کیا رسول الله ﷺ نے فرمایا اے علی ع تیرے شیعہ تیری اولاد کو قتل کرے گئے؟
نــاصبی حضرات معاویہ ، یزید ، ابن زیاد کے مظـالم کو چھپانے کے لیے طرح طرح کے بہـانے بناتے ہیں ۔ تاکہ ان کے کیے مظالم پر پردہ ڈال دیا جائے ۔ اور ساتھ ہی شیعان حیدر کرار علیہ السلام پر الزام عائد کرتے ہیں کہ قــاتلان حسین ابن علی ع شیعہ ہیں ۔ اسی طرح نــواصب روضة الــكافي کی ایک مجھول روایت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
🚫 الــحسين بن محمد عن محمد بن احمد الــنهدي عن معاوية بن حكيم عن بــعض رجــاله عن عنبسة بن بجاد عن أبي عبد الله عليه السلام في قول الله عز وجل : ” فاما إن كان من أصحاب اليمين * فسلام لك من أصحاب اليمين ” فقال علي عليه السلام: قال رسول الله صلى الله عليه وآله لعلى عليه السلام هم شيعتك فسلم ولدك منهم ان يقتلوهم. ترجمہ جو ہمارے مخالفین کرتے ہیں : آنحضرت (ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا : اے علی (ع) اپنے بیٹوں کو اپنے شیعوں سے بچانا ۔ وہ انہیں قتل کر دیں گے ۔ [ کــتاب روضة کافی ، جلد نمبر ٨ ، صفحہ ٢٢٠ ] 🚫
درج بــالا روایت محدثین کے نزدیک ضعیف منقــطع اور مـرسل ہے منقطع اس لیے ہے کہ اس کی سند میں “عن بعض رجاله ‘‘ موجود ہے چنانچہ علامہ محمد باقر مجلسی نے اس روایت کے متعلق لکھا ہے :
🎗️والثالث و السبعون و الثالث مائة مرسل بل ضعیف بالنهدي على المشور ۔۔ یہ روایت مرسل بلکہ اس کے راوی محمد بن احمد النہدی کی وجہ سے ضعیف ہے یہی مشہور قول ہے۔
حواله : [ مرأة العقول _ جلد ۴ _ صفحه ۳۶۳ ]
اس روایت کو ہمارے مفسرین نے اپنی کتب میں سورہ واقعہ آیت ٩١ میں نقل کیا ہے ۔ الله تعالی نے قرآن مجید میں سورۂ واقعہ کے اندر اصحاب یمین کے جنتی وبہشتی ہونے کی بار بار بشارت دی ہے
جیسا کہ ان کے حق میں فرمایا :
🎗️ وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِ . فَسَلَٰمٌ لَّكَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِ .
ترجمہ : اور اگر اصحاب یمین میں سے ہے ۔ تو اصحاب یمین کی طرف سے تمہارے لئے سلام ہے ۔
حواله : [ سورہ واقعہ _آیت ٩٠ ، ٩١ ]
اس آیت میں اصحاب الیمین کی تفسیر میں تفسیر برھان میں نقل ہے کہ
🎗️ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے امیر المومنین علی سے فرمایا : کہ الله نے ابتداۓ خلق میں خدا وند کریم نے تیرے متعلق حجت قائم کی ہے ۔ چنانچہ فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ سب نے کہا تھا ہاں تو ہمارا رب ہے ۔ پھر پوچھا کیا محمد میرا رسول ﷺ نہیں ؟ تو سب نے کہا تھا ہاں وہ تیرا رسول ﷺ ہے ۔ پھر فرمایا کہ علی امیر المومنین ہیں ؟ تو تکبر اور سرکشی کی بنیاد پر اکثر لوگوں نے انکار کر دیا ۔ صرف تھوڑے ارواح نے تسلیم کر لیا تھا اور وہی اصحاب الیمین ہیں ۔ اور امام باقر ع نے فرمایا اصحاب الیمین سے مراد ہمارے شیعہ اور محب ہیں ۔
حواله : [ انوار النجف ، جلد ١٣ _ صفحه ٢٠٨ ، ٢٠٩ ]
: [ تفسیر قمی ، جلد ٢ _ صفحه ٣٥٠ ]
: [ تفسیر صافی ، جلد ٧ _ صفحه ١٢٢ ]
اگر تو شیعہ ہی قاتلین اولاد علی ہیں تو پھر امام باقر نے اصحاب الیمین کی تفسیر میں شعیان کو کیسے منتخب فرمایا ۔ تکـــفیری ہمارے مخالفین نے روایت کا ترجمہ مکاری دھوکہ بازی کرتے ہوئے غلط کیا ہے روایت کا صحیح ترجمہ اس طرح ہوگا کہ
