Recommended articles
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
معاشرتی اور معاشی استحکام امیر المومنینؑ کی تعلیمات کے روشنی میں
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
خلافتِ امیرالمومنینؑ سے انحراف کے علل و اسباب
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
تدوین قرآن میں حضرت علیؑ کا کردار
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
حدیث (حب علی حسنۃ لَا یَضُرُّ مَعَهَا سَیِّئَةٌ…) کا ایک جائزہ
July 29, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
الإمام الحسين بن علي الشهيد عليه السلام

حضرت امام حسینؑ کو خطوط لکھنے والے کوفی اصحاب ہانی، عبدالاعلی ، عمارہ ، حنفی اور قیس کے حالات اور شہادت

June 24, 2026
0
0

 ہانی بن عروہ بن غزان مرادی

ہانی بن عروہ بن غزان مرادی ( شہادت ٨ ذی الحجہ، سنہ ٦٠ ) امام علی ع کے خاص دوست اور کوفہ کے بڑے لوگوں سے تھے آپ جنگ جمل و جنگ صفین میں بھی حاضر ہوئے تھے حجر بن عدی نے جب زیاد بن ابیہ کے خلاف قیام کیا تو اسکا ایک رکن ہانی بھی تھا اور یزید کی بیعت کرنے کیخلاف تھا عبیداللہ بن زیاد کے کوفہ داخل ہونے کے وقت ہانی کا گھر سیاسی اور نظامی شخصیات کے امور کا مرکز تھا، مسلم بن عقیل کے قیام میں آپ کا اہم کردار تھا۔ ٨ ذی الحجہ سنہ ٦٠ کو مسلم بن عقیل کی شہادت کے بعد عبیداللہ بن زیاد کے حکم سے آپ کا سر بدن سے جدا کیا گیا آپ کی شہادت کی خبر امام حسین علیہ السلام کو کوفہ کے راستے میں زرود کے مقام پر ملی۔ امام علیہ السلام نے اسکی موت پر گریہ کیا اور آیت استرجاع کی تلاوت فرمائی اور آپ رض کیلئے خدا سے رحمت کی درخواست کی۔

🍁 مسلم بن عقیل، کو جب عبیداللہ کی دھمکی اور اس کی کوفہ میں آمد کی خبر ملی تو آپ مختار بن ابوعبید ثقفی کے گھر سے نکل کر ہانی بن عروہ کے گھر چلے گئے۔ ہانی نے اپنے تمام توان سے آپ کا دفاع کیا۔ ہانی کا گھر اس لئے انتخاب کیا کیونکہ یہ مختار کے گھر سے زیادہ بااطمینان تھا۔

🍁 ابن زیاد نے اپنے ایک شامی غلام کو حکم دیا کہ وہ ہانی کے گھر پر نظر رکھے اور کیونکہ ہانی ابن زیاد کو ملنے نہیں گیا تھا اس نے ہوشیاری سے محمد بن اشعث، اسماء بن خارجہ اور عمروبن حجاج زبیدی جو کہ ہانی کے دوست اور خاندان سے تھے ان کے واسطے ہانی کو دارالامارہ لایا گیا اسطرح ہانی کو مسلم بن عقیل سے دور کیا گیا جس کی وجہ سے مسلم بن عقیل ع کے قیام کو شکست حاصل ہوئی۔ اور جب ہانی مسلم بن عقیل کو عبیداللہ کے سامنے تسلیم کرنے کے لئے حاضر نہ ہوا تو ہانی پر بہت ظلم کئے گئے آپ کے ناک کو توڑ کر قید میں ڈال دیا گیا۔
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد۴ – صفحہ ١٧٢ ]
: [ مقتل الہوف – سید ابن طاوس – صفحہ ۴٦

عبدالاعلی کلبی کوفی :

 جناب مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کی شہادت کے بعد ابن زیاد نے عبدالاعلی کلبی کو بلایا جسے قبیلہ بنی فتیان کے محلہ سے کثیر بن شہاب نے پکڑا اور ابن زیاد کے پاس لے کر آیا تھا۔ ابن زیاد نے اس سے کہا : اپنی داستان سناؤ۔ تو اس نے کہا : اللہ آپ کو سلامت رکھے! میں اسلئے نکلا تھا تاکہ دیکھوں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں اسی اثناء میں کثیربن شہاب نے مجھے پکڑ لیا۔ ابن زیاد: تجھے سخت وسنگین قسم کھانی پڑے گی کہ تو فقط اسی کام کے لئے نکلا تھا جس کا تجھے گمان ہے تو اس نے قسم کھانے سے انکار کر دیا ابن زیاد نے کہا اسے میدان میں لے جاؤ اور اسکی گردن اڑادو !جلادوں نے حکم کی تعمیل کی اور اس کا سر فوراً قلم کردیا۔
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد۴ – صفحہ ١٧٢ ]

عمارہ بن صلخب ازدی کوفی

عبدالاعلی کلبی کی شہادت کے بعد عمارہ بن صلخب ازدی کو لایا گیا جو جناب مسلم بن عقیل ع کی مدد کے لئے نکلے تھے اور انھیں گرفتار کر کے ابن زیاد کے پاس پہنچا دیا گیا تھا۔ابن زیاد نے ان سے پو چھا : تم کس قبیلہ سے ہو؟ انھوں نے جواب دیا” ازد” سے تو ابن زیاد نے کہا : اسے اس کے قبیلہ والوں کے پاس لے جاؤ اور اس کی گر دن اڑا دو۔
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد۴ – صفحہ ١٧٣ ]

سعید بن عبداللہ حنفی کوفی :

