کیا اللہ عزوجل امامؑ کی زیارت کے لیے آتا ہے؟

بعض افراد شیعہ کتب میں موجود ایک روایت پیش کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ شیعہ اللہ تعالیٰ کے لیے حرکت، آنے جانے یا کسی مقام پر حاضر ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
جس روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:
“تزوره الملائكة ويزوره الله”
اس کے بارے میں خود شارح نے واضح کیا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا حقیقی طور پر آنا یا کسی جگہ منتقل ہونا مراد نہیں۔
مزید یہ کہ اسی صفحے پر اس روایت کے متعلق واضح طور پر لکھا گیا ہے:
“الحديث الثالث: مجهول.”
یعنی:
“تیسری حدیث سند کے اعتبار سے مجہول ہے۔”
لہٰذا یہ روایت نہ سنداً معتبر ہے اور نہ اس سے شیعہ عقیدہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔
مکتبِ اہلِ بیتؑ کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مکان، جہت، حرکت، انتقال اور جسمانیت سے منزہ ہے۔ ایسی تعبیرات اگر معتبر بھی ہوں تو انہیں قرآن کے محکم اصول ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ظاہری جسمانی معنی پر۔
حوالہ:
شرح أخبار الرسول، علامہ مجلسیؒ، جلد 18، کتاب الحج، باب فضل الزيارات وثوابها، ص 306۔ (حدیث نمبر 3: مجہول)