کیا اللہ تعالیٰ مظلوم کی دعا کو دیکھنے کے لیے اوپر سے نظر کرتا ہے؟

بعض افراد شیعہ کتب میں موجود ایک روایت پیش کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ شیعہ اللہ تعالیٰ کے لیے اوپر سے جھانکنے یا جسمانی نظر کا عقیدہ رکھتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
روایت میں آیا ہے:
“إن دعوة المظلوم ترفع فوق السحاب حتى ينظر الله إليها فيقول: ارفعوها حتى أستجيب له.”
بعض لوگ اس روایت کے ظاہری الفاظ سے اللہ تعالیٰ کے لیے مکان، جہت اور جسمانی نظر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن خود شارح نے اس کی وضاحت کر دی ہے۔
سب سے پہلے یہی روایت ضعیف قرار دی گئی ہے، لہٰذا اس سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
پھر شرح میں بیان کیا گیا ہے کہ:
“فإنها ترفع فوق السحاب كناية عن موانع إجابة الدعاء… والمراد بالنظر نظر الرحمة والعناية وإرادة القبول.”
ترجمہ:
“دعا کا بادلوں سے اوپر اٹھنا، دعا کی قبولیت میں حائل رکاوٹوں کے دور ہونے سے کنایہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ‘نظر کرنے’ سے مراد جسمانی نگاہ نہیں، بلکہ نظرِ رحمت، عنایت اور قبولیت کا ارادہ ہے۔”
لہٰذا مکتبِ اہلِ بیتؑ کے نزدیک اس روایت سے اللہ تعالیٰ کے لیے مکان، جہت یا جسمانی نظر ثابت نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک کنائی اور مجازی تعبیر ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث میں اسلوبِ عرب کے مطابق استعمال ہوتی ہے۔
حوالہ:
شرح أخبار الرسول، علامہ مجلسیؒ، جلد 12، کتاب الدعاء، باب من تستجاب دعوته، ص 171–172۔ (حدیث: ضعیف)