جناب یونس نبی علیہ السلام نے ولایت امیر المومنین علیہ کا انکار کیا؟؟؟ ؟؟؟
ابن معروف نے سعدان سے، انہوں نے صباح مزنی سے، انہوں نے حارث بن حصیرہ سے، انہوں نے حبہ عرنی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:
بے شک اللہ تعالیٰ نے میری ولایت کو آسمانوں والوں اور زمین والوں پر پیش کیا، تو جس نے اسے قبول کیا اس نے قبول کر لیا، اور جس نے انکار کیا اس نے انکار کر دیا۔ حضرت یونسؑ نے اس کا انکار کیا، تو اللہ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیا یہاں تک کہ انہوں نے اس کا اقرار کر لیا۔
جواب👇

جواب👇
⚜️ اور ابو حمزہ ثمالی کی حدیث میں ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں:
عبداللہ بن عمر، امام زین العابدینؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے فرزندِ حسینؑ! کیا آپ وہی ہیں جو یہ فرماتے ہیں کہ یونس بن متیؑ کو مچھلی کی طرف سے جو کچھ پیش آیا، وہ اس وجہ سے تھا کہ ان پر میرے جدّ کی ولایت پیش کی گئی تو وہ اس میں ٹھہر گئے (توقف کیا)؟
امامؑ نے فرمایا: ہاں، تیری ماں تجھ پر روئے!
اس نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو اس کی کوئی نشانی مجھے دکھائیں۔
پس امامؑ نے حکم دیا کہ میری اور اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جائے، پھر کچھ دیر بعد حکم دیا کہ آنکھیں کھولی جائیں، تو ہم نے خود کو سمندر کے کنارے پایا، جہاں لہریں ٹکرا رہی تھیں۔
ابنِ عمر نے کہا: اے میرے سردار! میری جان آپ کی ذمہ داری میں ہے، خدا کا واسطہ میری جان کا خیال رکھیں۔
امامؑ نے فرمایا: اچھا، اگر تم سچے ہو تو اسے دکھاتا ہوں۔
پھر فرمایا: اے مچھلی!
تو ایک بہت بڑی مچھلی نے سمندر سے اپنا سر نکالا، گویا ایک عظیم پہاڑ ہو، اور عرض کیا: لبیک، لبیک اے ولیِ خدا!
امامؑ نے فرمایا: تو کون ہے؟
اس نے کہا: میں یونسؑ کی مچھلی ہوں، اے میرے آقا!
امامؑ نے فرمایا: ہمیں خبر سنا۔
اس نے کہا: اے میرے آقا! اللہ تعالیٰ نے آدمؑ سے لے کر آپ کے جد محمدؐ تک کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا مگر اس پر آپ اہلِ بیتؑ کی ولایت پیش کی۔ جس نے اسے قبول کیا وہ سلامت رہا اور نجات پا گیا، اور جس نے اس میں توقف کیا اور اسے اٹھانے میں تردد کیا، اسے وہی پیش آیا جو آدمؑ کو لغزش، نوحؑ کو غرق، ابراہیمؑ کو آگ، یوسفؑ کو کنواں، ایوبؑ کو آزمائش اور داؤدؑ کو خطا کے طور پر پیش آیا۔
یہاں تک کہ اللہ نے یونسؑ کو بھیجا، تو اللہ نے ان کی طرف وحی کی: اے یونس! امیرالمؤمنین علیؑ اور ان کی نسل سے آنے والے ہدایت یافتہ اماموں کی ولایت اختیار کرو۔
انہوں نے کہا: میں کیسے اس کی ولایت اختیار کروں جسے نہ دیکھا ہے اور نہ پہچانا ہے؟ اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے۔
تو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی کہ یونس کو نگل لو لیکن اس کی کوئی ہڈی نہ توڑنا۔
پس وہ میرے پیٹ میں چالیس دن رہے، سمندروں کی تاریکیوں میں گھومتے رہے اور پکارتے رہے:
“لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين”
(تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ظالموں میں سے تھا)
اور (آخرکار) انہوں نے علی بن ابی طالبؑ اور ان کی اولاد میں سے ہدایت یافتہ اماموں کی ولایت کو قبول کر لیا۔
پس جب وہ تمہاری ولایت پر ایمان لے آئے تو میرے رب نے مجھے حکم دیا، چنانچہ میں نے انہیں سمندر کے کنارے پر اُگل دیا۔
امام زین العابدینؑ نے فرمایا: اے مچھلی! اپنے ٹھکانے کی طرف لوٹ جا۔
پس پانی اپنی حالت پر آ گیا۔
📚 مناقب آل ابی طالب، ابن شہر آشوب، ج 3، ص 281
پھر بھی اگر اس کے ظاھر کو دیکھ کر قبول کرنا ہے
تو یہ روایت خبر واحد ہیں جب کہ عصمت انبیاء متواتر ہیں
اس کی.سند بھی ضعیف ہے


جیسا کہ علامہ مجلسیؒ نے اس روایت کے تحت (سبز نشان کے ساتھ) وضاحت فرمائی ہے:
یعنی اللہ کے نبی حضرت یونس علیہ السلام نے اس ولایت کا انکار اُس طرح نہیں کیا جیسے ناصبی (جو اہلِ بیتؑ کی ولایت کا دشمن ہو) انکار کرتا ہے، بلکہ انہوں نے اسے مکمل طور پر اس انداز سے قبول نہیں کیا جس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان حضرات (اہلِ بیتؑ) کے ذریعے استشفاع اور توسل اختیار کرتے۔