امام حسین ع پر حملہ کرنے والا صحابی مسروق بن وائل
ایام محرم الحرام کے آتے ہی جہاں شیعہ نواسے رسولؐ کا غم کرتے ہوئے ان کی یاد کو تازہ کرتے ہیں اور دنیا کو بلاتے ہیں کہ کیسے ان پاک گھرانے کو شہید کیا گیا ۔ وہی دشمن عزاداری و دشمن اہلبیتؑ شیعہ پر الزام لگاتے ہیں کہ شیعیوں نے دھوکہ دیا کوفی شیعہ تھے انہوں نے امام حسین ع کو شہید کیا ۔ مگر جب قاتلین امام حسین ع کی حقیت بیان کی جاتی ہے تو پھر اس بات کا رونا رو دیا جاتا ہے شیعہ اصحاب کی توہین کرتے ہیں آج ہم ایک شخص کے بارے بیان کریں گئےجو امام حسین ع پر حملہ کرنے میں آگے آگے تھا اور وہ صحابیِ رسول ﷺ بھی تھا ۔
🍁مسروق بن وائل ان سواروں میں آگے آگے تھا جنہوں نے حسین علیہ السلام پر حملہ کیا تھا ۔ کہتا ہے میں اس لیے آگے آگے تھا کہ شاید حسین کا سر مجھے مل جائےکہ ابن زیاد کی نظر میں میری منزلت ہو ۔ مسروق روز عاشورا لشکر عمر بن سعد میں تھا ۔ اس امید سے کہ امام حسین ؑ کا سر اسے نصیب ہو اور وہ عبید اللہ ابن زیاد کے نزدیک اعلی مقام حاصل کر سکے عمر سعد کے گھڑسوار لشکر میں سب سے آگے تھا اس نے امام حسینؑ اور ابن حوزہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سنا اور امام حسین نے ابن حوزہ کو بد دعا دی اس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا، تو مسروق نے میدان جنگ سے کنارہ کشی اختیار کی اور کہا میں نےاس خاندان میں وہ چیزیں دیکھی ہیں کہ اب میں ان سے کبھی نہیں جنگ کروں گا ۔
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد ۴ – صفحہ ٢١۴ ، ٢١۵ ]
مسروق بن وائل کو اہلسنت امام ابن الاثیر ، ابن حجر عسقلانی اور امام حافظ شمس الدین ذھبی نے اصحاب کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
🍁امام عزالدين بن الأثير نے حضرت مسروق بن وائل حضرمی کو صحابی لکھا ہے ۔ حضر موت کے وفد کے ساتھ حضور اکرم ص کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا ابو عمر نے مختصرا ان کا ذکر کیا ہے ۔
حوالہ : [ اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ – جلد ٨ – صفحہ ١٧٨ ]
🍁حافظ علامہ ابن حجر عسقلانی نے بھی اسے اصحاب کی لسٹ میں شامل کیا ہے مزید اس کے بارے لکھتے ہیں : حضرت موت کے ایک وفد میں نبی کریم کے پاس تشریف لائے تھے اور اسلام قبول کیا ۔ ابو عمر نے بھی مختصر ا ان کا تذکرہ کیا ہے۔ اور ابن سکن نے باقی طریق کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ سلیمان بن عمرو انصاری ضحاک بن نعمان بن سعید سے روایت کرتے ہیں کہ مسروق بن وائل نبی کریم ص کے پاس آئے تھے ۔
حوالہ : [ الاصابہ فی تمیز الصحابہ – جلد ۵ – صفحہ ۴١٨ ]
🍁 حافظ شمس الدین ذھبی نے بھی مشروق بن وائل کو صحابی کہا ہے حضرت مسروق بن وائل حضرمی – حضر موت کے وفد کے ساتھ حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کے ابو عمر نے مختصرا ان کا ذکر کیا ہے۔
حوالہ : [ تجرید اسماء الصحابة – جلد ١ – صفحہ ٧٢ ]