 سعید بن عبداللہ حنفی کا نام ۶۱ ہجری قمری میں واقعہ کربلا کے شہیدوں میں ذکر ہوتا ہے وہ کوفہ کے ان شہدا میں سے تھےکہ جو کوفیوں اور امام حسین ع کے درمیان ہونے والی خط و کتابت میں خطوط پہنچانے کا کام کرتے تھے اسی طرح مسلم بن عقیل کا خط امام حسینؑ کو پہنچانے کے بعد وہ امام حسینؑ کے کاروان کے ساتھ ہو گئے ۔۔ سعید نے شب عاشورا امام حسینؑ کی حمایت میں تقریر کرتے ہوئے قسم اٹھا کر کہا : اگر مجھے ستّر مرتبہ مارا جائے اور زندہ کیا جائے تو میں پھر بھی امام حسین ع کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوں گا۔

عاشورا کے روز جب امام حسین ع نے نماز خوف ادا کی تو سعید بن عبداللہ امام کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ سامنے سے آنے والے تیروں کو اپنے چہرے، سینے، ہاتھوں اور پہلو پر روکتے رہے تاکہ تیر مبادا امام حسین کو نہ لگیں۔ روایت ہے کہ جب زخموں سے نڈھال ہوکر زمین پر گرے
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد۴ – صفحہ ٢٢١ ]

 قیس بن مسہر صیداوی کوفی :

قیس بن مسہر صیداوی، امام حسین علیہ السلام کا قاصد جو آپ ع کے خطوط کو کوفیوں اور مسلم بن عقیل تک پہنچاتے تھے اور اسی جرم میں قادسیہ کےمقام پر عبیداللہ بن زیاد کے سپاہیوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے اور واقعہ عاشورا سے چند روز قبل شہید کردئے گئے۔ انکا نام زیارت الشہدا میں آیا ہے اور انہیں واقعہ کربلا کا پہلا شہید تصور کیا جاتا ہے امام حسین علیہ السلام نے وادی حاجز سے قیس کو کوفہ روانہ کیا اس سفر میں انہوں نے مسلم بن عقیل کو امام کا خط پہنچایا۔بعض نقل کے مطابق یہ خط کربلا سے کوفہ بھیجا گیا تھا۔بہر حال یہ خط حضرت مسلم کی شہادت کے بعد بھیجا گیا۔

قیس بن مسہر صیداوی جب قادسیہ پہنچے تو حصین بن نمیر نے انہیں گرفتار کر کے ابن زیاد کی طرف روانہ بھیجا تاکہ وہ اس کے بارے میں کوئی حکم صادر کرے ۔ البتہ قیس نے گرفتار ہونے سے پہلے امام کا خط پھاڑ دیا تھا تا کہ یہ خط دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔
دارالامارہ میں ابن زیاد کے پاس جب قیس کو پیش کیا گیا تو ان کے مابین یہ گفتگو ہوئی : ابن زیاد : تو کون ہے ؟
قیس : علی اور حسین علیھما السلام کے شیعوں میں سے ایک ۔
ابن زیاد : خط کیوں پھاڑ دیا؟
قیس : تا کہ تجھے پتہ نہ چلے کہ اس میں کیا لکھا تھا۔
ابن زیاد : کس کی طرف سے تھا اور کسے لکھا گیا تھا؟
قیس : امام حسین علیہ السلام کی طرف سے کوفے کی ایک جماعت کے نام تھا ۔ ان کے نام نہیں جانتا ہوں۔
ابن زیاد آگ بگولہ ہوا اور اس نے کہا : خدا کی قسم!اس وقت تیری جان نہیں چھٹے گی جب تک تو مجھے ان کے نام نہیں بتاتا یا یہ کہ منبر پر جاؤ اور جھوٹے حسین بن علی علیھما السلام اور اسکے باپ پر لعنت کرو ورنہ تجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا ۔
قیس : اس جماعت کے نام نہیں بتاتا لیکن لعنت کر دیتا ہوں۔

ابن زیاد کے حکم پر قیس منبر پر گئے تا کہ ابن زیاد کے ساتھ کئے گئے وعدے کیمطابق علی علیہ السلام اور انکی اولاد پر لعن کریں۔ منبر پر جانے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے خدا کی حمدد و ثنا کی ۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوات بھیجی اور امام علی، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کی مدح و سرائی کی اور ان پر خدا کی رحمت کا بھیجی۔ اس کے بعد انہوں نے عبید اللہ بن زیاد ان کے والد اور بنی امیہ کے ستم کاروں پر اول سے آخر تک لعنت بھیجی اور آخر میں کہا :

اے لوگو! میں تمہاری طرف حسین ابن علی علیھما السلام کا سفیر ہوں فلان جگہ پر وہ مجھ سے جدا ہوئے ہیں پس ان کی طرف چل پڑو۔ قیس کیجانب سے بنی امیہ کے کرتوتوں کا راز فاش کرنے کے بعد ابن زیاد نے انہیں دارلامارہ کی چھت سے نیچے گرانے کا حکم دیا یوں قیس شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔اس کے بعد ابن زیاد کے حکم سے ان کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا۔
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد ۴ – صفحہ ١٨۵ ]

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
معاشرتی اور معاشی استحکام امیر المومنینؑ کی تعلیمات کے روشنی میں
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
خلافتِ امیرالمومنینؑ سے انحراف کے علل و اسباب
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
تدوین قرآن میں حضرت علیؑ کا کردار
July 29, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
الإمام الحسين بن علي الشهيد عليه السلام
امام حسین ع کو کوفہ کی دعوت دینے اور پھر غداری کرنے کا صحابی رسول عمرو بن حجاج کا کردار
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions