شک اللہ بھولنے والا نہیں ہے۔
اسے بیہقی نے روایت کیا ہے
وقد ساق شيخ الإسلام ابن تيمية أدلة كثيرة على تثبيت هذا الأصل، فقال: “فاعلم أن الأصل في جميع الأعيان الموجودة على اختلاف أصنافها وتباين أوصافها أن تكون حلالا مطلقا للآدميين، وأن تكون طاهرة، لا يحرم عليهم ملابستها ومباشرتها ومماستها، وهذه كلمة جامعة؛ ومقالة عامة؛ وقضية فاضلة عظيمة المنفعة؛ واسعة البركة؛ يفزع إليها حملة الشريعة فيما لا يحصى من الأعمال وحوادث الناس، وقد دل عليها أدلة عشرة
ابن تیمیہ نے اس قانون کے اثبات پر بہت سی ادلۃ کو بیان کیا ہے
تقریباً دس دلیلیں اس پر دی ہیں
مجموع الفتاوى (21 / 535)
والا اگر ایسا نہیں تو ہھر کتنی چیزوں پر. سوال اٹھے گا
شائد سائل کو بھی اس کا علم نا ہو
لطف کی بات ان کو کرنے نا کرنا صرف شیعہ کے خلاف کیوں یاد آتا ہے
دال میں کچھ کالا ہے
لہذا مخالف جب تک دلیل نہیں دے سکتا ہے اس کی حرمت پر
تب تک اس پر. اعتراض نہیں کر سکتا ہے
بنو امیہ سے رسولِ خداﷺ کی نفرت
علامہ سعد الدین تفتازانی نے مختصر المعنی لکھی تو اس میں تعظیم اور اہانت کے حوالے سے مثال دیتے ہے:
مثل ركب على وهرب معاوية
علی سوار ہوئے اور معاویہ بھاگا۔
ناظرین اب جب جلال الدین قزوینی شافعی اس جملہ کی شرح کرنے پر آئے تو فرمانے لگے:
فالتعظيم مأخوذ من لفظ على لأخذه من العلو و الإهانة مأخوذة من لفظ معاوية؛ لأنه مأخوذ من العو و هو صريخ الذئب
پس تعظیم لفظ علی سے اخذ شدہ ہے کہ اس میں علو یعنی بلندی کے معنی پائے جاتے ہے۔ اور اہانت لفظ معاویہ سے اخذ شدہ ہے۔ کیونکہ وہ ”العو” سے لیا گیا ہے اور وہ بھیڑئے اور کتے کا بھونکنا ہے۔
حوالہ: حاشية الدسوقي على مختصر المعاني ص ٢٢٢
ناظرین ہم تو ان ناموں کی جنگ میں نہیں پڑھتے لیکن داد دیتے ہے، کہ متکلم اہلسنت و عالم اشعری علامہ سعد الدین تفتازانی جن کی کتب کو مدارس اہلسنت میں پڑھایا جاتا ہے، انہوں نے تعظیم کے لئے ”رکب علی” (علی سوار ہوئے) کی مثال دی اور اہانت کے لئے ”ھرب معاویہ” (معاویہ بھاگا) کی مثال دی اور اس سے زیادہ خطرناک حاشیہ علامہ جلال الدین قزوینی نے جڑ دیا۔
ہم کہتے ہے کہ ٢٢ رجب کو باپو جان یعنی امیر اہلسنت الیاس عطار قادری اور ان کے رفقاء اس مثال پر بھی تبصرہ ضرور دیں۔
خیر طلب.