قاتلِ امام حسین ع یزید بن معاویہ لعین اور اہلسنّت علماء کی محبت لعنت کرنا ناجائز (حصہ٢)
دشمن شیعہ ہمیشہ سے شیعہ پر الزام لگاتے آئے ہیں کہ شیعہ امام حسینؑ کے قاتل ہیں شیعہ یزیدی ہیں یہ امام حسینؑ کے قتل کرنے کی وجہ سے کافر ہیں نا جانے کیا کیا الزام شیعہ پر لگاتے ہیں مگر جب ان کی کتب کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو حقیقت اس کے برعکس نکلتی ہیں شیعہ کو یزیدی کہنےوالےخود یزید کی تکفیر لعنت کرنے کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور یزید کو مسلمان مانتے ہیں۔ ان لوگوں کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہےکہ شیخین کے مقابلے آنے والے چاہیے جتنا مرضی بڑا صحابی ہو اسے برا بھلا کہتے ہیں۔ اگر شیخین کی کوئی توہین کر دے اسے کافر قرار دیتے ہیں ۔۔ مگر جب اہلبیت کے قاتلوں کی باری آتی ہے تو انہیں اجتہادی خطا قرار دے کر معافی دلوا دیتے ہیں اسی طرح یزید ملعون جس نے امام حسین ع کو شہید کروایا اس پر لعنت کو بھی حرام قرار دیتےہیں چند علمائے اہلسنت کے نظریات ۔۔
♨️ دیوبندی عالم مفتی رشید احمد گنگوہی کہتا ہے کہ ” کسی مسلمان کو کافر کہنا مناسب نہیں ۔ یزید مومن تھا بسبب قتل کے فاسق ہوا کفر کا حال دریافت نہیں کافر کہنا جائز نہیں کہ وہ عقیدہ قلب پر موقوف ہے۔”
حوالہ : [ فتاویٰ رشیدیہ – صحفہ ١٩٢ ]
♨️ اہلسنّت عالم کہتا ہے کہ ” یزید جمہور علماء کے نزدیک کافر نہیں ہے۔ لیکن بے شک اس کی نااہلی اور ظلم بھی ناقابل انکار ہیں تمام کتب فقہ اور کتب کلام میں یہ حکم مسطور ہے۔”
حوالہ : [ فتاویٰ فریدیہ – صحفہ ۴٩٦ ]
♨️ اہلسنت عالم مولانا مفتی محمود لکھتے ہیں کہ ” یزید فاسق تھا۔ اور یہ صحیح ہے کہ اس پر لعنت کرنی جائز نہیں ہے۔”
حوالہ : [ فتاویٰ مفتی – محمود صحفہ ۴١٦ ]
♨️ اہلسنّت عالم لکھتا ہےکہ “یزید بدنصیب اصحاب کرام میں سے نہیں ہے اس کی بدبختی میں کس کو کلام ہے جو کام اس بدبخت نے کیا وہ کافر فرنگ بھی نہیں کرتا اہلسنّت و جماعت کے بعض علماء نے جو اس پر لعنت کرنے کے بارے میں توقف کیا ہے وہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ اس سے راضی ہیں بلکہ اس کے اپنے کئے سے رجوع وپشمانی اوت توبہ کے احتمال کی رعایت کرتے ہوئےکیا ہے۔”
حوالہ : [ مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی – مکتوب۵۴ – ص ١٨۵ ]
♨️ اہلسنّت عالم مفتی سید محمد سلمان منصورپوری لکھتا ہے کہ ” یزید کا فاسق ہونا تو تاریخی روایات سے ثابت کیا جاسکاتا ہے؛ لیکن اسکے کافر یا مرتد ہونے کے متعلق کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے؛ لٰہذا ہم اسے کافر نہیں کہہ سکتے۔”
حوالہ : [ کتاب النوازل – جلد ٢ – صحفہ ۵۵٩ ]
♨️ اہل سنّت عالم محمد یوسف لدھیانوی لکھتے کہ اہل سنت کے نزدیک یزید پر لعنت کرنا جائز نہیں ، یہ رافضیوں کا شعار ہے۔
حوالہ : [ آپ کے مسائل اور ان کا حل – جلد ١ – صفحہ ٢٠١ ]
♨️ مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی لکھتا ہے کہ ” یزید پر لعنت بھیجنے اور نہ بھیجنے کے جواز میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ لعنت کرنا یزید کو درست نہیں ہے اور یزید کا کافر ہونا ثابت نہیں ہوا، البتہ فاسق تھا، پس احوط عدم لعن ہے۔”
حوالہ : [ فتاویٰ دارالعلوم دیوبند – جلد ١٨ – صحفہ ۴۵٠ ]
♨️ دیوبندیوں کا اقرار کہ ” دیوبندی مولوی عبدالعزیز لال مسجد اسلام آباد والے ہمیشہ یزید کی حمایت اور اہل بیت کی تنقیص کیا کرتے تھے.”
حوالہ : [ ماہنامہ بیداری – صحفہ ۵٢ ]
♨️ اہلحدیث عالم حافظ صلاح الدین یوسف کہتا ہے کہ ” کسی لحاظ سے بھی ایسے مسلمان پر لعنت کرنا جائز نہیں جو مر چکا ہو جو شخص کسی مرے ہوئے مسلمان پر لعنت کرے گا وہ خود فاسق اور الله کا نا فرمان ہے۔”
حوالہ : [ رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا – صحفہ ٦٢ ]
♨️ اہلسنت عالم ملا علی قاری کہتا ہے کہ ” یزید کا ایمان ثابت ہے اور اس کا کفر دلیل ظنی سے بھی ثابت نہیں چہ جائیکہ دلیل قطعی سے ثابت ہو لہذا اس کی ذات کو نشانہ بنا کر لعن کرنا جائز نہیں ہے”
حوالہ [ شرح فقہ اکبر – صحفہ ١۵٨ ]
♨️ دارلعلوم دیوبند (تبلیغی جماعت ) نے یزید کو رحمتہ الله علیہ لکھنے کا فتویٰ دے دیا۔
سوال : کیا یزید کو ہم رضی اللہ عنہ کہہ سکتے ہیں؟
آن لائن فتویٰ لنک
www.darulifta-deoband.org/viewfatwa.jsp?ID=6134
جواب: 6134
(فتویٰ: 997/1082=D-1429
سلف (ماضی کے علماء) سے روایتی طور پر ثابت ہے کہ “رضی اللہ عنہ” صحابہ کے لیے لکھا اور بولا جاتق ہے اور “رحمۃ اللہ علیہ” غیر صحابہ جیسے تابعین وغیرہ کے لیے لکھا اور بولا جاتا ہے، اس لیے یزید کے لیے “رحمۃ اللہ علیہ” یہ کہنا کوئی حرج نہیں ہے۔
اللہ بہتر جانتا ہے۔
♨️ علامہ عمر ابو النصر قدسی کی کتاب جو بریلوی مکتبہ سے بریلوی مولوی رضا المصطفی چشتی کی نظر ثانی کے ساتھ پہلی بار ١٩٧٩ میں شائع ہوئی میں لکھتے ہیں کہ یزید احادیث کے راوی بھی تھے اور انکا شہادت حسینؓ سے کوئی تعلق نہیں وہ بے قصور ہیں۔
حوالہ : [ یزید تاریخ کے آئینہ میں – ص ١٣ ]
♨️ احمد رضا بریلوی کا فتویٰ یزید ملعون کے کفر پر سکوت:
امام احمد رضا خان قادری محدث بریلوی فرماتے ہیں کہ : ہمراہیان یزید یعنہ جو ان مظالم ملعونہ میں اس کے ممدوح و معاون تھے ضرور خبیث و مردود ہیں اور کافرو ملعون کہنے میں اختلاف ہے ہمارے امام کا مذہب سکوت ہے اور”جو کہے وہ بھی مورد الزام نہیں “کہ یہ بھی امام احمد وغیرہ بعض ائمہ اہلسنت کا مذہب ہے ۔
حوالہ : [ فتاوی رضویہ – جلد نمبر ٢۴ – صفحہ ۵٠٩ ]
♨️ اہلحدیث عالم حضرت علامہ وحید الزمان کتاب موطا امام مالک کے ترجمہ میں لکھتے ہیں یزید کو کافر و ملعون کہنا نا جائز ہے۔
حوالہ : [ موطا امام مالک – ص ٣١۵ ]
