Recommended articles
مقالات قرآنی
خدا جوئی فطرت انسان کا تقاضا ہے۔
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا محور و مرکز عصمت و طہارت
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
محمد و آل محمد علیھم السلام پر صلوات کی بابت حکم قرآنی
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
قرآنی طرز زندگی کے تحت مطلوبہ اجتماعی روابط
August 26, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
ائمہ اھل سنت امام جعفر صادق علیہ السلام

مناظرہ امام جعفر صادق علیہ السلام و ابو حنیفہ

July 16, 2026
0
0

ابن ابی لیلیٰ سے منقول ہے کہ مفتی وقت ابوحنیفہ اور میں بزم علم حکمت صادق آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام میں وارد ہوئے ۔
امام نے ابو حنیفہ سے سوال کیا تم کون ہو ؟
میں :ابو حنیفہ
امام: وہی مفتیِ اہلِ عراق ؟
ابو حنیفہ : جی ہاں
امام: لوگوں کوکس چیز سے فتویٰ دیتے ہو؟
ابو حنیفہ : قرآن سے
امام : کیا پورے قرآ ن نا سخ اور منسوخ سے لیکر محکم اور متشابہ تک کا علم ہے تمہارے پاس؟
ابوحنیفہ: جی ہاں
امام : قرآن میں سورۂ سبا کی ۱۸وی آیت
وَجَعَلنَا بَینَھُم وَبَینَ القُرَی الَّتِی بَارَکنَا فِیھا قُرًی ظَاھرَۃً وَقَدَّرنَا فِیھا السَّیرَ سِیرُوا فِیہھا لَیَالِی وَأَیَّامًا آمِنِینَ
ان میں بغیر کسی خوف کے رفت و آمد کرو ۔
اس آیت میں خدا وند عالم کی مراد کونسی جگہ ہے ؟
ابو حنیفہ : اس آیت میں مکّہ اور مدینہ مراد ہے
امام : ( امام نے یہ جواب سن کر اہل مجلس کو مخاطب کر کے کہا ) کیا ایسا ہوا ہے کہ مکّہ اور مدینہ کے درمیا ن میں تم نے سیر کی ہو اور اپنے جان اور مال کا کویی خوف نہ رہا ہو؟
اہل مجلس : با خدا ایسا تو نہیں ہے ۔
امام : افسوس ای ابو حنیفہ خدا حق کے سوا کچھ نہیں کہتا ذرا یہ بتاؤ کہ خدا وند عالم سورۂ آلِ عمران کی ۹۷وی آیت میں کس جگہ کا ذکر کر رہا ہے :
ومن دخلہ کان آمنا
ابو حنیفہ : خدا اس آیت میں بیت اللہ الحرام کا ذکر کر رہا ہے ۔
امام نے اہل مجلس کی طرف رخ کر کے کہا کیا عبد اللہ ابن زبیر اور سعید ابن جبیر بیت اللہ میں قتل ہونے سے بچ گیے ؟
اہل مجلس : آپ صحیح فرماتے ہیں ۔
امام : افسوس ہے تجھ پر اے ابو حنیفہ خدا حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔
ابو حنیفہ : میں قرآن کا نہیں قیاس کا عالم ہوں ۔
امام : اپنے قیاس کے ذریعہ سے یہ بتا کہ اللہ کے نزدیک قتل بڑ ا گناہ ہے یا زنا ۔
ابو حنیفہ : قتل
امام :پھر کیوں خدا نے قتل میں دوگوا ہوں کی شرط رکھی لیکن زنا میں چار گوا ہوں کی شرط رکھی۔
امام : اچھا نماز افضل ہے یا روزہ ۔
ابو حنیفہ: نماز
امام: یعنی تمہارے قیاس کے مطابق حایضہ پر وہ نمازیں جو اس نے ایامِ حیض میں نہیں پڑ ھی واجب ہیں نہ روزہ ، جبکہ خدا نے روزہ کی قضا واجب کی ہے نہ نماز کی ۔
امام : اے ابو حنیفہ پیشاب زیادہ نجس ہے یا منی ؟
ابو حنیفہ : پیشاب۔
امام : تمہارے قیاس کے مطابق پیشاب پر غسل واجب ہے نہ منی پر ، جبکہ خدا نے منی پر غسل واجب کیا ہے نہ پیشاب پر ۔
ابو حنیفہ : میں صاحبِ رائے ہوں ۔
امام: اچھا تو یہ بتاؤ کہ تمہاری نظر ا سکے بارے میں کیا ہے ، آقا اور غلام دونوں ایک ہی دن شادی کرتے ہیں اور اسی شب میں اپنی اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستر ہوتے ہیں ، ا سکے بعد دونوں سفر پر چلے جاتے ہیں اور اپنی بیویوں کو گھر پر چھوڑ دیتے ہیں ایک مدّت کے بعد دونوں کے یہاں ایک ایک بیٹاپیدا ہوتا ہے ایک دن دونوں سو تی ہیں ، گھرکی چھت گر جاتی ہے اور دونوں عورتیں مر جاتی ہیں ، تمہاری رأی کے مطابق دونوں لڑ کوں میں سے کون غلام ہے کون آقا کون وارث ہے کون مورث ؟
ابو حنیفہ : میں صرف حدود کے مسائل میں باہر ہوں ۔
امام : اس انسان پر کیسے حد جاری کرو گے جو اندھا ہے اور اس نے ایک ایسے انسان کی آنکھ پھوڑ ی ہے جسکی آنکھ صحیح تھی اور وہ انسان جس کے ہاتھ نہیں ہیں اور اسنے ایک دوسرے فرد کا ہا تھ کاٹ دیا ہے ۔
ابو حنیفہ : میں صرف بعثتِ انبیا ء کے بارے میں جانتا ہوں
امام: اچھا ذرا دیکھیں یہ بتاؤ کہ خدا نے موسیٰ اور ہارون کو خطاب کر کے کہا کہ فرعون کے پاس جاؤ شاید وہ تمہاری بات کو قبول کر لے یا ڈر جاۓ:
فَقُولَا لَہُ قَوْلاً لَّیِّناً لَّعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشَی
(طہٰ ۴۴ )
یہ لعل تمہاری نظر میں شک کے معنیٰ میں ہے ؟
ابو حنیفہ : ہاں
امام : خدا کو شک تھا جو کہا شاید ؟
ابو حنیفہ : مجھے نہیں معلوم
امام : تمہارا گمان ہے کہ میں کتاب خدا کے ذریعہ فتویٰ دیتا ہوں جبکہ تم ا سکے اہل نہیں ہو ، تمہارا گمان ہے کہ تم صاحبِ قیاس ہو جبکہ سب سے پہلے ابلیس نے قیاس کیا تھا اور دینِ اسلام قیاس کی بنیاد پر بنا ہوا نہیں ، تمہارا گمان ہے کہ تم صاحب رأی ہو جبکہ دین اسلام میں رسول خدا کے علاوہ کسی کی رأ ی درست نہیں ہے اس لیے کہ خدا وندِ عالم فرماتا ہے :
فاحکم بینھم بما انزل اللہ
تو سمجھتا ہے کہ حدود میں وارد ہے جس پر قران نازل ہوا ہے تجھ سے زیادہ حدود میں علم رکھتا ہو گا تو سمجھتا ہے کہ بعثتِ انبیا ء کا عالم ہے خود خاتمِ انبیاء، انبیاء کے بارے میں زیاد ہ واقف تھے اور میرے بارے میں تونے خود کہا فرزندرسول اور کوئی سوال نہیں کیا ، اب میں تجھ سے کچھ نہیں پوچھونگا اگر صاحبِ قیاس ہے تو قیاس کر۔
ابو حنیفہ : یہاں کے بعد اب کبھی قیاس نہیں کرونگا ۔
امام: ریاست کی محبّت کبھی تم کو اس کام کو ترک نہیں کرنے دے گی جس طرح تم سے پہلے والوں کو حبّ ریاست نے نہیں چھوڑ ا۔
(احتجاج طبرسی ج۲ ص۲۷۰تا ۲۷۴)

 

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

مقالات قرآنی
خدا جوئی فطرت انسان کا تقاضا ہے۔
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا محور و مرکز عصمت و طہارت
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
محمد و آل محمد علیھم السلام پر صلوات کی بابت حکم قرآنی
August 26, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
معاویہ
امام حاکم کا معاویہ کی فضیلت بیان کرنے سے انکار
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions