قاتلِ امام حسین ع یزید سُنی ہی نہیں بلکہ اہل سنت کا چھٹا خلیفہ امام اور معتبر شخصیت (حصہ ١)
یزید فاسق ، قاتل امام حسینؑ اور بدکردار انسان تھا اس کا مذہب سُنی تھا اس بات کو خود اہل سنت علماء نے تسلیم کیا کہ یزید کا تعلق اہلسنّت و الجماعت سے تھا جیسا کہ
♨️ اہلسنّت کے حنفی عالم مولانا اخوند در ویزہ لکھتے ہیں :
” پس یزید کافر نبود بلکہ مسلمان سنی بود۔”
ترجمہ: یزید کافر نہیں تھا بلکہ سنی مسلمان تھا۔
حوالہ : [ شرح قصیدہ امالی ، صحفہ ١٦ ]
♨️ وہابی عالم حافظ صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں : ” اہلسنّت کا مذہب ہے کہ لعنت کرنا سوائے کافر کے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے یزید کافر نہیں سنی مسلمان تھا۔”
حوالہ : [ رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا، صحفہ ۵٧ ]
یزید سنی تو تھا ہی یہ ساتھ اہل سنّت کا چھٹا خلیفہ و امام بھی تھا ۔ اہلسنّت کی صحیح کتب میں حدیث ہے کہ
♨️ حضورﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد ١٢ امیر، امام و خلیفہ ہونگے ان میں اہلسنت نے یزید بن معاویہ ملعون کو اپنا چھٹا امام و خلیفہ تسلیم کیا ہوا ہے۔
حوالہ : [ سلسلہ احادیث صحیحہ، جلد ٢، صحفہ ٧١٣ ]
: [ سیرت النبیؐ، جلد ٣، صحفہ ۴۴٩ ]
: [ شرح فقہ اکبر عربی ، صحفہ ٢٠٦ ]
: [ فتح الباری شرح صحیح بخاری عربی ، جلد١٣ ، ص ٢١۴ ]
: [ منہاج السنة النبویة ، جلد الثامن ، ص ٢٣٨ ]
: [ یزید بن معاویہ ، صحفہ ٩ ]
اہل سنت و الجماعت کے خلیفہ دوم کے صاحبزادے ابن عمر سانحہ کربلا و حرہ کے واقعہ کے بعد بھی یزید بن معاویہ ملعون کا دفاع کرتے نظر آئے موصوف یزید بن معاویہ کی بیعت توڑنے والوں کے بارے فرماتے ہیں کہ جس نے یزید کی بیعت توڑی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں رہے گا بخاری شریف کی صحیح سند روایت ہے کہ
♨️ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص ( یزید ) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔
حوالہ : [ صحیح بخاری شریف ، روایت ٧١١١١ ]
صرف یہی نہیں ایک اورروایت میں ابن عمر یزید بن معاویہ بیعت توڑنے والے سے فرمایا کہ جس نے بیعت توڑی وہ جاہلیت کی موت مرا ۔ مسلم شریف میں صحیح سند روایت ہے کہ
♨️ زید بن محمد نے نافع سے روایت کی ، انھوں نے کہا : یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں جب حرہ کے واقعے میں جو ہوا سو ہوا تو حضرت عبداللہ بن عمر عبداللہ بن مطیع کے پاس گئے ، اس نے کہا: ابوعبدالرحمن (حضرت ابن عمر کی کنیت) کیے گدا بچھاؤ ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں اس کیلئے تمہارے پاس نہیں آیا ، میں تمہارے پاس ( صرف ) اس لیے آیا ہوں کہ تم کو ایک حدیث سناؤں جو میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے ( مسلمانوں کے حکمران کی ) اطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنےاس حال میں حاضر ہوگا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو گی اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی ( مسلمان حکمران ) کی بیعت نہیں تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔‘‘
حوالہ : [ صحیح مسلم شریف ، روایت ۴٧٩٣ ]
♨️ دارلعلوم دیوبند (تبلیغی جماعت ) نے یزید کو رحمتہ الله علیہ لکھنے کا فتویٰ دے دیا۔
سوال : کیا یزید کو ہم رضی اللہ عنہ کہہ سکتے ہیں؟
آن لائن فتویٰ لنک
www.darulifta-deoband.org/viewfatwa.jsp?ID=6134
جواب: 6134
(فتویٰ: 997/1082=D-1429
سلف (ماضی کے علماء) سے روایتی طور پر ثابت ہے کہ “رضی اللہ عنہ” صحابہ کے لیے لکھا اور بولا جاتق ہے اور “رحمۃ اللہ علیہ” غیر صحابہ جیسے تابعین وغیرہ کے لیے لکھا اور بولا جاتا ہے، اس لیے یزید کے لیے “رحمۃ اللہ علیہ” یہ کہنا کوئی حرج نہیں ہے۔
اللہ بہتر جانتا ہے۔
♨️ اہلحدیث عالم حافظ صلاح الدین یوسف لکھتے ہیں کہ جہاں تک یزید کو ” رحمتہ الله علیہ ” یا ” رحمہ الله ” کہنے کا تعلق ہے تو یہ صرف جائز بلکہ مستحب (اچھا فعل) ہے بلکہ وہ از خود ہماری ان دعاؤں میں شامل ہے جو ہم تمام مسلمانوں کی مغفرت کیلئے کرتے ہیں کہ ” یااللہ! تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے” اس لیے کہ یزید بھی یقیناً مومن تھا۔
حوالہ : [ رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا ، صحفہ ٦٣ ]
نوٹ : اس سے ثابت ہوا کہ یزید نہ صرف سُنی تھا بلکہ اہلسنّت کا چھٹا خلیفہ اور امام بھی تھا اور اہلسنّت کے بڑوں نے نہ صرف اس کا دفاح کیا اس پر لعنت کو ناجائز قرار دیا بلکہ ساتھ اس کو ” رحمتہ الله علیہ ” یا ” رحمہ اللہ ” لکھنے کو جائز اور ثواب جانا ۔ شیعہ کو یزیدی کہنے والے والوں کے اپنے بڑے یزیدی نکلے ۔۔ آج تک کسی ایک شیعہ عالم نے نہ یزید کا دفاح کیا اور نہ ایسی فضیلتیں دی ہیں جو اہلسنّت علماء نے اپنے اجداد یزید بن معاویہ ملعون کو دی ہیں۔
