اگر ہم کسی شیعہ سے پوچھیں کہ کیا امام حسینؑ کی شہادت سے دین کی اصلاح ہوئی؟
تو وہ کہیں گے: ہاں۔
تو اس کا ایک اور مطلب (یا دوسرے زاویے سے) یہ بنتا ہے کہ اگر امام حسینؑ زندہ رہتے تو فساد باقی رہتا، لہٰذا دین کے لیے ان کا زندہ رہنا کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔
اچھا، لیکن ایک بات قابلِ غور ہے کہ امام حسینؑ امام ہیں، اور امام پر لازم ہے کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور حق کا ساتھ دیں۔ لہٰذا امام حسینؑ کا خروج (قیام) واجب تھا، اور شہداء کا خروج بھی مرتد کے خلاف جہاد کی طرح تھا۔ تو کیا اگر وہ خروج نہ کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ فساد میں مبتلا تھے؟ یہ بات حقیقت میں ایک کمزور (غیر معقول) بحث ہے۔
اور میں چاہتا ہوں کہ تمہاری اسی دلیل کو استعمال کر کے اس کی طاقت دیکھوں، اور تم سے کہوں:
کیا رسول اللہ ﷺ کا غزوہ اُحد اور بدر میں نکلنا تبلیغ اور اصلاح کے لیے تھا؟
تو تم کہو گے: ہاں۔
پھر میں کہوں گا: اگر نبی ﷺ نہ نکلتے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ (معاذ اللہ) فساد باقی رہتا؟
اور اگر تم کہو: نہیں،
تو میں کہوں گا: پھر (نعوذ باللہ) رسول اللہ ﷺ حکیم نہیں تھے، کیونکہ انہوں نے بغیر فائدہ کے مسلمانوں اور صحابہ کا خون بہایا، جن میں حضرت حمزہؑ بھی شامل ہیں۔ 🤷🏻