روایت (کیا میں ہذیان…. تھا؟ اور اس کا مطلب کیا ہے؟

کتاب بصائر الدرجات میں ائمہؑ کے بارے میں ایک باب (باب: روح القدس ائمہؑ کو اس وقت مدد دیتا ہے جب انہیں ضرورت ہو، ص 451-454) میں ایک روایت وارد ہوئی ہے۔ بعض بیمار ذہن رکھنے والے لوگ اس روایت سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ (معاذ اللہ) امام ہذیان اور بے معنی باتیں کرتے تھے۔
روایت یہ ہے
محمد بن الحسین نے صفوان بن یحییٰ سے، انہوں نے ابو خالد القماط سے، انہوں نے حمران بن اعین سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا:
میں نے امام جعفر صادقؑ سے پوچھا: کیا آپ نبی ہیں؟
امامؑ نے فرمایا: نہیں۔
میں نے کہا: مجھے ایک ایسے شخص نے بتایا ہے جس پر میں شک نہیں کرتا کہ آپ فرماتے ہیں: ہم نبی ہیں۔
امامؑ نے فرمایا: وہ کون ہے؟ کیا ابو الخطاب ہے؟
میں نے کہا: جی ہاں۔
امامؑ نے فرمایا: میں اس وقت (ایسی حالت میں تھا جیسے) ہذیان کی حالت ہو۔
میں نے پوچھا: پھر آپ کس کے مطابق حکم دیتے ہیں؟
امامؑ نے فرمایا: آلِ داؤدؑ کے حکم کے مطابق، اور جب کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جو ہمارے پاس نہ ہو تو روح القدس ہمیں اس کی خبر دیتا ہے۔
اب ہمیں ایسی مکمل اور تسلی بخش وضاحت درکار ہے جس کے ذریعے ہم ان لوگوں کو جواب دے سکیں۔
اللہ آپ کو بہترین جزا دے۔
