Recommended articles
تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 4
June 10, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

[شبهه أن الخوئي رحمه الله ينكر قضيه كسر ضلع فاطمه الزهراء عليها السلام]

May 8, 2026
0
0

بے شک انہوں نے رحمہ اللہ صرف پسلی ٹوٹنے کے خاص مسئلے پر گفتگو کی تھی، اور سوال بھی اسی موضوع کے بارے میں تھا، کسی اور چیز کے بارے میں نہیں۔ پھر آپ لوگ یہ کیسے ان کی طرف منسوب کرتے ہیں کہ وہ حضرت Fatimah al-Zahra سلام اللہ علیہا پر ہونے والے حملے کے قائل نہیں تھے؟
حالانکہ انہوں نے قدس سرہ نہ تو آپؑ پر ضرب لگائے جانے کی نفی کی، نہ آپؑ کے بچے کے ساقط کیے جانے کی، نہ طمانچہ مارے جانے کی، نہ آنکھ سرخ ہونے کی، نہ گھر جلائے جانے کی، نہ کوڑے مارے جانے کی — یہاں تک کہ آپؑ کے بازو پر کنگن جیسا نشان پڑ گیا تھا۔
نہ سوال میں ان امور کا ذکر تھا اور نہ جواب میں۔ پھر آپ نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ وہ ان تمام باتوں کے بھی منکر تھے؟”

 “ان کے قدس سرہ کے اس قول: ‘یہ بات مشہور اور معروف ہے’ سے ہمارے سامنے دو احتمال آتے ہیں۔
جس طرح یہ ممکن ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ روایت کی سند مکمل اور معتبر نہیں، اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سند کو صحیح سمجھتے ہوں، لیکن اس معاملے کو کھل کر بیان نہیں کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ لوگ مشتعل نہ ہوں جو اس امر کی صراحت پر ناراض ہوتے ہیں؛ خصوصاً اس زمانے میں جب وہ ناصبی و ظالم طاغوت حکومت میں تھا، جو شیعوں اور تشیع کو مٹانے کی کوشش کر رہا تھا، اور کسی بھی بہانے سے انہیں نقصان پہنچانے کے مواقع ڈھونڈتا رہتا تھا۔

دوسرے احتمال کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ان کی طویل اور بابرکت زندگی میں کبھی بھی حضرت Fatimah al-Zahra سلام اللہ علیہا پر ہونے والے مظالم میں سے کسی چیز کے بارے میں ان کی طرف سے شک یا تردید کا کوئی اشارہ سامنے نہیں آیا۔

اگر انہوں نے اس قسم کی کوئی بات کہی ہوتی تو وہ ضرور مشہور ہو جاتی، لوگوں میں پھیل جاتی، اور سنی و شیعہ دونوں حلقے اسے فوراً نقل کرتے؛ جیسا کہ حالیہ زمانے میں بعض افراد کے بارے میں ایسا ہوا۔ کیونکہ اہلِ سنت اسے اپنے مذہب کی تائید سمجھتے، جبکہ شیعہ اسے بلا ظاہری دلیل ایک مسلم امر کا انکار قرار دیتے۔

خلاصہ یہ ہے کہ سید خوئی جانتے تھے کہ کسی روایت کی سند کا ضعیف ہونا، اس کے مضمون کے جھوٹا ہونے کا قطعی حکم دینے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس صورت میں ضروری ہے کہ نفی یا اثبات کے لیے مزید واضح دلائل کا انتظار کیا جائے۔

لہٰذا صرف اس بنا پر کہ انہوں نے کسی روایت کی سند کو ضعیف قرار دیا ہو — اگر واقعی انہوں نے ایسا کہا بھی ہو، جبکہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ان کے کلام میں اس پر بھی کوئی واضح دلالت موجود نہیں — ان کی طرف انکار کی نسبت دینا کیسے درست ہو سکتا ہے؟”
غدیر – ولایت مولا علی ع کے انکار پر ایک صحابی پر عذاب کا نازل ہونا
ولایت امیر المومنین کا اقرار لازم ہے۔

جو نواصب کہتے ہیں کہ کلمہ میں علی ولی اللہ ثابت کرو تو ان سے گذارش ہے قرآن سے جا کر لڑائی کریں۔

حارث بن نعمان جو ایک صحابی تھا اس نے بھی ایسے ہی شک کیا تھا کہ علی ولی ثابت کرو اور کہا یہ تو نعوذباللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس سے علی کی ولایت کا اعلان کر دیا ہے

اور پھر نعمان نے کہا کہ اے اللہ اگر من کنت مولا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود سے نہیں کہا تو پتھر مجھے ہلاک کر دے

ملاحظہ کریں

“جب حارث بن نعمان کو علم ہوا کہ غدیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی ع کی ولایت کے بارے میں فرمایا ھے:من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ. تو حارث رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور اپنی سواری کو الابطح جگہ پر بٹھایا اور کہا: یا محمد! آپ نے کہا ہم یہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں ہم نے گواہی دی ، یہ کہ دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھیں ہم نے پڑھیں ، اپنے اموال میں سے زکوۃ نکالیں ہم نے قبول کیا ، ہر سال رمضان میں روزہ رکھیں ہم نے مان لیا اور حج کریں ہم نے قبول کیا۔ پھر بھی آپ (محمد ص) ان سب پر راضی نہ ہوئے اور اپنے چچا کے بیٹے (مولا علی ع) کو ہم پر فضلیت دی ھے۔ کیا یہ (ولایت علی ع کا اعلان) آپ کی طرف سے ھے یا اللہ کی طرف سے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا

“قسم ھے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ بات اللہ ہی کی طرف سے ھے۔”
یہ سن کر حارث یہ کہتے ہوئے پلٹا: اے اللہ! اگر جو کچھ محمد کہتا ھے حق ھے تو ہم پر آسمان سے پتھر گرا اور دردناک عذاب نازل کر دے۔ پھر قسم بخدا! وہ اپنی اونٹنی تک پہنچنے نہ پایا تھا کہ اس کے سر پر اللہ نے ایک پتھر گرایا جو اس کے دماغ پر لگا اور نیچے سے نکل گیا اور وہ مر گیا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی “سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ

اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔

ایک تو اس صحابی نے آج کے یزیدی ٹولے کا مسلہ حل کردیا اور اپنی ہلاکت کو مول لیا اور بتایا دشمن علی ہمیشہ قابل عذاب ہے چاہے پتھر سے ہو یا جلن سے ہو

دوسرا یہ کہ ولایت امیر المومنین علی علیہ السلام واجب ہے

اس سلسلہ میں اہلسنت کتب کے حوالا جات سکین پیجز ملاحضہ کریں

تفسیر قرطبی ، امام ابوبکر قرطبی ، سورہ المعارج آیت 1 ، ج 9 ، صفحہ 588
تفسیر ثعلبي ، امام ثعلبي ، سورہ المعارج آیت 1 ، ج 10 ، صفحہ 35
تزکرہ الخواص امام سبط ابن جوزی ، باب الثانی ، صفحہ 33
دررالسمطین صفحہ 113_114
نور الابصار شیخ مومن الشبلنجي ، صفحہ 161_162
شواہد التنزیل حافظ جسکانی ، ج 2 ، ح 1030 سے 1034 – صفحہ 286_287_288
ارجح المطالب عبید اللہ امر تسری ، صفحہ 117_118
الفصول المھمۃ ابن صباغ مالکی ، ج 1 ، صفحہ 243_244
مناقب سیدنا علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ ، صاحبزادہ محمد مقبول احمد ، صفحہ 87
فرائد السمطین ، محدث کبیر امام الجوینی ، باب: 15 ، صفحہ 82_83

 غدیر خم – حضرت عمر کی مولا علی ع کو مبارک باد – آپ ہمارے مولا بن گئے
رسول خدا ص نے جب مولا علی (ع) کو اپنے خلیفہ و جانشین کے طور پر انتخاب کر لیا اور اس کے بعد، وہاں پر موجود تمام مسلمانوں کے لیے اعلان کرنے کے بعد، سب کو حکم دیا کہ ایک ایک کر کے سب علی (ع) کی امیر المؤمنین کے عنوان سے بیعت کریں اور اس نئے عہدے و منصب کی انکو مبارک باد دیں۔
حضرت عمر ابن الخطاب نے خود کو لوگوں کے رش سے نکالتے ہوئے، امیر المؤمنین تک پہنچایا اور مولا علی ع کو مبارک باد پیش کی کہ مبارک ہو، مبارک ہو، اے ابو الحسن کہ، اب آپ میرے اور سب مسلمانوں کے مولا و رہبر بن گئے ہیں
یہاں پر ذرا رک کر ان ناصبیوںسے سوال جو مولا کے معانی دوست لیتے ہیں
کیا حضرت عمر رش سے نکل کر ، مولا علی ع کو صرف اس لئے مبارک باد دینے گئے کہ وہ دوست بن گئے ؟
اس واقعہ کی تفصیل شیعہ کتب میں بھری پڑی ہیں
آئیے اہلسنت کتب سے اس کا جائزہ لیتے ہیں
حدثنا عبد اللَّهِ حدثني أبي ثنا عَفَّانُ ثنا حَمَّادُ بن سَلَمَةَ أنا عَلِيُّ بن زَيْدٍ عن عَدِيِّ بن ثَابِتٍ (وأبي هارون العبدي) عَنِ الْبَرَاءِ بن عَازِبٍ قال كنا مع رسول اللَّهِ صلي الله عليه وسلم في سَفَرٍ فَنَزَلْنَا بِغَدِيرِ خُمٍّ فنودي فِينَا الصَّلاَةُ جَامِعَةٌ وَكُسِحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلي الله عليه وسلم تَحْتَ شَجَرَتَيْنِ فَصَلَّي الظُّهْرَ وَأَخَذَ بِيَدِ علي رضي الله عنه فقال أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ اني أَوْلَي بِالْمُؤْمِنِينَ من أَنْفُسِهِمْ قالوا بَلَي قال أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ اني أَوْلَي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ من نَفْسِهِ قالوا بَلَي قال فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فقال من كنت مَوْلاَهُ فعلي مَوْلاَهُ اللهم وَالِ من ولاه وَعَادِ من عَادَاهُ قال فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذلك فقال له هنياء يا بن أبي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مولي كل مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.
براء ابن عازب کہتا ہے کہ: میں حجۃ الوداع میں رسول خدا کے ساتھ تھا، درختوں کے نیچے سے صفائی کی گئی، نماز با جماعت پڑھنے کا حکم دیا گیا، پھر رسول خدا نے علی کا ہاتھ پکڑ کر انکو اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا اور فرمایا
کیا تمام مؤمنین کی جانوں پر خود انکی نسبت میرا زیادہ حق نہیں ہے ؟ سب نے جواب دیا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر فرمایا: کیا میری زوجات تمہاری مائیں نہیں ہیں ؟ سب نے کہا: ہاں ایسا ہی ہے، پھر فرمایا: جس جس کا میں مولا و راہبر ہوں، علی بھی اس اس کے مولا و راہبر ہیں، خداوندا اس سے محبت فرما، جو علی سے محبت کرے، اور اس سے دشمنی فرما، جو علی سے دشمنی کرے، عمر نے کہا: مبارک ہو اے فرزند ابو طالب، اب آپ ہر مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کے مولا و راہبر بن گئے ہیں۔
حوالاجات
فضائل الصحابة لابن حنبل ج 2، ص ٥٩٦
إبن أبي شيبة الكوفي، ابوبكر عبد الله بن محمد (متوفي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 6، ص 372، ح32118، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد – الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ
تاريخ مدينة دمشق وذكر فضلها وتسمية من حلها من الأماثل، ج 42، ص ٢٢١
الذهبي الشافعي، شمس الدين ابوعبد الله محمد بن أحمد بن عثمان (متوفي 748 هـ)، تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام، ج 3، ص ٦٣١
السيوطي، جلال الدين عبد الرحمن بن أبي بكر (متوفي911هـ)، الحاوي للفتاوي في الفقه وعلوم التفسير والحديث والاصول والنحو والاعراب وسائر الفنون، ج 1، ص 78، تحقيق: عبد اللطيف حسن عبد الرحمن، ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولي، 1421هـ – 2000م
ملا علی القاري نے اس روایت اور اسکی شرح کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ
(رواه أحمد) أي في مسنده، وأقل مرتبته أن يكون حسنا فلا التفات لمن قدح في ثبوت هذا الحديث
اس روایت کو احمد نے اپنی کتاب مسند احمد میں نقل کیا ہے، راویوں کے مرتبے کے لحاظ سے، اس روایت کا کم ترین مرتبہ یہ ہے کہ، یہ روایت (علم حدیث کی زبان میں) حسن ہے، پس جو بھی اس روایت کے بارے میں اشکال کرے گا، اسکی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جائے گی۔
ملا علي القاري، نور الدين أبو الحسن علي بن سلطان محمد الهروي (متوفاي1014هـ)، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 11، ص 78، تحقيق: جمال عيتاني، ناشر: دار الكتب العلمية – لبنان/ بيروت، الطبعة: الأولي، 1422هـ – 2001م.
فضائل الصحابة لابن حنبل ج 2، ص ٥٩٦

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
مولا علیؑ تمام مومنین کے مولا و آقا ہیں(من کنت مولا)
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)28
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات5

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions