Recommended articles
تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 4
June 10, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

شیعہ کتب میں ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ امام حسین علیہ السلام کے……. کا بوسہ لیا

May 13, 2026
0
0

نَوادر الراوندی میں اپنی سند کے ساتھ امام موسیٰ بن جعفرؑ سے، وہ اپنے آباء (اجداد) سے روایت کرتے ہیں کہ امام علیؑ نے فرمایا:

“بے شک نبی کریم ﷺ نے امام حسین بن علیؑ کے عضوِ خاص کو بوسہ دیا، اور ان کی ران (اوپری حصہ) سے کپڑا ہٹایا، پھر کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا۔”

الجزء : ( 1 ) – رقم الصفحة : ( 236 )

منقول من كتاب النوادر للراوندي

– الجعفريات ، أخبرنا : محمد ، حدثني : موسى ، حدثنا : أبي ، عن أبيه ، عن جده جعفر بن محمد ، عن أبيه ، عن آبائه ، عن علي (ع) : أن النبي (ص) قبل زب الحسين بن علي بن أبي طالب (ع) كشف عن أربيته ، وقام فصلى من غير أن يتوضأ.

یہ روایت صاحب نوادر نے جعفریات سے نقل کی ہیں جو خود مشکوک ہیں

سبب ضعف الرواية : أبو الحسن موسى بن اسماعيل بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب – مجهول.

محمد الجوهري – المفيد من معجم رجال الحديث

رقم الصفحة : ( 624 )

12728 – 12724 – 12753 – موسى بن اسماعيل : مجهول – له كتاب – روى في التهذيبين – طريق الشيخ اليه ضعيف – وهو موسى بن اسماعيل بن موسى بن جعفر.

*

السيد الخوئي – معجم رجال الحديث

الجزء : ( 20 ) – رقم الصفحة : ( 19 )

12753 – موسى بن اسماعيل : موسى بن اسماعيل بن موسى بن جعفر ، قال النجاشي : موسى بن اسماعيل : له كتاب جوامع التفسير ، وله كتاب الوضوء ، روى هذه الكتب محمد بن الأشعث ، وقال الشيخ

( 722 ) : موسى بن اسماعيل ، له كتاب الصلاة ، وكتاب الوضوء ، رواهما عنه محمد بن الأشعث ، وله كتاب جوامع التفسير ، وطريق الشيخ إليه مجهول.

اس کی سند میں بھی اشکال ہیں

ہمارے معتبر طرق میں سے نہیں ہے، کیونکہ اس کی اصل کتاب اشعثیات ہے، اور اس کتاب میں موجود شاذ (غیر معمولی و کمزور) روایات کا حال معلوم ہے (قاموس الرجال، جلد 2، صفحہ 120)۔ نیز اس کے مؤلف محمد بن محمد بن اشعث اُن لوگوں میں سے تھے جو مصر میں مقیم رہے اور مخالفین کے ساتھ میل جول رکھتے تھے، اور انہوں نے اپنی کتاب میں وہ روایات بھی شامل کیں جو عامہ (اہل سنت) نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہیں (رجال النجاشی، صفحہ 379)۔
اور یہ روایت عامی (اہل سنت کی) ہے، جسے تم ان کے مصادر میں پاؤ گے، جیسے طبرانی کی المعجم الکبیر (جلد 12، صفحہ 108) میں ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:
“میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے امام حسینؑ کی رانیں کھولیں اور ان کے عضو (شرمگاہ) کو بوسہ دیا۔”

🚫کیا حضرت ابو بکر کی خلافت پر امت کا اجماع نہیں تھا اور کیا اس کاروائی میں مولا علی علیہ السلام شامل نہیں تھے؟؟

📜ام المومنین بی بی عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال فرمایا اس وقت حضرت ابو بکر مقام سخ (مسجد نبوی سے ایک میل کا فاصلہ) میں تھے۔ آپ نے آکر خطبہ دیا کہ جو محمد کی عبادت / پوجا کرتا تھا بلاشبہ وہ جان لے کہ محمد وفات پاگئے ۔

📚(صحیح بخاری/انٹرنیشنل نمبرنگ : 1241۔ 1242)

📜انکو اطلاع ہوئی کہ لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں امارت کیلئے جمع ہوئے ہیں توحضرت ابوبکر و عمر اور ابوعبیدہ بن جراح (رسول ﷺ کی تکفین و تدفین چھوڑ کر) انکے پاس چلے گئے۔۔۔
حضرت ابو بکر نے کہا ہم امراء اور تم وزراء ہو۔ حباب بن منذر نے کہا بخدا ہم ایسا نہیں کرینگے ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے ۔۔۔
ابو بکر نے کہا ہم ایسا نہیں کر سکتے لیکن ہم امیر ہونگے کیونکہ قریش تمام عرب سے افضل ہیں گھر اور حسب کے اعتبار سے، تم عمر یا ابوعبیدہ کی بیعت کرلو ۔۔۔
عمر نے کہا ہم تمہاری بیعت کرتے ہیں اس لئے کہ تم ہم سب میں افضل اور رسول ﷺ کو زیادہ محبوب ہو حضرت عمر نے ابو بکر کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کرلی کسی نے کہا تم نے حضرت سعد بن عبادہ کو ہلاک کر دیا ہے عمر نے کہا انکو اللہ نے بلاک کر دیا ہے (سعد بن عبادہ نے عمر کی داڑھی پکڑ لی تب عمر نے کہا اگر اسکا ایک بال بھی بیکا ہوا تو تمہارا ایک دانت بھی نہ رہے گا)

📚(صحیح بخاری/انٹرنیشنل نمبرنگ : 3668)
📚(تاریخ طبری ، جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 35)
📚(مصنف ابن ابی شیبہ /انٹرنیشنل نمبرنگ : 38201)

📜حضرت عمر نے کہا حضرت ابوبکر کی بیعت تو اچانک ہو گئی تھی اور پھر وہ چل گئی۔ بات یہ ہے کہ بیشک حضرت ابوبکر کی بیعت ناگاہ ہوئی اور اللہ نے ناگہانی بیعت میں جو برائی ہوئی ہے اس سے تم کو بچائے رکھا۔۔۔
حضور اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو ابوبکر بھی ہم میں سے سب سے بہتر تھے البتہ انصار نے ہماری مخالفت کی تھی اور وہ سب لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو گئے تھے۔ اسی طرح ” علی” اور زبیر اور ان کے ساتھیوں نے بھی ہماری مخالفت کی تھی .

📚(صحیح بخاری/انٹرنیشنل نمبرنگ : 6830)

📚(کنزالعمال /انٹرنیشنل نمبرنگ :14134)

📖نسخ ذلك و لعنة الله على كل اجماع يخرج عنه على ابن أبي طالب ومن بحضرته من الصحابة…

📝ترجمہ “صحابہ کے اس اجماع پر اللہ کی لعنت ہو جس میں حضرت علی علیہ السلام موجود نہ ہوں”

📚(کتاب المحلی، ابن حزم / جلد نمبر 9 صفحہ نمبر 345)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

📖قسم اللہ کی ہم نہیں دیتے حکومت اس شخص کو جو اس کی درخواست کرے اور جو اس کی حرص کرے۔

📚(صحیح مسلم/انٹرنیشنل نمبرنگ : 4717)

✍🏻حضرت ابو بکر کی خلافت کو اجماع کہنے والے ثابت کریں کہ سقیفہ میں سب صحابہ متفق ہو گئے تھے اور بغیر لڑائی جھگڑے کے انھیں خلیفہ منتخب کر لیا گیا تھا ، روایات سے یہ بات ظاہر ہے کہ سقیفہ میں صحابہ کے کئی گروہ بن گئے تھے اور سبھی کا آپس میں اختلاف تھا ، حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کو لوگوں پر مسلط کر دیا اور مولا علی علیہ السلام کا گروہ جو رسول اللہ ﷺ کے حقیقی جانشین تھے وہ اس مشورے میں شامل ہی نہیں تھے۔۔۔ اب جبکہ واضح حدیث موجود ہے کہ جس اجماع میں علی نہ ہو اس اجماع پر لعنت ہو ، تو پھر بغیر علی کے اس سقیفائی اجماع کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟؟؟
اور پھر کیا تدفین رسول ﷺ چھوڑنا وہ بھی خلافت کی حرص میں ، باطل نہیں ٹھہرا فرمان رسول اللہ ﷺ کے مطابق۔۔۔؟

🕊️☘️امام رضاؑ کو “انیسُ النفوس” کیوں کہا جاتا ہے

عارفِ کامل الشيخ حسن علي مرواريد الطهرانيؒ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں :

🍁تمام معصومینؑ نبیِ اکرمؐ سے لے کر الإمام الحسن العسكريؑ تک جب کوئی زائر ان کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو وہ اس وقت اس پر توجہ فرماتے ہیں جب زائر خود بھی دل سے متوجہ ہو یعنی جتنا انسان خلوص اور توجہ کے ساتھ ان کی طرف رخ کرتا ہے اسی قدر وہ بھی اس پر عنایت فرماتے ہیں
> 🌹🫀لیکن الإمام علي بن موسى الرضاؑ کی ایک خاص خصوصیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ “وہ زائر کے آنے سے پہلے ہی اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اسے اپنی طرف کھینچتے ہیں اور اس کے دل کو اُنس و سکون عطا کرتے ہیں یہاں تک کہ اگر انسان ابتدا میں غافل یا بے توجہ بھی ہو تب بھی وہ اسے اپنی طرف مائل کر لیتے ہیں ۔۔۔ اسی لیے آپؑ کو انیسُ النفوس ( دلوں کو اُنس دینے والے روحوں کو سکون بخشنے والے ) کہا جاتا ہے” 🫀🌹🥰

🧏🏻‍♂️❗یہ لقب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ امام رضاؑ کی ذات میں ایک خاص روحانی کشش اور تاثیر ہے جو انسان کے دل کو نرم کرتی ہے اور اسے اپنی بارگاہ کی طرف جذب کر لیتی ہے ،🫀🌹
🌹 اَللّٰهُــمَ صَّــلِ عَــلَى مُحَمَّــدٍوََآلِ مُحَمَّــدٍوَّعَجِــل فَّرَجَهُــم🌹

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد
امامؑ کو یہ علم نہیں تھا کہ قصاب (ذبح کرنے والے) ذبیحہ پر تسمیہ (بسم اللہ) پڑھتے ہیں یا نہیں
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)28
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات5

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions