Recommended articles
تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 4
June 10, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام

مولا علیؑ تمام مومنین کے مولا و آقا ہیں(من کنت مولا)

May 13, 2026
0
0
https://web.facebook.com/photo.php?fbid=2272204686524662&set=pb.100012054580891.-2207520000&type=3

مولا علیؑ سے دوسروں کا مقابل کرنے والو پڑھو :

سیدی رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ :
اللہ کی قسم! وہ (علی ) میں یا میرے جیسا ہے۔
*

حدثنا شريك عن عياش العامري عن عبد الله بن شداد قال: قدم على رسول الله ﷺ وفد (آل) سرح من اليمن، فقال لهم رسول الله ﷺ:”لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة ولتسمعن ولتطيعن، او (لابعثن) إليكم رجلا (كنفسي) يقاتل مقاتلتكم ويسبي ذراريكم، اللهم انا او كنفسي”، (ثم) اخذ بيد علي

ترجمہ :
موسوعۃ القرآن والحدیث

حضرت عبد اللہ بن شدادؓ فرماتے ہیں کہ
یمن کے سرح قبیلہ کا ایک وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں آیا، تو رسول اللہﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا: چاہیے کہ تم ضرور بالضرور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ اور بات سنو اور اطاعت کرو۔ یا پھر میں تمہاری طرف ایک
ایسا آدمی بھیجوں گا جو میرے جیسا ہے وہ تمہارے لڑنے والوں سے قتال کرے گا اور تمہاری اولادوں کو قیدی بنا لے گا۔ اللہ کی قسم! وہ میں یا میرے جیسا ہے۔ پھر آپﷺ نے حضرت علیؑ کا ہاتھ پکڑا۔

تحكيم الحدیث:
حسن؛ شريك صدوق، أخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٠٢٤).

مولا علیؑ تمام مومنین کے مولا و آقا ہیں(من کنت مولا)

بریلوی حضرات متوجہ ہوں اور سیدی رسول اللہﷺ کے بعد مولا علیؑ کی مولائیت و ولایت کو سمجھیں کہ وہ صرف محبوبیت اور محبت کے معنی میں ہی محدود ہے یا اس کے معنی میں حاکمیت و سرداری بھی ہے ؟
اگر مولا علیؑ دوست اور محبوب ہیں تو مولا علیؑ ہر مومن کے مددگار اور کارساز بھی ہیں ۔ اور اگر بریلوی اللہ و رسولﷺ کو اپنا حاکم ، مالک اور سردار مانتے ہیں تو اللہ و رسولﷺ کی عطا سے اسی ولایت خلافت کا منصب مولا علیؑ کو اللہ و رسولﷺ کی بارگاہ سے ملا ہے اور تمام اقطابِ عالم ان کے زیرِ حکم ہیں ۔
اب تمام اقطابِ عالم جس کے زیر حکم ہیں کیا وہ مولا ، وہ ولی ، وہ محبوب ، وہ مدد گار ، وہ کارساز حاکم و سردار نہیں ہو ہے ، او بتاؤ تو سہی بریلویو ؟

اللہ تعالیٰ ولی، مددگار و کارساز ہے ، پھر اللہ تعالیٰ کی عطا سے سیدی رسول اللہﷺ ولی ، مددگار وکارساز ہیں ۔ اور پھر اللہ و رسولﷺ کی عطا سے مولا علیؑ ولی ، مددگار و کارساز ہیں ۔ اعلیٰ حضرت مطلع القمرین میں فرماتے ہیں کہ :

اللہ تبارک و تعالی کی نیابتِ عامۃ و خلافتِ تامہ حضور سید المرسلین صلوات اللہ و سلامہ علیہ و علیہم اجمعین کو حاصل ، ۔۔۔۔
پھر حضور کی بارگاہ میں یہ کار خطیر منصبِ جلیل حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو مرحمت ہوا، تمام اقطابِ عالم اس جناب کے زیر حکم ( ہیں )
لنک :

امام احمد رضا خان فتاویٰ رضویہ
میں فرماتے ہیں :

حدیث ۱۸۳:فرماتے ہیں صلی الله تعالٰی علیہ وسلم:

من کنت ولیہ فعلی ولیہ۔
احمدوالنسائی و الحاکم
بسند صحیحٍ۔

جس کا میں مددگار وکارساز ہوں علی اس کا مددگار وکارساز ہے ۔

علامہ مناوی نے شرح میں فرمایا:
یدفع عنہ ما یکرہ علی۔
اس کے مددگار ہیں اس سے مکروہات وبلِیات
دفع فرماتے ہیں۔

اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ ولی ، مالکِ حقیقی اور حاکم مطلق ہے ، پھر اللہ تعالیٰ کی عطا سے رسول اللہﷺ ولی و حاکم ہیں اور پھر اللہ و رسولﷺ کی عطا سے مولا علیؑ ولی اور حاکم ہیں ۔

بغضِ علی علیہ السلام اور ابن حزم اندلسی:

ابن جزم اندلسی اپنی کتاب الفصل میں راقم ہے:[دقت سے مطالعہ کیجیے]

أما السَّابِقَة فَلم يقل قطّ أحد يعْتد بِهِ أَن عليا مَاتَ وَله أَكثر من ثَلَاث وَسِتِّينَ سنة وَمَات بِلَا شكّ سنة أَرْبَعِينَ من الْهِجْرَة فصح أَنه كَانَ حِين هَاجر النَّبِي صلى الله عليه وسلم ابْن ثَلَاث وَعشْرين سنة وَكَانَت مُدَّة النَّبِي صلى الله عليه وسلم بِمَكَّة فِي النُّبُوَّة ثَلَاث عشرَة سنة فَبعث عليه السلام ولعلي عشرَة أَعْوَام فإسلام ابْن عشرَة أَعْوَام ودعاؤه إِلَيْهِ إِنَّمَا هُوَ كتدريب الْمَرْء وَلَده الصَّغِير على الدّين لَا أَن عِنْده غناء وَلَا أَن عَلَيْهِ إِثْمًا إِن أَبى فَإِن أَخذ الْأَمر على قَول من قَالَ أَن عليا مَاتَ وَله ثَمَان وَخَمْسُونَ سنة فَإِنَّهُ كَانَ إِذْ بعث النَّبِي صلى الله عليه وسلم ابْن خَمْسَة أَعْوَام وَكَانَ إِسْلَام ابي بكر بن ثَمَان وَثَلَاثِينَ سنة وَهُوَ الْإِسْلَام الْمَأْمُور بِهِ من عِنْد الله عز وجل ‌وَأما ‌من ‌لم ‌يبلغ ‌الْحلم ‌فَغير ‌مُكَلّف ‌وَلَا ‌مُخَاطب فسابقة أبي بكر وَعمر بِلَا شكّ أسبق من سَابِقَة عَليّ

[ترجمہ]
جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے تو کسی معتبر شخص نے کبھی یہ نہیں کہا کہ علی نے تریسٹھ برس سے زیادہ عمر پائی ہو۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ وہ سنہ چالیس ہجری میں وفات پائے، لہٰذا ثابت ہوا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو علی کی عمر تئیس برس تھی۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں نبوت کے دوران تیرہ سال گزارے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مبعوث کیا گیا تو علی کی عمر دس برس تھی۔ اس لیے دس سالہ بچے کا اسلام لانا اور نبی کا اسے اسلام کی دعوت دینا، دراصل ایک شخص کا اپنے کمسن بیٹے کو دین کی تربیت دینا تھا، نہ یہ کہ اس کی کوئی دینی حیثیت تھی اور نہ ہی اگر وہ انکار کرتا تو اس پر کوئی گناہ ہوتا، کیونکہ وہ مکلف ہی نہ تھا۔

اور اگر اس رائے کو لیا جائے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ علی نے اٹھاون سال کی عمر پائی، تو پھر اس حساب سے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو علی کی عمر پانچ برس ہوتی۔ دوسری طرف ابو بکر نے اڑتیس سال کی عمر میں اسلام قبول کیا، اور یہ وہی اسلام ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکلف بالغ افراد کو خطاب کرتا ہے۔ رہا وہ شخص جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچا ہو، تو وہ نہ مکلف ہوتا ہے اور نہ ہی شرعی خطاب کا مخاطب۔

لہٰذا ابو بکر اور عمر کی سبقت (اسلام میں) بلا شبہ علی کی سبقت سے پہلے ہے۔
وَأما عمر فَإِنَّهُ كَانَ إِسْلَامه تَأَخّر بعد الْبَعْث بِسِتَّة أَعْوَام فَإِن غنآءه كَانَ أَكثر من غنآء أَكثر من أسلم قبله وَلم يبلغ على حد التَّكْلِيف إِلَّا بعد أَعْوَام من مبعث النَّبِي صلى الله عليه وسلم وَبعد أَن أسلم كثير من الصَّحَابَة رجال وَنسَاء بعد أَن عذبُوا فِي الله تَعَالَى ولقوا فِيهِ الألاقي (3) وَأما كَونه لم يعبد وثناً فَنحْن وكل مَوْلُود فِي لإسلام لم يعبد قطّ وثناً وعمار والمقداد وسلمان وَأَبُو ذَر وَحَمْزَة وجعفر رضي الله عنهم قد عبدُوا الْأَوْثَان أفترانا أفضل مِنْهُم من أجل ذَلِك معَاذ الله من هَذَا فَإِنَّهُ لَا يَقُوله مُسلم فَبَطل أَن يكون هَذَا يُوجب لعَلي فضلا زَائِدا وَإِلَّا لكَانَتْ عَائِشَة سَابِقَة لعَلي رضي الله عنهما فِي هَذَا الْفضل لِأَنَّهَا كَانَت إِذْ هَاجر النَّبِي صلى الله عليه وسلم بنت ثَمَانِي سِنِين وَأشهر وَلم تولد إِلَّا بعد إِسْلَام أَبِيهَا بسنين وَعلي ولد وَأَبوهُ عَابِد وثن قبل مبعث النَّبِي صلى الله عليه وسلم بسنين
[ترجمہ]
اور جہاں تک عمر کا تعلق ہے، تو اُن کا اسلام بعثت کے چھ سال بعد ہوا۔ لیکن (اسلام میں دیر سے داخل ہونے کے باوجود) اُن کا فائدہ اور اثر اُن بہت سے لوگوں سے زیادہ تھا جو اُن سے پہلے اسلام لائے تھے۔ اور وہ (یعنی علی) تو سنِ تکلیف تک بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے کئی سال بعد پہنچے، اس وقت جبکہ بہت سے صحابہ — مرد و عورت — اسلام لا چکے تھے، اور اللہ کی راہ میں سخت اذیتیں جھیل چکے تھے اور طرح طرح کی تکلیفوں میں مبتلا کیے گئے تھے۔

اور رہا یہ کہنا کہ علی نے کبھی بت کی عبادت نہیں کی، تو ہم (مسلمان) اور ہر وہ بچہ جو اسلام میں پیدا ہوتا ہے، اُس نے بھی کبھی بت کی عبادت نہیں کی۔ جبکہ عمار، مقداد، سلمان، ابوذر، حمزہ اور جعفر رضی اللہ عنہم نے اسلام سے پہلے بتوں کی عبادت کی تھی۔ تو کیا ہم محض اسی وجہ سے اُن سے بہتر ہو گئے؟ معاذ اللہ! کوئی مسلمان ایسا نہیں کہہ سکتا۔ لہٰذا یہ بات بھی اس قابل نہیں کہ علی کے لیے کوئی اضافی فضیلت ثابت کرے۔ ورنہ تو عائشہ رضی اللہ عنہا، علی سے اس فضیلت میں سبقت رکھتی ہوتیں، کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی، وہ صرف آٹھ سال اور چند مہینے کی تھیں، اور وہ اپنے والد (ابو بکر) کے اسلام لانے کے کئی سال بعد پیدا ہوئیں، جبکہ علی تو اُس باپ سے پیدا ہوئے جو بعثتِ

 

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد
کیا ابوطالب ص نے رسول اللہ کو دودھ پلایا ؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)28
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات5

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions