“کِلتا یدَیِ اللہ یمین” کا صحیح مفہوم

بعض افراد شیعہ کتب میں موجود روایت “وكلتا يديه يمين” پیش کر کے اعتراض کرتے ہیں کہ شیعہ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے دو حقیقی ہاتھ ثابت کرتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اس روایت کے بارے میں خود شارح نے دو اہم باتیں بیان کی ہیں:
اوّلًا: روایت کی سند ضعیف ہے، لہٰذا اس سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
ثانیاً: اگر روایت کے مفہوم کو قبول بھی کیا جائے تو “يد” سے جسمانی ہاتھ مراد نہیں۔
شرح میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے:
“وكلتَا يديه يمين، أي أن يديه تبارك وتعالى صفة الكمال لا نقص في واحدة منهما، لأن الشمال ينقص عن اليمين.”
ترجمہ:
“اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، یعنی اس کی صفات کامل ہیں، ان میں کسی قسم کا نقص نہیں۔ یہاں ‘شمال’ کے مقابلے میں ‘یمین’ کمال کی علامت ہے، نہ کہ جسمانی ہاتھ کا اثبات۔”
اسی شرح میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ قرآن و حدیث میں ‘ید’، ‘یمین’ اور اس جیسے الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف مجاز، استعارہ اور کنایہ کے طور پر منسوب ہوتے ہیں، نہ کہ حقیقی جسمانی اعضا کے معنی میں۔
لہٰذا مکتبِ اہلِ بیتؑ کا عقیدہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم، اعضاء، جہت اور کیفیت سے منزہ ہے، اور ایسی تعبیرات کو قرآن کے محکم اصول ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔
حوالہ:
شرح أخبار الرسول، علامہ مجلسیؒ، جلد 8، کتاب الإيمان والكفر، باب الحب في الله والبغض في الله، حدیث 7 (ضعیف)۔