امام حاکم کا معاویہ کی فضیلت بیان کرنے سے انکار
امام ذہبی کہتے ہیں کہ حاکم نیشاپوری میں تشیع کی طرف ایک میلان تھا، لیکن وہ غالی نہیں تھے۔ معاویہؓ کے بارے میں ان کا معروف مؤقف یہ تھا کہ وہ ان کی فضیلت بیان کرنے میں احتیاط کرتے تھے اور اس معاملے میں عذر خواہی بھی نہیں کرتے تھے۔
پھر امام ذہبی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ:
ابو عبدالرحمن السلمی بیان کرتے ہیں کہ میں امام حاکم کے پاس ان کے گھر گیا۔ اس وقت وہ گھر میں محصور تھے اور مسجد نہیں جا سکتے تھے، کیونکہ کرامیہ کے بعض افراد نے ان کا منبر توڑ دیا تھا اور انہیں باہر نکلنے سے روک رکھا تھا۔
میں نے ان سے کہا:
“اگر آپ اس شخص (یعنی حضرت معاویہ) کی فضیلت میں ایک حدیث ہی بیان کر دیں تو لوگ آپ کو چھوڑ دیں گے اور یہ آزمائش ختم ہو جائے گی۔”
تو امام حاکم نے جواب دیا:
“نہیں، میرا دل اس کی اجازت نہیں دیتا۔” (لا يجيء من قلبي)
اس واقعے کا پس منظر
نیشاپور میں اس زمانے میں کرامیہ فرقہ کافی طاقتور تھا۔
امام حاکم پر الزام تھا کہ وہ حضرت علیؑ کی فضیلت زیادہ بیان کرتے ہیں اور حضرت معاویہ کی فضیلت میں روایات نقل نہیں کرتے۔
کرامیہ چاہتے تھے کہ وہ حضرت معاویہ کی فضیلت میں احادیث بیان کریں تاکہ ان پر لگنے والا اعتراض ختم ہو۔
امام حاکم نے محض دباؤ سے بچنے کے لیے ایسی روایت بیان کرنے سے انکار کیا، اور کہا کہ “میرے دل سے یہ بات نہیں نکلتی۔”