حبیب بن مظاہر کو امام علیہ السلام کا خط
حبیب بن مظاہر کو امام علیہ السلام کا خط
تحریر: سید علی اصدق نقوی
محرم کے ایام میں عموما ایک “خط” گردش کرنے لگتا ہے جو کہ امام حسین علیہ السلام کی جانب سے حبیب بن مظاہر اسدی کو بھیجا گیا ہوتا ہے۔ اس خط کا متن یہ نقل ہوتا ہے:
حبیب سلام ہو تم پر،
شاید تمہیں معلوم نہیں کہ ہم دو محرم سے کربلا پہنچ چکے ہں میرے ساتھ اس عالم غربت میں میرے اہلخانہ اور بچے بھی ہیں ہمیں چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیر لیا ہے اگر بے وطنوں کی مدد کرنا چاہتے ہو تو عصر عاشور سے پہلے کربلا پہنچ جانا ورنہ عصر قیامت ملاقات ہوگی۔
والسلام۔
تمہارا بچپن کا ساتھی
حسین بن فاطمہ
اگر ہم مقاتل کی کتب کا مطالعہ کریں، تو ہمیں کسی بھی معتبر و مستند مقتل کی کتب میں ایسا کوئی خط نہیں ملتا جسکا یہ متن ہو۔ جو تصویر پھیلائی جاتی ہے اس میں بھی اسکا کوئی حوالہ درج نہیں۔ اسکے أسلوب میں بھی اشکالات ہیں۔ خصوصا ایسے الفاظ جیسے “تمہارا بچپن کا ساتھی” خط کے آخر میں لکھنا اور آخر میں اپنا نام لکھنا، جبکہ اس زمانے میں عرب میں اس أسلوب اور طرز پر خطوط لکھنے کا رواج نہیں تھا۔ ہاں، یہ بات درست ہے کہ اس خط کی بجائے ایک اور خط منقول ہے جو کہ بعض متأخر کتب میں نقل ہوا ہے، وہ یہ ہے:
مِنَ الحُسَينِ بنِ عَلِيٍّ بنِ أبي طالبٍ إلى الرَّجُلِ الفَقيهِ حَبيبِ بنِ مُظاهِر: أمَّا بعدُ يا حبيب؛ فَأنتَ تَعلَمُ قَرابَتَنا مِن رَسولِ اللّه ِ صلى الله عليه وآله، وَأنتَ أَعرَفُ بِنا من غَيْرِكَ، وأنتَ ذُو شيمَةٍ وغَيْرَةٍ، فَلا تَبخَل عَلَينا بِنَفسِكَ، يُجازيكَ جَدِّي رَسولُ اللّه ِ صلى الله عليه وآله يَومَ القِيامَةِ.
حسین بن علی بن ابی طالب کی جانب سے مردِ فقیہ حبیب بن مظاہر کو خط: اما بعد، اے حبیب! تم رسول اللہ ص سے ہماری رشتہ داری جاتے ہو، اور تم دوسرے کی نسبت زیادہ پہچانتے ہو ہمیں۔ اور تم اچھی صفت والے اور غیرتمند ہو۔ تو تم بخل نہ کرو ہمارے معاملے میں، میرے جد رسول اللہ ص تمہیں بروز قیامت جزائے خیر دیں۔ (1)
اس خط کی کوئی سند نہیں ہے۔ مگر اسکے استناد سے قطع نظر، کم از کم اسکا وجود ہے کتب میں چاہے متأخر کتب میں ہی صحیح۔ کچھ متن کے اختلاف سے کتاب فرسان الهيجاء میں شیخ محلاتی لکھتے ہیں:
أقول : لا أستحضر الآن بخلدي المصدر الذي عثرت على الرواية التالية فيه وهي أنّ الحسين عليه السلام لمّا نزل كربلاء كتب كتاباً إلى محمّد بن الحنفيّة وآخر إلى الكوفة ، وكتب كتاباً خاصّاً إلى حبيب بن مظاهر وفيه : بسم الله الرحمن الرحيم ، من الحسين بن عليّ إلى الرجل الفقيه حبيب بن مظاهر الأسدي ، أمّا بعد ، فقد نزلنا كربلاء وأنت تعلم قرابتي من رسول الله فإن أردت نصرتنا فاقدم إلينا عاجلاً … ولكن كيف وصلت هذه الرسالة إلى حبيب، علم ذلك عند الله، لأنّ الطرق جميعها مأخوذة بالرصد والعدوّ قد أحاط بهم.
میں کہتا ہوں: مجھے یاد نہیں ہے کہ کس مصدر میں مجھے یہ درج ذیل روایت ملی ہے، یہ ہے کہ امام حسین ع جب کربلاء آئے تو انہوں نے محمد بن حنفیہ کو ایک خط لکھا اور ایک کوفہ کی جانب، اور ایک خاص خط انہوں نے حبیب بن مظاہر کو لکھا جس میں تھا: بنام خدا جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے، حسین بن علی کی جانب سے مرد فقیہ حبیب بن مظاہر اسدی کو۔ اما بعد، ہم کربلاء آ گئے ہیں اور تم رسول اللہ ص سے میری رشتہ داری جانتے ہو، اگر تم ہماری مدد کرنا چاہتے ہو تو جلدی ہمارے پاس آجاؤ۔۔۔ لیکن یہ پیغام حبیب تک کیسے پہنچا، اسکا علم اللہ ہی کے پاس ہے، کیونکہ سب کے سب رستوں پر نگران موجود تھے اور دشمن نے اسکو گھیر لیا تھا۔ (2)
اس خط کو صاحب کتاب نے اپنی یاد داشت سے اسکو نقل کیا ہے جس سے اس کی نقل میں خطا کا امکان ہے اور درست متن پہلا ہی ہے جو کہ بیشتر کتب میں موجود ہے، ساتھ ہی شیخ محلاتی کا اشکال بھی معقول اور غور طلب ہے۔ لیکن جو خط سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے وہ من گھڑت اور بے بنیاد ہے، اسکا کوئی وجود نہیں معتبر کتب میں۔ براہ کرم معصومین سے کسی بھی چیز کو نسبت دینے یا شیئر کرنے سے پہلے اسکی تصدیق کروا لیا کریں۔
مآخذ:
(1) وسيلة الدارين في أنصار الحسين، ص 120 – 121
(2) فرسان الهيجاء، 1، ص 124، وراجع: مقتل الدربندي، ص 741
