سلسلہ حدیث غدیر روایت # 5

سلسلہ حدیث غدیر روایت # 5
التماس سورہ فاتحہ صفدر حسین اعوان بن غلام محمد رحمھما اللہ
جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں: امیر المؤمنین علی بن ابی طالب ؑنے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثناء کی، پھر فرمایا: اے لوگوں، تمہارے اس منبر کے سامنے رسول اللہ ﷺ کے چار أصحاب کا ایک گروہ ہے، ان میں انس بن مالک، براء بن عازب انصاری، اشعث بن قیس کندی اور خالد بن یزید بجلی ہیں، پھر انہوں نے انس بن مالک کی طرف رخ کیا اور فرمایا: اے انس، اگر تم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا: جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی ؑمولا ہیں، پھر آج تم میری ولایت کے گواہ نہیں ہو تو تمہیں اللہ موت نہ دے جب تک تمہیں کوڑ کی بیماری میں نہ مبتلا کردے جس کو عمامہ بھی نہ چھپا سکے۔ اور رہی بات تمہاری اے اشعث، تو اگر تم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا: جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی ؑمولا ہیں، خدایا اس کو دوست رکھ جو اس کو دوست رکھے اور اس سے دشمنی کر جو اس سے دشمنی کرے، پھر تم آج میری ولایت کے گواہ نہیں ہو تو اللہ تمہیں موت نہ دے جب تک تمہاری دونوں آنکھوں کی بینائی لے جائے۔ اور رہی بات تمہاری اے خالد بن یزید، تو اگر تم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا: جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علیؑمولا ہیں، خدایا اس کو دوست رکھ جو اس کو دوست رکھے اور اس سے دشمنی کر جو اس سے دشمنی کرے، پھر تم آج میری ولایت کے گواہ نہیں ہو تو اللہ تمہیں جاہلیت کی موت ہی مارے۔ اور رہی بات تمہاری اے براء بن عازب، تو اگر تم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا: جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی ؑمولا ہیں، خدایا اس کو دوست رکھ جو اس کو دوست رکھے اور اس سے دشمنی کر جو اس سے دشمنی کرے، پھر تم آج میری ولایت کے گواہ نہیں ہو تو اللہ تمہیں موت نہ دے سوائے وہاں جہاں سے تم ہجرت کرکے آئے ہو۔
1: امالی للشیخ الصدوق رح ۔ مجلس 26، حدیث 1 صفحہ 184
2: الخصال للشیخ الصدوق رح ، باب 4، حدیث 44، صفحہ 219