Recommended articles
عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی علیہ السلام کے مختصر فضائل اور کمالات
July 28, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
الإمام الحسن بن علي العسكري عليه السلام

حضرت امام حسن عسکری ؑ کی وجہ سے حدیث کو موضوع قرار دیا (معاذالله)

July 6, 2026
0
0

ہمارے بھائیوں کی طرف سے اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ بھی ائمہ اہلبیت علیہم السلام سے محبت اور ان کی پیروی کرتے ہیں۔ لیکن جب تحقیق کی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ حدیث میں نا صرف یہ کہ ان کو قابل اعتماد نہیں سمجھتے بلکہ ان کی حدیث کو موضوع تک قرار دیتے ہیں۔

اس کی کئی مثالیں آپ کو برادران اسلامی کی کتب سے مل جائیں گی مثلاً امام ابن تیمیہ نے منہاج السنہ میں، علامہ ابن جوزی نے الموضوعات میں، علامہ ذھبی نے میزان الاعتدال اور الکاشف میں، علامہ حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں اور علامہ جلال الدین سیوطی نے الآلی مصنوعة میں ایسے اقوال اور احادیث نقل کی ہیں۔

ہم بطور نمونہ علامہ ابن جوزی کی کتاب الموضوعات سے حضرت امام حسن عسکری ؑ کی ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس کو علامہ ابن جوزی نے حضرت امام حسن عسکری ؑ کی وجہ سے موضوع قرار دیا ہے۔

الحَدِيث الثَّانِي فِي ذكر حسن فَاطِمَة عَلَيْهَا السَّلَام: أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْبَزَّازُ أَنْبَأَنَا الْقَاضِي أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْمُهْتَدِي حَدَّثَنَا أَبُو الْفَرَجِ الْحَسَنُ ابْن أَحْمد حَدثنَا عبد الله بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ شَاذَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ الْحَمَّالُ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ صَاحِبِ الْعَسْكَرِ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدِ بن على حَدَّثَنى بى عَلِيِّ بْنِ مُوسَى الرِّضَا حَدَّثَنِي أَبِي مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي

أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابر بن عبد الله قَالَ قَالَ رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلامُ وَحَوَّاءَ تَبَخْتَرَا فِي الْجَنَّةِ وَقَالا مَا خَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا أَحْسَنُ مِنَّا، فَبَيْنَمَا هُمَا كَذَلِكَ إِذَا هُمَا بِصَورَةِ جَارِيَةٍ لَمْ يَرَ الرَّاءُونَ أَحْسَنَ مِنْهَا، لَهَا نُورٌ شَعْشَعَانِيُّ يَكَادُ يُطْفِئُ الأَبْصَارَ، عَلَى رَأْسِهَا تَاجٌ وَفِي أُذُنَيْهَا قِرْطَانِ، فَقَالا يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْجَارِيَةُ؟ قَالَ صُورَةُ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ سَيِّدَةِ وَلَدِكَ، فَقَالَ مَا هَذَا التَّاجُ عَلَى رَأْسِهَا؟ قَالَ هَذَا بَعْلُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.

قَالَ: فَمَا هَذَا الْقِرْطَانِ؟ قَالَ ابْنَاهَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وُجِدَ ذَلِكَ فِي غَامِضِ عَلِمْيِ قَبْلَ أَنْ أخلفك [أَخْلُقَكَ] بِأَلْفَيْ عَامٍ “.

هَذَا حَدِيث مَوْضُوع وَالْحسن بن عَليّ صَاحب الْعَسْكَر هُوَ الْحسن بن عَليّ بن مُحَمَّدِ بن مُوسَى بن جَعْفَر أَبُو مُحَمَّد العسكري آخر من تعتقد فِيهِ الشِّيعَة الْإِمَامَة.

روى هَذَا الحَدِيث عَن آبَائِهِ وَلَيْسَ بشئ.

ترجمہ: “دوسری حدیث حسن فاطمہ ؑ سے متعلق ہے، ہم سے ابوبکر محمد بن ابی طاہر بزار نے بیان کیا، انھوں نے قاضی ابوالحسین بن مہتدی ہے، انھوں نے ابو الفرج بن احمد سے، انھوں نے گیارہویں امام حسن بن علی ؑ صاحب عسکر (عسکری) سے، انھوں نے (دسویں امام ) علی بن محمد ؑ سے، انھوں نے (نویں امام محمد بن علی ؑ سے ، انھوں نے (آٹھویں امام ) علی بن موسیٰ ؑ سے، انھوں نے (ساتویں امام موسی بن جعفر ؑ سے، انھوں نے (چھٹے امام جعفر بن محمد ؑ سے، انھوں نے پانچویں امام محمد بن علی ؑ سے اور انھوں نے جابر بن عبد الله سے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا:
خدا نے آدم ؑ اور حوا کو جب خلق کیا تو انھوں نے جنت میں بڑے فخر سے کہا: ہم سے بہتر کسی کو خدا نے خلق نہیں کیا ہے مگر اسی وقت ان کی نظر ایسے حسین چہرے پر پڑی جس سے بہتر انھوں نے نہیں دیکھا تھا، اس سے ایسا نور ساطع تھا جس سے آنکھیں خیرہ ہو رہی تھیں، اس کے سر پر تاج اور کانوں میں گوشوارے تھے، آدم و حوا نے کہا: اے پروردگار ! یہ کون ہے؟ جواب ملا: یہ تمھاری اولاد کی سردار فاطمہ بنت محمد ؑ کا چہرہ ہے، پوچھا ان کے سر پر تاج کیسا ہے؟ جواب ملا: یہ ان کے شوہر علی بن ابی طالب ؑ ہیں سوال کیا: دونوں گوشوارے کیسے ہیں؟ ارشاد الہی ہوا: یہ ان کے بیٹے حسن ؑ و حسین ؑ ہیں انھیں تمھاری خلقت سے دو ہزار سال قبل خلق کیا ہے۔
مصنف ( ابن جوزی) کہتا ہے کہ یہ حدیث جعلی ہے کیونکہ اس کے راوی (گیارہویں امام ) حسن بن علی صاحب عسکر (عسکری) ہیں جن کی امامت کے شیعہ قائل ہیں، اس حدیث کی انھوں نے اپنے آبا و اجداد سے روایت کی ہے مگر اس کا کوئی اعتبار نہیں”.

(الموضوعات، ج ۱، ص ۲۱۵، ۲۱۶)

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
بیبی لبابہ بنت عبید اللہ سلام اللہ علیہا
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions