Recommended articles
تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 4
June 10, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام

عربی زبان میں ”مولیٰ“ کے معانی کیا ہیں نیز حدیث غدیر میں لفظ مولیٰ کس معنی میں استعمال ہوا ہے …؟

June 5, 2026
0
0

 

❗عربی لغت کے لحاظ سے لفظ ”مولیٰ“ کے سولہ معانی ہیں:

ا: مالک ، ۲: رب ، ۳: مُعْتِقُ (آزاد کرنے والا) ؛ ۴: مُعْتَق (آزاد شده) ؛ ۵: همسایه و پڑوسی ؛ ٦: خلف و قدام (یعنی پیچھے والا اور سامنے والا) ؛ ۷: تابع و پیروکار ؛ ۸: ضامن جریره (یعنی وہ شخص کہ جس کے ساتھ قسم کے ذریعہ وعدہ کیا گیا ہو) ؛ ۹: داماد ؛ ۱۰: چچا کا بیٹا ؛ ١١: مُنعِم (نعمت عطا کرنے والا) ؛ ۱۲ : مُنْعَم (جس کو نعمت عطا کی گئی ہو) ؛ ۱۳: محب اور دوست ؛ ۱۴: ناصر و مددگار ؛ ۱۵: آقا و سردار ؛ ۱۶: اولی بالتصرف یعنی تمام أمور میں تصرف کا حق رکھنے والا ۔

جب بھی کسی جملہ میں متعدد معانی رکھنے والا لفظ استعمال ہو تو اسکے صحیح معنی کی شناخت کیلئے لفظی یا عقلی قرائن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے،
لہٰذا مشہور و معروف اور متواتر حدیث غدیر “من کنت مولاه فهذا علی مولاہ“ میں بھی لفظ” مولیٰ” کے صحیح معنی کی شناخت کیلئے انہی قرائن کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ لفظ مولیٰ کے ذکر شدہ معانی میں سے پہلے بارہ معانی ، حدیث غدیر میں لفظ مولیٰ کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتے اور نہ ہی مذکورہ حدیث سے انکا کوئی تعلق ہے البتہ تیرہواں اور چودھواں معنی یعنی دوست اور مددگار حدیث غدیر سے مناسبت ضرور رکھتا ہے لیکن ……!

اول: کوئی ایسا لفظی یا عقلی قرینہ موجود نہیں ہے جس سے واضح ہو کہ حدیث غدیر میں یہی معنی (یعنی دوست اور مددگار ) مراد لیا گیا ہے۔

دوم: یہ دو معانی صرف رسولِ خدا ﷺ اور حضرت علیؑ کے ساتھ مختص نہیں بلکہ تمام مومنین کے درمیان مشترک ہیں یعنی تمام مومنین آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں جیسا کہ قرآن مجید نے ارشاد فرمایا:
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ … (سورہ توبه – آیت 71)
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور ولی ہیں۔

سوم: ایسے قطعی اور یقینی قرائن موجود ہیں جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حدیث غدیر میں دوست و مددگار کے معنی مراد نہیں ہیں بلکہ اس حدیث میں پندرہواں اور سولہواں معنی ( یعنی سید و سردار اور انسان کے تمام امور میں تصرف کا حق رکھنے والا) ہی مراد ہیں، جو دونوں تقریباً ایک ہی مفہوم بیان کرتے ہوئے حضرت علیؑ کی ولایت و امامت پر دلالت کرتے ہیں …

ذیل میں اُن لفظی و عقلی قرائن کو بیان کیا جاتا ہے جن سے مذکورہ مطلب کی تائید ہوتی ہے۔

✨ لفظی قرائن :

1: سب سے پہلا قرینہ رسول اکرمؐ کا وہ سوالیہ جملہ ہے جو آپؐ نے غدیرِخم کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے حضرت علیؑ کی ولایت و امامت کے اعلان سے پہلے ادا فرمایا اور پوچھا:

“الست اولی بكم من أنفسكم”
کیا میں تم لوگوں پر تمہاری جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں …؟

