امام حسین ع کو خطوط لکھنے والے کوفی ( سلیمان بن صرد، مسیب بن نخیہ ، حبیب ابن مظاہر ) اور ان کی شہادت
حافظ ابن حجر نے کہا : جب معاویہ نے وفات پائی اور ان کے بعد یزید مسند خلافت پر متمکن ہوا تو اہل کوفہ نے امام حسین سے خط و کتابت کی کہ وہ تو ان کی اطاعت کریں گے نہ کہ یزید کی ، پس امام حسین ع کوفہ والوں کی طرف روانہ ہو گئے لیکن ان سے پہلے عبید اللہ بن زیاد کوفہ پہنچ گیا اس نے اکثر لوگوں کو سید حسین رضی اللہ سے دور کر دیا ، بعض لوگ رغبت کی وجہ سے اور بعض ڈر کی وجہ سے امام حسین کا ساتھ چھوڑ گئے اور ابن زیاد نے امام حسین ع کے چچا زاد سید نا مسلم بن عقیل رضی اللہ کو بھی قتل کر دیا، امام حسین ع نے لوگوں سے بیعت لینے کے لیے ان کو بھیجا تھا ، پھر ابن زیاد نے ایک لشکر تیار کیا اور امام حسین ع سے جنگ شروع کر دی، یہاں تک کہ نواسئہ رسول اور ان کے اہل بیت کے کافی افراد شہید ہو گئے۔
حوالہ : [ مسند احمد بن حنبل – جلد١١ – صفحہ ٦٩٨ ]
امام حسین کو کوفہ آنے کی دعوت : بسم اللہ الرحمن الرحیم ! حسین بن علی علی ان کو سلیمان بن صرد، مسیب بن لجبہ، رفاعہ بن شداد اور حبیب بن مظاہر اور کوفہ کے شیعہ مومنین مسلمین کی طرف سے ۔ سلام علیک ! ہم لوگ حمد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی جس کے سوا کوئی سزاوار اور پرستش نہیں ہے ۔
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد ۴ – صفحہ ١۵١ ]
امام حسینؑ کو خط لکھنے والے ان اشخاص کا تعارف اور شہادت :
سلیمان بن صرد :
امام ابن حجر عسقلانی ، امام ابن الاثیر اور ابن عماد حنبلی نے انہیں اصحاب رسول ص کہا اور ان کے بارے مزید فرماتے ہیں :
حضرت سلیمان بن صرد کا نام یسار تھا جو نام نبیؐ نے تبدیل کر دیا صفین میں حضرت علیؑ کا ساتھ دیا اور حوشب کو مبارزت میں قتل کیا ۔ پھر ان لوگوں میں شامل ہو گئے جنہوں نے حضرت حسینؑ سےخط وکتابت کی لیکن بعد میں انکا ساتھ نہ دیا۔ اسکے بعد وہ اور مسیب بن نخبہ دوسرے لوگوں کے ساتھ آپکے خون کا مطالبہ کرنے نکلے ان لوگوں کی تعداد چار ہزار تھی۔ یہ ربیع الثانی ٦۵ کا واقعہ ہے قتل کے وقت سلیمان کی عمر ٩٣ سال تھی سلیمان کو یزید بن الحصین بن نمیر نے ایک تیر مارا تھا جس سے فوت ہو گئے پھر ان کا اور مسیب بن نخیہ کا سر مروان کے پاس بھیج دیا۔
حوالہ : [ تمیز صحابہ – جلد ٢ – صفحہ ۴٦٠ – رقم ٣۴۵٨ ]
: [ تقریب التہذیب – ابن حجر – صفحہ ۲۸۶ – رقم ۲۵۷۴ ]
: [ شذرات الذھب – جلد ۱ – صفحہ ۲۹۰ ]
عبداللہ المقان اور ابن طاوس رقم طراز ہیں کہ حضرت سلیمان بن صرد خزاعی کو عبید اللہ ابن زیاد نے جیل میں ڈال دیا تھا اور وہاں سے یزید کی موت کے بعد نکلے مورخین نے یہ بھی لکھا ہےکہ سلیمان جیسے لوگ مسلم بن عقیل کی مدد اسلئے نہ کر پائے کہ وہ جیل میں بند تھے اور اسی وجہ سے وہ کربلا نہ پہنچے مسیب ابن نخبہ ، رفاعة شداد اور ابراہیم بن مالک الاشتر بھی قیدیوں میں شامل تھے۔
مسیب بن نخیہ :
امام ابن حجر عقسلانی نے انہیں تابعین ( خیر القرون ) میں قرار دیا انہوں نے حذیفہ اور حضرت علی ع سے روایات بیان کی ۔ انہوں نے امام حسین ع کا بدلنے لینے قیامِ مختار میں ساتھ دیا اور عبید اللہ بن زیاد کی فوج کے ساتھ خونریز معرکہ ہوا جس میں سلیمان بن صرد اور مسیب بن نجبہ عین الورد نامی مقام پر شہید ہوئے ۔ مسیب بن نخیہ کا سر مروان کے پاس بھیج دیا۔
حوالہ : [ الاصابہ فی تمیز الصحابہ – صفحہ ١۴١٦ جلیل القدر صحابی حبیب ابن مظاہر :
حضرت حبیب ان افراد میں شامل تھے ۔ جنھوں نے سب سے پہلے امام حسینؑ کو کوفہ آنے کی دعوت دی حبیب حضرت مسلم کے بہترین حامی تھے اور مسلم بن عوسجہ کیساتھ مل کر حضرت مسلم بن عقیل کے لیے لوگوں سے بیعت لیتے تھے لیکن جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کے بعد اہل کوفہ کی بے وفائی کیوجہ سے ان کے قبیلہ والوں نے مجبوراً ان دونوں(حبیب اور مسلم بن عوسجہ) کو مخفی کر دیا لیکن جونہی حبیب بن مظاہر کو امام حسین علیہ السلام کے کربلا پہنچنے کی خبر ملی تو رات کے وقت سے فائدہ اٹھا کرحضرت ؑ سے جاملے حالت یہ تھی کہ دن کو مخفی ہو جاتے اور رات کو سفر کرتے یہاں تک کہ اپنی دلی آرزو کو پا لیا۔
عاشور جب امام ؑ نے لشکر عمر بن سعد سے نماز ادا کرنے کی خاطر جنگ بندی کے لیے کہا توایک ملعون نے گستاخی کرتے ہوئے کیا کہ تمہاری نماز قبول نہیں ہوگی ( نعوذباللہ ) اس وقت حضرت حبیب سے برداشت نہ ہوا اور فوراً یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے : اے گدھے ! تیرے خیال باطل میں آل پیغمبرؐ کی نماز قبول نہیں؟! اور تمھاری نماز قبول ہے اس طرح دونوں کامقابلہ ہوا حبیب نے اس ملعون کو زمین پرگرادیا پھر باقاعدہ رجز پڑھتے ہوئے وارد میدان ہوئے شدید جنگ کی دشمن کے کئی افراد کو واصل جہنم کیا لیکن ایک تیمی شخص نے تلوار کاوار کیا جس کی تاب نہ لاکرآپ شہید ہو گئے اس نے آپ کے سر کو جدا کر لیا اسی سر کو بعد میں گھوڑے کی گردن میں باندھ کر کوفہ میں پھرایا گیا ۔
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد ۴ – صفحہ ٢٢٠ ]
: [ الاعلام – زرکلی – جلد ٢ – صفحہ ١٦٦ ]