فسلم ماضی معلوم ثلاثی مجرد سے ہے ۔ جس کا معنی اپنے فائل یعنی ‘ ولدک ‘ اور مفعول ‘ ان یقتلوھم ‘ اور تعلق ‘منهم’ سے ملکر بنتا ہے ۔ پس صحیح ترجمہ یہ بنے گا کہ ” پس تیری اولادی ان کی طرف سے قتل ہونے سے سلامت ہوگی” ۔
{ فسلم لک } میں سلام سے مراد سلامتی ہے اور حدیث میں وجود {فسلم ولدک} کے معنی میں بھی سلامتی اور محفوظ رہنا بنتا ہے کسی نے بھی {فسلم} کا ترجمہ قتل نہیں کیا ۔ عجیب منطق ہے کہ ہمارے مخالفین اتنی جہالت کا شکار ہیں کہ {فسلم لک من اصحاب الیمین} میں وجود { س،ل،م } اور { فسلم ولدک } کے { س،ل،م } کے معــنی کو سمجھنے سے قـاصـــر ہیں ایک میں سلامتی اور ایک میں قتل کے معنی کرتے ہیں لہٰذا روایت کا صحیح ترجمہ یوں ہے :
🎗️حضرت امام جعفر صادق ع سے روایت ہے قول باری تعالی میں اگر مرده اصــحاب الــیمین سے ہے پس سلامتی ہے واسطے اصحاب یمین کے ۔ (روز قیامت جن کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامے ہونگے)
حضرت رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا : “وہ تیرے شیعہ ھیں {فسلم} پس تیرے واسطے ان کی طرف سے سلامتی کہ وہ تیرے بچوں کے قاتل نہیں”
حواله : [ کــتاب روضة کافی ، جلد نمبر ٨ ، صفحہ ٢٢٠ ]
اس حدیث کی شرح میں علامہ محمد باقر مجلسی لکھتے ھیں :
🎗️اگر وہ مرنے والا شخص اصحاب یمین سے ہے تو ایسے اصحاب یمین کیطرف سے تو آپ کے لیے سلامتی کا پیغام ہے ۔ شیخ طوسی رح نے فرمایا : کہ آپ ان سے متعلق ناپسندیدہ امور اور خوف زدہ کرنے والی باتوں سے سلامتی سے متعلق جو کچھ پسند کرتے ہیں ۔ وہ دیکھ لیں گے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے انسان جو اصحاب یمین میں سے ہے تمہارے لیئے الله تعالی کے عذاب سے سلامتی کا پیغام ہے اور تجھ پر اللہ کے فرشتے سلام کرتے ہیں ۔
قیادہ سے مروی ہے کہ فراء نے کہا : { وفسلام لك انك من أصحاب اليمين} میں سے “انك” محذوف ہے بقول دیگر اسکا معنی یہ ہے کہ جنت میں انکی طرف سے آپ کو سلام ہوگا ۔ اسلیئے کہ وہ آپ کے ساتھ ہونگے ۔ “لك” بمعنی “عليك” ہوگا ۔
میں ( باقر مجلسی ) ، رسول خدا کی تفسیر کے مطابق کہتا ھوں : کہ احتمال ہے کہ خاص کر قتل کا ذکر بطور مثال ہو اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ اگر مرنے والا اصحاب یمین میں سےہو تب تو اس کا حال سعادت مندی میں ظاہر ہے، اس لیئے کہ جب آپ کے اہلبیت (ع) اس کے ہاتھ اور زبان سے محفوظ رہیں بلکہ وہ انکا معاون و مدد گار رہا ۔ چنانچہ جزاء کی علت کو اس (جزاء) کے مقام پر ذکر کیا گیا ۔
حواله : [ مرأة العقول _ جلد ۴ _ صفحه ۳۶۳ ]
نوٹ : اس سے ثابت ہوا کہ شیعہ اہلــبیت ع کے قاتل نہیں بلکہ ان کے محب اصحاب یمین جنتی لوگ ہیں ۔ امام حسین ع کے قاتلین کا ایک حوالہ ملاحظہ فرمائیں :
🎗️ جب حضرت حسین کا سر مبارک عبیدالله بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھ دیا گیا تو وہ بدبخت اس پر لکڑی سے مارنے لگا اور آپ کے حسن اور خوبصورتی کے بارے میں بھی کچھ کہا ( کہ میں نے اس سے زیادہ خوبصورت چہرہ نہیں دیکھا ) اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۔ انہوں نے وسمہ کا خضاب استعمال کر رکھا تھا ۔
حواله : [ بخاری شریف _ روایت ٣٧٤٨ ]