سب نے مل کر جواب دیا:
بلی یا رسول اللّہ ﷺوآلہ! آپؐ یہ حق رکھتے ہیں

پھر آپؐ نے فرمایا :
من كنت مولاه …
(📖 مستدرک حاکم، کتاب معرفة الصحابه، ج 3، صــ 533 / اسد الغابه، ابنِ الأثیر، ج 1، صــ 367 / إنساب الأشراف، بلاذری، صــ 111)

پس آپؐ کا یہ سوالیہ جملہ واضح لفظی قرینہ ہے کہ “من کنت مولاہ” کے اعلان میں مولیٰ سے آپؐ کی مراد وہی آخری معنی ہے کہ جو حضرت علیؑ کی خلافت و امامت پر دلالت کرتا ہے وگرنہ “ألست أولى بكم من أنفسكم” کے جملہ کے بعد “من کنت مولا” کے اعلان میں کوئی اور معنی مراد لینا عربی استعمال اور فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے غلط ہے۔
(📖 ینابیع المودۃ، قندوزی، ج 1، صــ 347)

2: دوسرا قرینہ جناب عمر بن خطاب کا یہ قول ہے جو انہوں نے حضرت علیؑ کی ولایت کے اعلان کے فورا بعد کہا:

بخ بخ لك يابن أبي طالب، أصبحت مولاي ومولى كل مؤمن ومؤمنة

اے أبو طالبؑ کے بیٹے تجھے مبارک ہو مبارک ہو، آپؑ میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے مولیٰ بن گئے ..
(📖 شواهد التنزیل،حسکانی، ج 1، صــ 200 / البداية والنهاية، ابن كثير، ج 7، صــ 386 / حدیث غدیر خم؛ سیر اعلام النبلاء، ذهبي، ج 19، صــ 328 / تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، ج 8، صــ 284 / تاريخ مدينة دمشق، ابن عساکر، ج 42، صــ 233 / ينابيع المودة، قندوزی حنفی، ج 2، صــ 249 / المناقب، خوارزمی، صــ 156، فصل 14)

اہل سنت کے بعض معتبر علماء نے واضح اقرار کیا ہے کہ: حضرت عمر کے اس کلام میں مولیٰ کا معنی ولی (سرپرست) ہے۔
(📖 النھایة فی غریب الحديث والأثر، ابن الأثير، ج 5، صــ 228)

3: تیسرا قرینہ اُسوقت کے مشہور عرب شاعر اور رسولِ خدا ﷺوآلہ کے صحابی حضرت حسان بن ثابت کا غدیرِخم کے بارے میں وہ قصیدہ ہے جو شیعہ و سنی مؤرخین کے نزدیک مشہور ہے اور جس کا ایک شعر یہ ہے:

فقال له قم يا علي فانني رضيتك من بعدي اماما وهاديا

پس آپؐ نے علیؑ سے فرمایا:
اے علیؑ کھڑے ہو جاؤ میں اس بات پر راضی ہوں کہ تم میرے بعد امام اور ہادی ہو ….
(📖 مناقب آل أبی طالبؑ، ابن شهر آشوب، ج 2، صــ 220 / شواهد التنزيل، حاکم حسکانی، ج 1، صــ 202 / المناقب، خوارزمی، فصل 14، صــ 136)

پس اس سے معلوم ہوا کہ غدیرِخم کے موقع پر موجود حسان بن ثابت کی طرح باقی افراد نے بھی “من کنت مولاہ” کے اعلان سے حضرت علیؑ کے اولی بالتصرف ہونے کو ہی سمجھا ہے کہ جس سے آپؑ کی امامت و خلافت مراد ہے۔

4: چوتھا قرینہ پیغمبرِ اکرمؐ کا وہ واضح فرمان ہے جس میں آپؐ نے حضرت علیؑ سے فرمایا:

أنت امام كل مومن ومؤمنة بعدي وولي كل مؤمن ومؤمنة بعدي
”اے علیؑ تم میرے بعد ہر مومن اور مومنہ کے امام اور ولی ہو۔

اسی طرح اہل سنت کے بہت سے معتبر علماء نے کئی ایسی روایات بیان کی ہیں جن میں پیغمبرِ اکرمؐ کے بعض اصحاب نے رسولِ خدا ﷺوآلہ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت علیؑ کی شکایت کرنا چاہی تو آپؐ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپؐ نے حدیث غدیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :

لا تقل هذا فهو (علي) أولى الناس بكم بعدي
يہ بات (یعنی علیؑ پر اعتراض) مت کرو، جان لو کہ وہ (علیؑ) میرے بعد تمہارے درمیان لوگوں سے میں سب سے اولی ہیں۔
(📖 المعجم کبیر، طبرانی، ج 22، صــ 135 / مجمع الزوائد، هیثمی، ج 9، صــ 109 / كنزالعمال، متقی هندی، ج 11، صــ 613 / فيض القدير، مناوی، ج 4، صــ 471، حرف العين)

اسی طرح رسولِ خدا ﷺوآلہ نے اپنے ایک صحابی سے پوچھا:
”اے برید! کیا میں مومنین کے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ؟
میں نے کہا: ہاں! یا رسول اللّہ ﷺوآلہ
پس آپؐ نے فرمایا :
جس کا میں مولیٰ ہوں پس اُس کا علیؑ بھی مولیٰ ہے،
بے شک میرے بعد تمہارے درمیان لوگوں میں سے سب سے اولیٰ علی ہیں”۔

5: قرآن مجید کی آیت ”بلغ“ پر غور کرنے سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ غدیر کے اعلان میں مولیٰ سے مراد دوست نہیں ہے،
جیسا کہ خداوند نے ارشاد فرمایا:
{ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلَغُ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ } ….(سورہ المائدہ – آیت 67)

اے رسولؐ! جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اُسے پہنچا دیں، اور اگر ایسا نہ کیا پس گویا آپ نے خدا کے کسی پیغام کو نہیں پہنچایا ۔

اہل سنت کے بہت سے معتبر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد جب رسولِ خدا ﷺوآلہ نے غدیر کے مقام پر حضرت علیؑ کی ولایت کا اعلان فرمایا تو اسی دن یہ آیت نازل ہوئی جس میں خداوند نے ارشاد فرمایا:
﴿ الْيَوْمَ الْمَلتُ لَكُمْ دِينَكُمْ } … (سورہ المائدہ – آیت 3)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا …

اس کے بعد خاتم الانبیاء نے فرمایا:
الله اکبر علی اکمال الدين، واتمام النعمة، ورضي الرب برسالتي، والولاية لعلي من بعدي.

6: اہل سنت مفسرین نے بیان کیا ہے کہ جب پیغمبرِ اکرمؐ نے حضرت علیؑ کی ولایت کا اعلان فرمایا تو حارث بن نعمان فہری نے حضرت علیؑ کی ولایت کا انکار کیا اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے عذاب کا مطالبہ کیا تو اللّہ تعالیٰ کی طرف سے اُس پر عذاب نازل ہوا اور اس کی مذمت میں یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
سَاَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ .. (سورہ المعارج – آیت 1)
واقع ایک سوال کرنے والے نے واقع ہونے والے عذاب کا سوال کیا۔

اہل اسلام کی معتبر تفاسیر میں مذکورہ آیات کے شان نزول سے بھی یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ مولیٰ سے مراد اولی بہ تصرف ہے اور یہ معنی امامت و خلافت کے منصب کی طرف رہنمائی ہے۔

7: بعض معتبر اہل سنت علماء نے بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علیؑ نے مسجد کوفہ کے منبر پر کھڑے ہو کر مہاجرین و انصار کو قسم دی کہ جس جس نے غدیرِخم کے دن رسولِ خدا ﷺوآلہ کا میرے بارے میں اعلان سنا ہے وہ کھڑا ہو کر گواہی دے، جس کے نتیجہ میں تیس صحابہ کرام (جن میں ۱۲ بدری صحابی تھے) نے کھڑے ہو کر گواہی دی کہ اُس دن رسولِ خدا ﷺوآلہ نے آپؑ (حضرت علیؑ) کا بازو تھام کر بلند کیا اور فرمایا:

اتعلمون اني اولى بالمؤمنين من أنفسهم؟
قالوا بلى يارسول الله السلم
“کیا تم جانتے ہو کہ میں مؤمنین پر ان کے نفوس سے زیادہ حق رکھتا ہوں ؟
سب صحابہ نے کہا: ہاں یا رسول اللّہ ﷺوآلہ، پھر پیغمبرِ اکرمؐ نے آپؑ (حضرت علیؑ) کا ہاتھ تھام کر بلند کیا اور فرمایا:
من كنت مولاه فعلي مولاه”

واضح ہے کہ اگر غدیر کے اعلان میں مولیٰ سے مراد دوست ہوتا تو حضرت علیؑ کا رسولِ اکرمؐ کے أصحاب کو قسم دے کر گواہی لینا فضول تھا اور اس صورت میں” من کنت مولاہ فعلی مولاہ” کے فرمان سے حضرت علیؑ کی کوئی فضیلت ثابت نہ ہوتی تھی کیونکہ تمام مسلمان اور مومن آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور بھائی ہیں۔

8 : بہت سے اہل سنت مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ اعلان غدیر کے بعد رسولِ خدا ﷺوآلہ نے حضرت علیؑ کے لیے ایک مخصوص خیمہ نصب کروایا اور پھر اپنے تمام صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حضرت علیؑ کی بیعت کریں۔

پس ان تمام قرائن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غدیر میں حضرت علیؑ کی امامت اور ولایت کا اعلان ہوا تھا۔

چهارم: عقلی طور پر یہ بات ہرگز قابل قبول نہیں ہے کہ رسولِ خدا ﷺوآلہ، حضرت علیؑ کی دوستی کے اعلان کیلئے اپنے اصحاب کی ایک کثیر تعداد کو عرب کے گرم صحرا میں ظہر کے وقت عین گرمی کی شدت کے عالم میں روک لیں، وہاں سے آگے نکل جانے والوں کو واپس بلائیں اور پیچھے رہ جانے والوں کے آنے کا انتظار کریں اور جب تمام اصحاب جمع ہو جائیں تو اونٹوں کے پلانوں کا منبر بنا کر ایک طویل خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد حضرت علیؑ کا بازو تھام کر بلند کریں اور پھر یہ تاکید بھی فرمائیں کہ فليبلغ الشاهد الغائب ”جو حاضر ہیں وہ دوسرے لوگوں تک بھی یہ پیغام پہنچائیں”۔

کیا کوئی عاقل شخص اس بات کو قبول کرے گا کہ رسولِ اکرمؐ یہ حضرت علیؑ کی (دوستی) کے ایسے عام اور سادہ سے اعلان کیلئے اتنا اہتمام کریں گے ؟؟؟!!
جبکہ اس سے پہلے قرآن مجید میں واضح اعلان بھی ہو چکا ہو کہ ہر مومن دوسرے مومن کا دوست ہے ..

اور کیا یہ ممکن ہے کہ حضرت علیؑ کی صرف (دوستی) کے اعلان پر دوسرے خلیفہ اتنے پُرجوش ہو جائیں کہ سب سے آگے بڑھ کر “بخ بخ” (یعنی مبارک ہو، مبارک ہو ) کہہ کر حضرت علیؑ کو مبارکباد دیں … ؟؟؟؟؟

ان تمام عقلی قرائن سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ “من کنت مولاہ فعلی مولاہ” کے اعلان سے، پیغمبرِ اکرمؐ کی مراد حضرت علیؑ کی امامت و خلافت کا اعلان تھا اور اُسوقت تمام حاضرین ( اصحاب ) نے بھی آپؐ کے اس اعلان سے یہی معنی سمجھا تھا۔

پنجم : اہل سنت کے معتبر حنفی عالم نے لفظ ”مولیٰ“ پر تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے :

رسولِ خدا ﷺوآلہ کے فرمان “من کنت مولاہ فعلی مولاہ” میں مولیٰ سے مراد معاشرے کی ولایت و سر پرستی کے مسئلہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے؛
پھر لکھتے ہیں:
امیر المؤمنین کی امامت کا مسئلہ منصوص ہے اور اس بارے میں نبی اکرمؐ کا قول نص ہے یعنی صریح و آشکار ہے جس میں ابہام اور مجاز گوئی کا کوئی إحتمال نہیں ہے ۔
(📖 تذکرۃ الخواص، ابن جوزی، صــ 29-30)

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
حدیث غدیر کی اہمیت اور اسنادی حیثیت
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)28
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات5

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions