کیا فضائلِ معاویہ پر خاموشی بغض ہے؟ اہلِ سنت کے اپنے علماء کا اعتراف

بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اگر کوئی حضرت معاویہ کے فضائل بیان نہ کرے تو وہ لازماً ان سے بغض رکھتا ہے۔ لیکن اہلِ سنت کے اپنے علماء اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
کتاب تشریحات بخاری میں شرح از شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، امام بخاری کے اس طرزِ عمل کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے “باب مناقب معاویہ” قائم کرنے کے بجائے صرف “باب ذکر معاویہ” قائم کیا، کیونکہ ان کے نزدیک حضرت معاویہ کی فضیلت پر کوئی ایسی صحیح حدیث ثابت نہ تھی جسے وہ اپنی شرط کے مطابق بابِ فضائل میں ذکر کرتے۔
اسی وضاحت میں یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ علامہ ابن حجر عسقلانی نے ابن المنیر کا قول ذکر کیا:
> “امام بخاری نے گویا اس باب کے ذریعے یہ اشارہ دیا کہ حضرت معاویہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں۔”
پھر شیخ زکریا کاندھلوی مزید لکھتے ہیں کہ اگرچہ حضرت معاویہ کے بارے میں متعدد روایات بیان کی جاتی ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسی روایت موجود نہیں جو امام بخاری کی شرط پر صحیح ہو اور جس کی بنیاد پر وہ فضائل کا مستقل باب قائم کرتے۔
شیعہ نقطۂ نظر سے یہ بات اہم ہے کہ جب اہلِ سنت کے جلیل القدر محدثین اور شارحین خود یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ حضرت معاویہ کی فضیلت میں صحیح اور مضبوط روایات ثابت نہیں، تو پھر ہر اس شخص پر “بغضِ صحابہ” یا “رفض” کا الزام لگا دینا درست نہیں جو ایسی روایات کو قبول نہیں کرتا۔
یہ بحث کسی شخصیت سے ذاتی عداوت کی نہیں، بلکہ حدیث کی صحت، علمی دیانت اور تاریخی حقیقت کی ہے۔ اگر فضیلت ثابت کرنے کے لیے صحیح سند درکار ہے، تو یہی معیار ہر روایت پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔
حوالہ:
تشریحات بخاری، جلد 2، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی۔
فتح الباری، حافظ ابن حجر عسقلانی، شرح “باب ذکر معاویہ”.