Recommended articles
تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 4
June 10, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام

حدیث غدیر کی اہمیت اور اسنادی حیثیت

June 5, 2026
0
0

حدیثِ غدیر ھمارے ھاں نہایت اہمیت کی حامل ھے بلکہ ھمارے مکتب کی اصل و اساس یہی حدیث ھے جس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ھے اور علامہ امینی کی الغدیر کے بعد کچھ لکھنے کی مزید گنجائش نھیں لیکن اس کار ثواب میں شامل ھونے اور مولا علیؑ کے حق میں گواہی دینے والوں کی فہرست میں نام درج کروانے کی خاطر چند سطور اس حدیث کی اہمیت اور اسنادی حیثیت کے عنوان سے سپردِ قرطاس کر رھا بوں تاکہ بروز حشر یہ میرے نامہ اعمال کی زینت بن سکیں ۔
واقعہ غدیر اور حدیث غدیر من جملہ ان حقائق میں سے ھیں جو عند الفریقین مسلم و مقبول ھیں ھم ان دونوں پر اختصار کیساتھ تذکرہ کریں گے لہذاع حدیث کی اسنادی حیثیت سے قبل اس واقعہ کا مختصر میں ذکر کرنا ضروری ھے :

💠 واقعہ غدیر کا اجمالی پس منظر :

جب حضرت نبی اکرم ﷺوآلہ 10 ہجری میں حجۃ الوداع سے واپس پلٹ رھے تھے اور کم و بیش ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ کرام آپ ﷺوآلہ کے بمراہ تھے تب 18 ذی الحج بروز جمعرات مکہ و مدینہ کے درمیان مقام غدیرِ خم پر پہنچتے ھی جنابِ جبرائیلؑ امین خدا کی جانب سے وحی لیکر نازل بوئے جس مقام کے متعلق جنابِ زید بن ارقم فرماتے ھیں :

قام رسول الله يوما فينا خطيبا بماء يدعى، ، خما ، ، بين مكة والمدينة

نبي کریم ﷺوآلہ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک پانی کے تالاب کے کنارے کھڑے ھو کر ھمیں خطاب فرمایا ..
📚 ( صحیح مسلم باب فضائل علی بن ابی طالب ، جلد ۲ صفحه ۲۷۹، طبع افضل المطابع ، دہلی )

در اصل حضرت جبرائیلؑ اس مقام پر سورہ المائدہ کی آیت 67 لیکر نازل ھوئے تھے جس میں خدا وند منان نے ارشاد فرمایا :

يَاتِهَا الرَّسُولُ بَلِغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ لَا یَهْدِي الْقَوْمَ الْكَفِرِينَ

اے رسولؐ ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ھے اسے پہنچادیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللّہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللّہ آپ کو لوگوں ( کے شر ) سے محفوظ رکھے گا، بیشک اللّہ کافروں کی رہنمائی نھیں کرتا ۔

اسی آیتِ مجیدہ کے شان نزول کے متعلق علامہ بدرالدین عینی لکھتے ھیں کہ حضرت امام محمد باقرؑ کا ارشاد ھیکہ :

آیت مبارکہ بلغ ما انزل الیک حضرت مرتضٰیؑ کی فضیلت میں نازل ھوئی ھے پس جب یہ آیت نازل ھوئی تو حضورِ اکرم ﷺوآلہ نے حضرت علیؑ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا :

من کنت مولاہ فعلی مولاہ

جس کا میںؐ مولا و آقا ھوں اسکے علیؑ مولا آقا ھیں …
📚 ( عمدۃ القاری شرح بخاری جلد ۸ صفحه ۵۸۴ مطبوعه قسطنطینیہ )

اسی طرح علامہ موصوف اس آیت مبارکہ کے نزول کے بارے میں لکھتے ھیکہ حضرت ابوسعید خدری سے مروی ھیکہ :

یہ آیت یا ایھا الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك ،

روز غدیر خم حضرت علی مرتضٰیؑ کی شان میں نازل ھوئی ھے
📚 ( عمدۃ القاری جلد ۸ صفحه ۵۸۴ )

یہ واقعہ غدیر کے متعلق انتہائی اجمالی بیان تھا جسمیں بعد از رسول اللّه ﷺوآلہ حضرت امام علیؑ کی سرپرستی و حاکمیت کا اعلان تھا ،

💠 اب اسکی اسنادی حیثیت کے بارے میں بھی مختصر گفتگو پیش خدمت ھے …!

🔸 حدیثِ غدیر متواتر ھے :

حدیثِ غدیر کو فریقین کے علماء نے نقل کیا ھے اور یہ من جملہ ان احادیث میں شمار ھوتی ھے جسکے متواتر ھونے پر تمام اہلِ اسلام کا اتفاق ھے ،

اور حدیثِ متواتر اسے کہا جاتا ھے جسکو ھر طبقے میں راویوں کی اتنی کثیر تعداد نقل کرے کہ ان سب کا جھوٹ پر جمع ھونا محال ھو …

اب اگر روایت کے الفاظ میں اتحاد ھو تو اسے “متواتر لفظی” کہتے ھیں جیسے حدیث غدیر ،

اور اگر الفاظ مختلف ھوں مگر مفہوم و معنی میں یکسانیت پائی جائے اسکو “متواتر معنوی” کہتے ھیں جیسے حدیث ثقلین ۔

🔹 حدیثِ غدیر کے تواتر کو علماء اہل سنت نے تسلیم کیا ھے ذیل میں چند علماء کا ذکر کرتے ھیں :

علامہ شمس الدین الذہبی نے حدیث غدیر کے بارے میں لکھا ھے :

من كنت مولاه فعلی مولاه هذا حديث حسن عال جدا و متنه فمتواتر

جس کا میں مولا ھوں اسکے علیؑ مولا ھیں …

یہ حدیث انتہائی حسن عالی ھے اور اسکا متن متواتر ھے
📚 ( سیر اعلام النبلاء شمس الدین محمد بن احمد بن عثمان الذهبي جلد 8 ص 335 تحقیق و تخریج شعیب ارنؤوط مطبوعه مؤسية الرسالة )

علامہ آلوسی نے بھی علامہ ذہبی کے قول کو نقل کرتے ھوئے فرمایا :

وعن الذهبي ان من كنت مولاه فعلی مولاه متواتر يتيقن ان رسول الله قاله واما اللهم وال من والاه فزيادة قوية الاسناد

ذهبی کے نزدیک من کنت مولاہ ۔ ۔ ۔ حدیث متواتر ھے اور وہ یقین رکھتے ھیں کہ رسول اللّہ ﷺوآلہ نے ایسا فرمایا ھے البتہ “اللهم وال من والاه” یہ زیادتی ھے جو قوی الاسناد ھے ،

( یعنی یہ جملے قوی اسناد سے مروی ھیں لہٰذا یہ جعلی نھیں جیسا کہ ابن تیمیہ کا گمان فاسد ھے )
📚 ( روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثانی : علامہ ابو الفضل شهاب الدین السید محمود آلوسی ج 6 ص 195
اداره الطباعة المنيريه واحياء تراث العربي بيروت )

ابو عبد اللّہ محمد بن جعفر الکستانی نے اپنی کتاب
📚 ( نظم المتناثر من الحديث المتواتر ص 194 حدیث نمبر 232 دار الكتب السلفية للطباعة والنشر بمصر )
میں پچیس صحابہ کرامؓ سے اسکو نقل کیا اور اسکو بطور حدیث متواتر تسلیم کیا …

علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی کتاب
📚 ( قطف الازهار المتناثره في الاخبار المتواتره ص 277 حدیث نمبر 102 مطبوعه المکتب الاسلامی )
میں حدیثِ غدیر کو متواتر احادیث کے ضمن میں درج کیا ھے ۔

اہل سنت کی ان برجستہ اور علمی شخصیات کی عبارتیں اس بات کی شاہد ھیں کہ فرمانِ نبوی ﷺوآلہ “من کنت مولاہ فعلی مولا” کا تواتر کا درجہ رکھتا ھے ۔

💠 حدیثِ غدیر کے منکر کو اہل سنت محققین کا جواب :

اہل سنت میں ابن تیمیہ وہ فرد ھے جسنے اس حدیث کے آخر میں موجود کلمات
“اللهم وال من والاه وعاد من عاداہ”
کا انکار کیا اور انکو جعلی قرار دیا جیسا کی وہ خود اپنی کتاب منھاج السنہ میں لکھتے ھیں :

ان هذا اللفظ وهو قوله اللهم من وال والاه وعاد من عاداه انصر من نصره اخذل من خذله كذب با تفاق اهل المعرفة بالحديث

بیشک یہ الفاظ
“اللهم وال من والاه وعاد من عاداه و انصر من نصره والخذل من خذله”
حدیث کی معرفت رکھنے والوں کے اتفاق کے سبب جھوٹ ھیں …
📚 ( منهاج السنة النبوية في نقض كلام الشیعہ القدر یہ ابو العباس تقی الدین احمد بن عبد الحلیم المعروف ابن تیمیه تحقیق:
ڈاکٹر محمد رشاد عالم جلد 7 ص 55 طبع اول 1986ء )

گویا ابن تیمیہ یہ کہنا چاھتے ھیکہ جو شخص بھی علمِ حدیث کی معرفت رکھتا ھے وہ ان کلمات کے قولِ رسول ﷺوآلہ ھونے کا انکار کرے گا ،

حالانکہ حدیث کے ماہرین نے خود ابن تیمیہ کے ھی قول کو مردود قرار دیا اور اسکا شدید الفاظ میں رد کیا جیسا کہ ماہرین حدیث کے آفتاب ناصر الدین البانی نے لکھا ھے کہ :

فمن العجيب حقاً أن يتجرأ شيخ الإسلام على إنكار هذا الحديث وتكذيبه في منهاج السنة …
فلا أدرى بعد ذلك وجه تكذيبه للحديث إلا التسرع و المبالغة في الرد على الشيعة.

یہ تعجب حق ھیکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس حدیث کے انکار پر تجری کی ھے اور اپنی کتاب منھاج السنہ میں اس حدیث کی تکذیب کی ھے اسکے تواتر کے بعد مجھے اسکی تکذیب کی وجہ معلوم نھیں سوائے شیعہ کے رد میں جلد بازی اور مبالغہ آرائی کے ۔
📚 ( سلسلہ الاحادیث الصحیحہ علامہ محمد ناصر الدین الالبانی جلد 5 ص 263 مكتبه المعارف للنشر والتوازيع لصاحبها سعد بن عبد الرحمن ، الریاض )

اسی طرح اہلحدیث عالم صدیق الحسن بھوپالی حدیثِ غدیر کے متعلق اپنے رائے دیتے ھوئے اور منکرین کا رد کرتے ھوئے لکھتے ھیں :

لا شك ان هذا الحديث صحيح رواه جماعة منهم الترمذي والنسائي واحمد وطرقه كثيرة وروى من ستة عشر صحابيا و سبعه منه صلى الله علیه و آله و سلم اصحابه و شهدوا به لعلى عند النزاع الخلاف معه في ايام خلافته و اکثر اساتیده صحاح وحسان ولا التفات الى قول من تكلم في صحته ولا الى قول من قال ان زيادة الهم وال من والالا
موضوعة لانها وردت من طرق عديدة وصححها الذهبي كما قال ابن حجر المكي في الصواعق

اسمیں کوئی شک نھیں کہ یہ حدیث صحیح ھے اسکو محدثین کی ایک جماعت نے روایت کیا ھے انمیں امام ترندی ، نسائی ، امام احمد بن حنبل شامل ھیں اس حدیث کی بہت اسناد ھیں اور اسے سولہ صحابہ سے روایت کیا گیا ھے اسکو رسول اللّہ ﷺوآلہ سے انکے صحابہ نے سنا ھے اور حضرت علیؑ کے ایامِ خلافت میں ان سے نزاع و اختلاف کرنے والوں پر صحابہ نے اس حدیث سے استشہاد کیا اور اس حدیث کی اکثر اسناد صحیح و حسن درجہ کی ھیں ،
لہٰذا اسکی صحت میں اشکال کرنے والے کی بات کو توجہ نھیں دی جائے گی اور نہ ھی اس شخص کے قول کیطرف التفات کی جائے گا جو ” اللهم وال من والاه ” کو جعلی کہتا ھے ،
کیونکہ یہ متعدد طرق سے وارد ھوا بے اور علامہ ذہبی نے اسکو صحیح فرمایا ھے ،
جیسا کہ علامہ ابن حجر ہیتمی نے اپنی کتاب صواعق المحرقہ میں کہا ھے ۔
📚 ( الدین الخالص صدیق حسن قنوچی ج 3 ص 308 طبع دار الكتب العلمیة بیروت )

نیز علامہ ابن حجر مکی نے اسکے رد میں لکھا کہ :

وقول بعضهم ان زيادة ” وال من والاه الخ موضوعة ، مردودة ، فقد ورد ذلك من طرق صحح الذهبي كثيرا منها

اور بعض لوگوں کا یہ قول کہ
“وال من والاہ کی زیادتی جعلی ھے”
مردود ھے کیونکہ یہ بہت سے طرق سے وارد ھوا ھے جنمیں کثیر طرق کو ذھبی نے صحیح قرار دیا ھے
📚 ( الصواعق المحرقة على اہل الرفض والضلال والزندقہ : ابو العباس احمد بن محمد المعروف ابن حجر مکی بیستمی ص 107 مطبوعہ دار الوطن ریاض سعودیہ )

🔰 خلاصه بحث :

حدیثِ غدیر عند الفریقین ثابت ھے اور متواتر کے درجہ کی حامل ھے جس سے انکار صرف مکابرہ ھے ،
اور یہی وہ حدیثِ مبارکہ ھے جو حضرت علیؑ کی خلافتِ بلا فصل پر دلیلِ قاطع ھے ،
اسی لئے ھمارے اہلِ سنت بھائیوں کو اسکی سند اور حجیت میں جب گفتگو کی گنجائش نہ مل سکی تو اسکی معنوی تحریف کے درپے ھوئے اور حدیث کے سیاق و سباق کے بلکل مخالف معنی کر کے اپنی مکتب کے نظریہ کا دفاع کیا ….

جبکہ بغیر تکلف کے اسی حدیث کے سیاق و سباق سے اسکی درست معنی کی نشاندھی ھو جاتی ھے جس سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچتا ھے کہ :

بعد از رسول اللّه ﷺوآلہ حضرت علی مرتضٰیؑ آپکے جانشینِ بر حق ھیں اور امتِ محمدی ﷺوآلہ پر حاکمیتِ شرعی رکھتے ھیں ۔

خدا وند عالم ھمیں حق کو تسلیم کرنے اور پھر اسپر عمل پیرا ھونے کی توفیق عطاء فرمائے الٰہی آمین
___
🔍 تحقیق:
قبلہ نعیم عباس نجفی

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
کیا عیدِ غدیر کی بنیاد 350 سال بعد رکھی تھی؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)28
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات5

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions