آیتِ تطہیر سورہ احزاب کی آیت (33) کا حصہ ہے تو اس سے استدلال کیسے جائز ہے
جواب
وہ اشکال جس کی طرف سائل اشارہ کر رہا ہے، وہ یہ ہے کہ “آیتِ تطہیر” کا ایسے سیاقِ آیات کے درمیان واقع ہونا ہے جو نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس تطہیر میں ازواجِ مطہرات شامل نہ ہوں جبکہ آیت میں براہِ راست خطاب انہی سے ہے؟ اور آیت (کا وہ حصہ) یہ ہے:
> ﴿وَقَرْن فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْن تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْن الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْن اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
> “اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے محاسن کی نمائش نہ کرو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ بس اللہ کا ارادہ یہی ہے کہ اے اہل بیت! تم سے ہر قسم کی آلودگی (رجس) کو دور رکھے اور تمہیں ایسے پاک رکھے جیسے پاک رکھنے کا حق ہے۔”
شيعہ علماء نے اس آیت پر بہت زیادہ توجہ دی ہے اور اس کے لیے خاص طور پر الگ سے ابحاث مرتب کی ہیں، کیونکہ یہ اہل بیت (ع) کی امامت اور ان کی عصمت پر واضح قرآنی دلائل میں سے ایک ہے۔ ان کتب میں سے جنہوں نے صرف اس ایک آیت کے مطالعہ اور تحقیق پر توجہ دی، درج ذیل ہیں:
* *آیۃ التطہیر* — مرتضیٰ عسکری۔
* *آیۃ التطہیر* — علی الحسینی المیلانی۔
* *أهل البيت في آية التطهير* — جعفر مرتضیٰ العاملی۔
مکتبِ اہل بیت (شیعہ امامیہ) کے علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیتِ کریمہ خاص طور پر “اصحابِ کساء” (پنجتن پاک) کے ساتھ مخصوص ہے، جیسا کہ ان صحیح روایات نے بھی اس کی تاکید کی ہے جنہیں تمام اسلامی فرقوں اور مذاہب نے روایت کیا ہے۔ یہاں تک کہ اہل سنت کے بہت سے علماء نے بھی اس بات میں شیعہ علماء سے اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت اصحابِ کساء کے ساتھ ہی مخصوص ہے۔ جبکہ اہل سنت کے بعض دیگر علماء اس طرف گئے ہیں کہ یہ آیت اصحابِ کساء کے ساتھ ساتھ نبی ﷺ کی ازواج کو بھی شامل کرتی ہے، اور ان کی دلیل وہی “سیاقِ کلام” (آیت کا پس منظر و پیش منظر) ہے جو ازواجِ مطہرات کو شامل ہے۔
حدیثِ کساء کا ذکر اکثر اسلامی مصادر (کتبِ حدیث) میں آیا ہے اور اس کی صحت میں کسی نے شک نہیں کیا۔ چنانچہ *صحیح مسلم* میں عائشہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا:
> “ایک صبح نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ پر سیاہ بالوں سے بنی ہوئی ایک کڑھائی دار چادر (مرط مرحل) تھی۔ اتنے میں حسن بن علی آئے تو آپ نے انہیں چادر کے اندر لے لیا، پھر حسین آئے اور وہ بھی ان کے ساتھ اندر داخل ہو گئے، پھر فاطمہ آئیں تو آپ نے انہیں بھی اندر لے لیا، پھر علی آئے تو آپ نے انہیں بھی اندر داخل کر لیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾۔”
> (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 2424)
اور مسند احمد بن حنبل میں ام سلمہ سے روایت ہے کہ:
> “نبی ﷺ ان کے گھر میں تھے کہ فاطمہ ایک پتیلی میں ‘خزیرہ’ (ایک قسم کا کھانا) لے کر آئیں اور اسے لے کر آپ ﷺ کے پاس داخل ہوئیں۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ‘اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں کو بلا لاؤ۔’ انہوں نے کہا: چنانچہ علی، حسن اور حسین آئے اور آپ ﷺ کے پاس داخل ہوئے اور اس خزیرے میں سے کھانے بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ ایک بچھونے پر تشریف فرما تھے جس کے نیچے ایک خیبری چادر تھی۔ ام سلمہ کہتی ہیں: اور میں اس وقت حجرے میں نماز پڑھ رہی تھی۔ اسی دوران اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾۔ پس رسول اللہ ﷺ نے چادر کا بچا ہوا حصہ لیا اور اس سے ان سب کو ڈھانپ دیا، پھر اپنا ہاتھ چادر سے باہر نکالا اور اسے آسمان کی طرف بلند کر کے فرمایا: ‘اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص لوگ ہیں، پس ان سے رجس (ہر قسم کی گندگی) کو دور رکھ اور انہیں ایسا پاک کر جیسا پاک کرنے کا حق ہے، اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص لوگ ہیں، پس ان سے رجس کو دور رکھ اور انہیں پاک و پاکیزہ بنا۔’ ام سلمہ کہتی ہیں: تو میں نے اپنا سر گھر (چادر کے دائرے) میں داخل کیا اور عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ‘تم خیر پر ہو، تم خیر پر ہو (یعنی تمہارا انجام اچھا ہے مگر تم اس مقام میں شامل نہیں ہو)۔'”
> (مسند احمد بن حنبل، ج 6، ص 292)
سیاقِ آیت سے استدلال کا علمی رد:
ان مستند اور قطعی روایات کے ثبوت کے بعد سیاقِ کلام کا سہارا نہیں لیا جا سکتا؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے آیت کی تفسیر ایک ایسا “نصِ صریح” (واضح بیان) ہے جسے محض ایک مشترکہ سیاق کی موجودگی کی وجہ سے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اور اس اصول پر اہل سنت کے محققین کا بھی اتفاق ہے۔ چنانچہ حسین الحربی اپنی کتاب *قواعد الترجيح عند المفسرين میں لکھتے ہیں:
> “جب حدیث ثابت ہو جائے اور وہ آیت کی تفسیر میں نص (قطعی) ہو، تو پھر کسی دوسری طرف رخ نہیں کیا جائے گا۔”
> (قواعد الترجيح عند المفسرين، ج 1، ص 191)
یعنی جب حدیث اس بات پر دلالت کر رہی ہو کہ یہ آیت اہل بیت (ع) کے ساتھ مخصوص ہے تو اس وقت ہم سیاقِ کلام یا آیت کے عموم کی طرف نہیں جائیں گے تاکہ یہ کہہ سکیں کہ آیت ان لوگوں کو بھی شامل کرتی ہے جنہیں حدیث نے خارج کر دیا ہے۔
اسی طرح سعد الدین الطوفی
شرح مختصر الروضۃ (جلد 3، ص 107) میں کہتے ہیں:
> “جہاں تک سیاق کی اس دلالت کا تعلق ہے کہ اس آیت سے ازواجِ مطہرات مراد ہیں تو اگرچہ اس میں (ظاہری طور پر) کچھ تمسک کی گنجائش نظر آتی ہے؛ لیکن ان نصوص (احادیث) کی موجودگی میں جن کا ہم نے ذکر کیا—جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ‘اہلِ بیت’ کا عنوان انہی (اصحابِ کساء) کے ساتھ خاص ہے—یہ سیاق کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اور قرآن مجید نیز عربوں کے دیگر کلام میں یہ عام بات ہے کہ کلام کے اجزاء کے درمیان کسی اجنبی (الگ) جملے کے ذریعے فاصلہ آ جاتا ہے۔”
ایسا اس لیے ہے کیونکہ روایتی نصوص اس مقام پر وارد ہوئی ہیں جہاں آیت کی اختصاص (مخصوص ہونے) کو اصحابِ کساء کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں یہ مورد (خاص واقعہ) وارد ہونے والے حکم کو مخصص (مخصوص کرنے والا) بنا دیتا ہے نہ کہ یہ محض آیت کا ایک عام مصداق ہے کہ یہ کہا جائے کہ مورد حکم کو تخصیص نہیں دیتا۔
پہلی دلیل: آیت کا مستقل نزول
بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس آیت کے لیے وحدتِ سیاق (ایک ہی تسلسل میں ہونا) سرے سے ثابت ہی نہیں ہے؛ کیونکہ ایسی روایات موجود ہیں جو اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ یہ آیت باقی آیات سے الگ اور مستقل طور پر نازل ہوئی تھی جیسا کہ حدیثِ کساء میں ام سلمہ کا یہ قول کہ یہ آیت ان کے گھر میں نازل ہوئی۔ بلکہ کوئی ایک بھی ایسی دلیل نہیں ہے جو یہ اشارہ کرے کہ آیتِ تطہیر ان (ازواج والی) آیات کے ساتھ ہی نازل ہوئی تھی۔
دوسری دلیل: ضمیروں کا بدلنا (تأنیث اور تذکیر کا فرق)
علاوہ ازیں ضمیروں کا مؤنث سے مذکر میں بدل جانا بھی وحدتِ سیاق کو مشکوک بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
> ﴿وَقَرْنَ… وَلَا تَبَرَّجْن… وَأَقِمْن… وَآتِينَ… وَأَطِعْن…﴾
یہاں سارا خطاب جمع مؤنث کی ضمیروں کے ساتھ ہے۔ لیکن اس کے فوراً بعد خطاب جمع مذکر کی طرف بدل جاتا ہے جہاں فرمایا:
> ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾
پھر اس کے فوراً بعد اگلی ہی آیت میں خطاب دوبارہ جمع مؤنث کی طرف لوٹ جاتا ہے:
> ﴿وَاذْكُرْن مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ…﴾
یہ اچانک ضمیروں کا تبدیل ہونا اس بات کی قطعی تصدیق کرتا ہے کہ سیاقِ کلام ایک نہیں ہے (بلکہ یہ جملہ معترضہ کے طور پر وسط میں آیا ہے)۔
تیسری دلیل: بیوت (جمع) اور بیت (واحد) کا فرق
اس میں یہ نقطہ بھی جوڑا جا سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ والہ کی ازواج میں سے ہر ایک کے لیے اپنا ایک خاص گھر تھا یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ کی زوجات کے متعدد گھر تھے۔ اسی لیے خطاب جمع کے صیغے میں آیا: ﴿فِي بُيُوتِكُنَّ﴾ (تمہارے گھروں میں)۔ جبکہ آیتِ تطہیر نے صرف ایک واحد گھر کے بارے میں بات کی اور فرمایا: ﴿أَهْلَ الْبَيْتِ﴾ (اس ایک گھر والے)۔
چوتھی دلیل: مقامِ مدح بنام مقامِ زجر
جو چیز وحدتِ سیاق نہ ہونے کو ترجیح دیتی ہے وہ یہ ہے
کہ آیتِ تطہیر “مدح، تعظیم اور ثناء” کے مقام پر وارد ہوئی ہے، جبکہ وہ آیات جو ازواجِ نبی کو مخاطب کر رہی ہیں
وہ “زجر تنبیہ امر و نہی اور ڈراوے” کے سیاق میں ہیں۔
چنانچہ اس بات میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ آیتِ تطہیر سے مراد ازواجِ نبی کے علاوہ دیگر شخصیات ہوں، باوجود اس کے کہ یہ ان آیات کے درمیان واقع ہے۔ کیونکہ ایک ہی آیت کا آغاز کسی ایک موضوع پر اس کا وسط کسی دوسرے موضوع پر اور اس کا اختتام کسی تیسرے موضوع پر ہو سکتا ہے۔
تفسیرِ عیاشی میں زرارہ سے روایت ہے کہ امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:
> مردوں کی عقلوں سے جو چیز سب سے زیادہ دور ہے وہ قرآن کی تفسیر ہے ایک آیت نازل ہوتی ہے جس کا اول حصہ کسی چیز کے بارے میں ہوتا ہے اس کا وسط کسی اور چیز کے بارے میں اور اس کا آخری حصہ کسی تیسری چیز کے بارے میں ہوتا ہے۔ پھر آپ (ع) نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾۔
> (تفسیر العیاشی، ج 1، ص 17)
اس مقام پر آیت کو رکھنے کی حکمت
بنابریں کسی خاص حکمت کے پیشِ نظر ایک ہی آیت میں ایک سے زیادہ مخاطب ہو سکتے ہیں۔
علامہ مظفر (جو شیخ محمد رضا مظفر کے بھائی ہے)
نے اپنی گراں قدر کتاب دلائل الصدق میں اس کی حکمت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس آیت کو ازواجِ نبی کے تذکرے اور ان سے خطاب کے درمیان صرف اس لیے رکھا تاکہ اس بات پر متنبہ کرے کہ اللہ نے انہیں (ازواج کو) جو اوامر و نواہی دیے ہیں اور ان کی جو تربیت کی ہے، وہ دراصل
اہلِ بیت (ع) کے اکرام و احترام کی خاطر
ہے؛ تاکہ اہل بیت کا دامن ان ازواج کی وجہ سے کسی داغ یا بدنامی سے محفوظ رہے اور انہیں ان کی وجہ سے کوئی عیب نہ پہنچے اور ان کا مقام گناہگاروں کے میل جول سے بلند رہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات کا آغاز اس جملے سے کیا: ﴿يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ﴾ (اے نبی کی بیویوں ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو)۔ یہ بات واضح ہے کہ ان کا یہ امتیازی مقام صرف نبی صلی اللہ علیہ والہ اور ان کی آل (ع) کے ساتھ منسوب ہونے کی وجہ سے ہے نہ کہ ان کی اپنی ذات کی وجہ سے۔ پس ازواج کا اپنا ایک مقام ہے اور اہل بیت کا ایک الگ اور بلند مقام ہے۔
یہ آیتِ کریمہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص (کسی معزز گھرانے کی بہو سے) کہے اے فلاں کی بیوی! تو دوسرے لوگوں کی بیویوں کی طرح نہیں ہے پس پاکدامنی اختیار کر پردے میں رہ اور اللہ کی اطاعت کر کیونکہ تیرا شوہر ایک ایسے پاکیزہ گھرانے سے ہے جنہیں اللہ ہر قسم کی گندگی سے دور اور نقائص سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
(دلائل الصدق: 2/72)