امام ذہبی اپنی معروف کتاب سیر أعلام النبلاء میں حضرت معاویہ کے بارے میں ایک نہایت اہم تاریخی حقیقت بیان کرتے ہیں۔
امام ذہبی اپنی معروف کتاب سیر أعلام النبلاء میں حضرت معاویہ کے بارے میں ایک نہایت اہم تاریخی حقیقت بیان کرتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں:
> “معاویہ کے بعد بہت سے لوگ ایسے آئے جو ان سے محبت کرتے تھے، ان کی فضیلت بیان کرتے تھے۔ ان میں سے اکثر اپنی سخاوت اور حلم کی وجہ سے ایسا کرتے تھے۔ لیکن شام میں لوگ ان کی محبت پر پیدا ہوئے، ان کی اولاد بھی اسی محبت پر پروان چڑھی، ان کے ساتھ صحابہ، تابعین اور بہت سے علماء بھی تھے۔ جبکہ اہلِ عراق نے ان کے خلاف جنگ کی اور وہ (اہلِ شام) نصب پر پروان چڑھے۔”
یہ عبارت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شام میں حضرت معاویہ کی محبت صرف علمی تحقیق کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ ایک سیاسی اور معاشرتی ماحول میں نسل در نسل منتقل ہوئی۔
شیعہ نقطۂ نظر سے یہی وہ نکتہ ہے جس پر ہمیشہ زور دیا جاتا ہے کہ بنو امیہ نے اپنے اقتدار کے دوران ایک ایسا ماحول قائم کیا جس میں حضرت علیؑ اور اہلِ بیتؑ کے مقابلے میں حضرت معاویہ کی شخصیت کو فروغ دیا گیا، جبکہ اہلِ بیتؑ کے فضائل کو دبانے کی کوشش کی گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تاریخی پس منظر کا اعتراف خود امام ذہبی بھی کر رہے ہیں کہ اہلِ شام ایک مخصوص ماحول میں پروان چڑھے، جبکہ اہلِ عراق دوسری فضا میں تھے۔ اس لیے صرف عوامی رجحان یا کسی علاقے کی اکثریت کو حق و باطل کا معیار نہیں بنایا جا سکتا، بلکہ معیار ہمیشہ قرآن، سنت اور صحیح تاریخی شواہد ہیں۔
حوالہ:
امام ذہبی، سیر أعلام النبلاء، جلد 3، صفحہ 128۔
