امام حسین ع کو کوفہ کی دعوت دینے اور پھر غداری کرنے کا صحابی رسول عمرو بن حجاج کا کردار
حضرت امام حسین علیہ السلام کو انکے مخلص اصحاب کے علاوہ جن لوگوں نے خطوط لکھے ان میں ایک عمرو بن حجاج زبیدی ہے جس نے امام حسین ع کو خط لکھا اور پھر امام ع سے غداری کر کے یزید بن معاویہ کی فوج میں شامل ہوگیا
🍁 شبت بن ربعی اور حجار بن الجبر اور یزید بن حارث اور یزید رویم، عروہ بن قیس اور عمرو بن حجاج زبیدی اور محمد بن عمیر تمیمی نے لکھا، نواحی کوفہ لہلہا رہے ہیں۔ میوے پختہ ہوگئے ہیں ۔ چشمے چھلک رہے ہیں۔ آپ جب جی چاہے آئیے آپکا لشکر یہاں تیار موجود ہے سب پیامبر ایک ہی وقت میں حضرت کے پاس پہنچے ۔ آپ نے خطوں کو پڑھا پیامبروں سےلوگوں کا حال دریافت کیا ہانی بن ہانی سمیعی اور سعید بن عبد اللہ حنفی کو جو سب پیغامیوں کے آخر میں پہنچے تھے آپ نے جواب لکھ کر دیا۔
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد۴ – صفحہ ١٨١ ]
🍁 ابن سعد کو یہ خط پہنچا تو کہنے لگا میں سمجھ گیا ابن زیاد کو عافیت نہیں منظور ہے ایک اور خط ابن زیاد کا ابن سعد کو آیا۔ اس میں یہ مضمون تھا کہ نہر کے اور حسین کے درمیان حائل ہو جا۔ ایک بوند پانی وہ لوگ نہ پی سکیں ۔ جو سلوک کہ تقی زکی مظلوم امیر المؤمنین عثمان بن عفان کیساتھ کیا گیا تھا۔ اس خط کو دیکھ کر ابن سعد نے “””عمرو بن حجاج””” کو پانسو سواروں کا رئیس کرکے روانہ کیایہ لوگ نہر پر جاکر ٹھہرے اور نہر اور حسین و اصحاب حسین کے درمیان یہ سب حائل ہو گئے کہ وہ بوند بھر پانی اس سے نہ پینے پائیں۔
حوالہ : [ تاریخی طبری – جلد۴ – صفحہ ١٩٩ ]
ابن زیاد لعین کے اس خط سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جو لوگ امام حسین ع کے خلاف جنگ کرنے آئے تھے وہ کس کے ماننے والے اور کس کے خون کا بدلنے لینے کے لیے امام حسین ع پر پانی بند کر رہے تھے ۔ عمرو بن حجاج زبیدی جو یزیدی فوج کا رئیس تھا یہ صحابیِ رسول ہیں ملاحظہ فرمائیں :
عزالدین ابن الاثیر نے انہیں اصحاب کی فہرست میں شامل کیا ان کے بارے لکھتے ہیں
🍁حضرت عمرو بن حجاج زبیدی۔ ابن اسحاق نے کہاکہ یہ رسول اللہ کہ عہد مبارک میں اسلام لاچکے تھے جب قبیلہ زبید کے لوگوں نے اسلام سے مرتد ہو جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے بہت اچھا کام کیا لوگوں کو ارتداد سے منع کیا اور اسلام پر قائم رہنے کی ترغیب دی۔
حوالہ : [ اسد الغابہ – جلد ھفتم – صفحہ ٦٩٢ ]
امام ابن حجر عسقلانی صاحب نے بھی انہیں اصحاب کی فہرست میں شامل کیا۔
🍁عمرو بن حجاج الزبيدي : طبرانی انکا ذکر کرتے ہیں کہ صحابی ہیں ، ابن فتحون نے اپنے استدراک میں ان کا ذکر کیا ہے۔
حوالہ : [ الاصابہ فی تمیز الصحابہ – جلد ۴ – صفحہ ١٧۴ ]
علامہ الحافظ شمس الدین ذھبی صاحب نے بھی انہیں اصحاب کی فہرست میں شامل کیا مزید لکھتے ہیں :
🍁حضرت عمرو بن حجاج زبیدی : قبیلہ زبید کے لوگوں نے اسلام سے مرتد ہو جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے بہت اچھا کام کیا لوگوں کو ارتداد سے منع کیا اور اسلام پر قائم رہنے کی ترغیب دی۔
حوالہ : [ تجرید اسماء الصحابہ – جلد ١ – صفحہ ۴٠۴ ]
تبصرہ :: قارئین کرام ایک جلیل القدر صحابی جس نے قبیلہ زبید کےلوگوں کو اسلام سے مرتد ہونے سے بچایا مگر وہی صحابی امام حسین ع کو کوفہ آنے کی دعوت دیتا ہے مگر پھر یزید بن معاویہ کی فوج میں شامل ہوجاتا ہے اور مولا امام حسین ع اور اصحاب حسین ع پر پانی بند کر کے اپنے صحابی بھائی عثمان کے خون کا بدلہ لے رہا ہے ۔ امام حسین ع نے جن کوفی غداروں کو برا کہا وہ یہی لوگ تھے ۔
