حضرت عبد اللہ بن عمر کے نزدیک یزید کی بیعت توڑنا جائز نہ تھا
واقعہ حرا کے بعد جب مدینہ کے لوگ یزید کی بیعت توڑنے لگے تو حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنه شدید برہم ہوئے۔ فرمانے لگے ہم نے تو یزید کی بیعت اللہ اور رسول کے نام پر کی تھی۔ اب اُسکی بیعت کو توڑنا یقیناً دین سے غداری ہے۔ اور پھر آپ ایک حدیث سنانے لگے کہ بیشک جو اپنے امام کی بیعت کے بغیر مرا وہ جاہلیت کی موت مرا۔ اور تم لوگ نہ فقط اُس امام کی بیعت کو توڑ رہے ہو بلکہ اُس سے جنگ کے لیے بھی آمادہ ہو۔ میں سمجھتا ہوں اِس سے بڑھ کر دین خدا سے غداری اور کوئی شے نہیں ہو سکتی۔ روزِ قیامت اللہ کے سامنے اپنی بچاؤ کے لیے کچھ نہ کر سکو گے۔ جان رکھو یزید کی بیعت توڑنے والے سے میرا کوئی تعلق نہیں:)
