انبیائے کرامؑ کا امام حسینؑ سے تعلق
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں:
میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے ساتھ جنگِ صفین کے لیے روانہ تھا۔ جب ہم دریائے فرات کے کنارے نینویٰ کے مقام پر پہنچے تو آپؑ نے بلند آواز سے فرمایا:
“اے ابن عباس! کیا تم اس جگہ کو پہچانتے ہو؟”
میں نے عرض کیا: “نہیں، یا امیرالمؤمنین!”
آپؑ نے فرمایا:
“اگر تم اسے میری طرح پہچانتے ہوتے تو میرے ساتھ اس مقام سے گزرنے سے پہلے ضرور میری طرح گریہ کرتے۔”
پھر حضرت علیؑ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی اور آنسو سینے تک بہنے لگے۔ ہم بھی آپؑ کے ساتھ رونے لگے۔ آپؑ فرما رہے تھے:
“آہ! آہ! میرا آلِ ابوسفیان سے کیا واسطہ؟ میرا آلِ حرب سے کیا تعلق؟ یہ شیطان کا گروہ اور کفر کے حامی ہیں۔ صبر کرنا اے اباعبداللہؑ! تمہارے والد نے بھی انہی لوگوں کی طرف سے وہی مصائب برداشت کیے تھے جو تم پر آنے والے ہیں۔”
اس کے بعد آپؑ نے وضو کیا، نماز ادا کی، پھر کچھ دیر کے لیے نیند آگئی۔ بیدار ہوئے تو فرمایا:
“اے ابن عباس! کیا میں تمہیں اپنا خواب سناؤں؟”
میں نے عرض کیا: “ضرور، یا امیرالمؤمنین!”
آپؑ نے فرمایا:
“میں نے خواب میں دیکھا کہ سفید لباس والے فرشتے آسمان سے اتر رہے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں سفید جھنڈے اور چمکتی ہوئی تلواریں تھیں۔ انہوں نے اس سرزمین کے گرد ایک دائرہ کھینچ دیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ یہاں کے کھجوروں کے درخت زمین کی طرف جھک گئے ہیں اور ان سے تازہ خون بہہ رہا ہے۔
پھر میں نے اپنے فرزند، میرے جگر کے ٹکڑے حسینؑ کو دیکھا کہ وہ خون میں ڈوبے ہوئے مدد کے لیے پکار رہے ہیں، مگر کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں۔
اسی دوران وہ سفید پوش فرشتے نازل ہوئے اور پکارنے لگے:
‘اے آلِ رسول! صبر کیجیے، آپ کو بدترین لوگ شہید کریں گے، اور اے اباعبداللہ! جنت آپ کی مشتاق ہے۔’
پھر وہ مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگے:
‘اے ابوالحسن! خوش ہوجائیے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کی آنکھیں حسینؑ کے دیدار سے ٹھنڈی کرے گا۔'”
اس کے بعد حضرت علیؑ نے فرمایا:
“اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں علیؑ کی جان ہے! رسول اللہ ﷺ نے مجھے پہلے ہی یہ خبر دے دی تھی کہ جب میں اہلِ بغاوت کے مقابلے کے لیے نکلوں گا تو یہی منظر دیکھوں گا۔ یہ کرب و بلا کی سرزمین ہے۔ یہاں حسینؑ اور میرے اور حضرت فاطمہؑ کی اولاد میں سے سترہ افراد دفن ہوں گے۔ یہ زمین آسمانوں میں بھی اسی طرح معروف ہے جیسے حرمین شریفین اور بیت المقدس کی سرزمین معروف ہے۔”
پھر آپؑ نے فرمایا:
“اے ابن عباس! اس علاقے میں ہرن کی مینگنیاں تلاش کرو۔”
ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے تلاش کیا تو زعفران کے رنگ کی پیلی مینگنیاں مل گئیں۔ میں نے حضرت علیؑ کو اطلاع دی۔
آپؑ نے انہیں اٹھایا، سونگھا اور فرمایا:
“یہی ہیں۔ کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہیں؟”
پھر فرمایا:
“حضرت عیسیٰ بن مریمؑ ایک مرتبہ اپنے حواریوں کے ساتھ یہاں سے گزرے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ہرن یہاں جمع ہیں اور رو رہے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ بھی بیٹھ گئے اور گریہ کرنے لگے۔ حواریوں نے پوچھا: اے روح اللہ! آپ کیوں رو رہے ہیں؟
آپؑ نے فرمایا:
‘کیا تم جانتے ہو یہ کون سی زمین ہے؟’
انہوں نے عرض کیا: ‘نہیں۔’
حضرت عیسیٰؑ نے فرمایا:
‘یہ وہ سرزمین ہے جہاں رسولِ خدا حضرت محمد ﷺ کے نواسے اور حضرت فاطمہ زہراؑ کے لختِ جگر کو شہید کیا جائے گا۔ ان کی قبر یہیں ہوگی۔ یہ مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، کیونکہ یہ ایک شہید فرزندِ رسولؐ کی مٹی ہے۔ انبیاء اور ان کی اولاد کی سرزمینیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔
یہ ہرن مجھے بتا رہے ہیں کہ وہ اس مبارک مٹی کی محبت میں یہاں چرنے آتے ہیں اور اپنے آپ کو یہاں محفوظ سمجھتے ہیں۔’
پھر حضرت عیسیٰؑ نے ان مینگنیوں کو سونگھ کر دعا کی:
‘اے اللہ! انہیں باقی رکھ تاکہ ایک دن حسینؑ کے والد انہیں سونگھ کر اپنے فرزند کی یاد میں تسلی حاصل کریں۔'”
حضرت علیؑ نے پھر بلند آواز سے دعا کی:
“اے عیسیٰ بن مریمؑ کے پروردگار! حسینؑ کے قاتل، اس کے قتل کا حکم دینے والے، اس کی مدد کرنے والے اور اسے تنہا چھوڑنے والوں پر ہرگز برکت نہ نازل فرما۔”
اس کے بعد آپؑ بہت دیر تک روتے رہے، یہاں تک کہ بے ہوش ہوگئے۔ ہوش آنے پر ان مینگنیوں کو اپنے کپڑے میں باندھ کر مجھے دیتے ہوئے فرمایا:
“اے ابن عباس! جب تم انہیں تازہ خون میں تبدیل ہوتا دیکھو تو سمجھ لینا کہ اباعبداللہ حسینؑ اسی سرزمین پر شہید اور دفن ہو چکے ہیں۔”
ابن عباس کہتے ہیں:
“میں ان مینگنیوں کی حفاظت اس سے بھی زیادہ کرتا تھا جس طرح بعض واجبات کی حفاظت کرتا تھا۔ عاشورا کی صبح اچانک میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ وہ تازہ خون میں تبدیل ہو چکی ہیں اور میری آستین خون سے بھر گئی ہے۔
میں روتے ہوئے کہنے لگا:
‘خدا کی قسم! حسینؑ شہید ہو گئے۔ علیؑ نے مجھ سے جو بھی فرمایا تھا وہ ہمیشہ سچ ثابت ہوا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ انہیں ایسی خبریں دیتے تھے جو دوسروں کو نہیں دیتے تھے۔’
میں باہر نکلا تو دیکھا کہ مدینہ پر غم کی کیفیت طاری ہے، سورج گہن زدہ معلوم ہوتا تھا اور دیواریں گویا خون سے رنگی ہوئی نظر آتی تھیں۔
اسی دوران ایک غیبی آواز سنائی دی:
اے آلِ رسول! صبر کرو،
تمہارا نازک بدن والا فرزند شہید کر دیا گیا ہے۔
روح الامین غم و ماتم کے ساتھ نازل ہوئے ہیں۔
ابن عباس کہتے ہیں:
میں نے اس وقت کی تاریخ محفوظ کر لی۔ بعد میں جب کربلا سے شہادتِ امام حسینؑ کی خبر پہنچی تو معلوم ہوا کہ وہی دس محرم، یومِ عاشورا تھا۔ میں نے یہ واقعہ ان لوگوں کو بھی سنایا جو حضرت علیؑ کے ساتھ صفین میں موجود تھے۔ انہوں نے کہا:
“خدا کی قسم! ہم نے بھی جنگ کے دوران یہی غیبی آواز سنی تھی، مگر ہمیں معلوم نہ تھا کہ یہ کس کی آواز ہے۔ ہم سمجھتے تھے کہ شاید یہ حضرت خضرؑ کی آواز ہے۔”
اللہ تعالیٰ امام حسینؑ کے قاتلوں پر اور اُن کے مددگاروں اور ان کے حامیوں پر لعنت فرمائے۔
مراجع:
– کمال الدین، ص 532
– الأمالی (شیخ صدوق)، ص 694
– مدینۃ المعاجز، ج 2، ص 165
– بحار الأنوار، ج 44، ص 252
– ریاض الأبرار، ج 1، ص 176
– العوالم، ج 17، ص 143
– الدر النظیم، ص 538 (بمعنی)
– الخرائج والجرائح، ج 3، ص 1144 (بمعنی)
تحقیق: مرکز سید الشہداءؑ