2 أئمه اہلِبیتؑ پر اہلسنت علمائے رجال کی جرح
حضرت امام حسن عسکریؑ کی وجہ سے حدیث کو موضوع قرار دینے کا دوسرا حوالہ
ہم نے اس سے پہلے علامہ ابن جوزی کی کتاب “الموضوعات” سے حضرت امام حسن عسکریؑ کی ایک حدیث پیش کی جس پر ابن جوزی نے کہا:
هَذَا حَدِيث مَوْضُوع وَالْحسن بن عَليّ صَاحب الْعَسْكَر هُوَ الْحسن بن عَليّ بن مُحَمَّدِ بن مُوسَى بن جَعْفَر أَبُو مُحَمَّد العسكري آخر من تعتقد فِيهِ الشِّيعَة الْإِمَامَة.
ترجمہ: “مصنف ( ابن جوزی) کہتا ہے کہ یہ حدیث جعلی ہے کیونکہ اس کے راوی (گیارہویں امام ) حسن بن علی صاحب عسکر (عسکری) ہیں جن کی امامت کے شیعہ قائل ہیں”۔
اتنے واضح عبارت کے بعد بھی بعض حضرات نے کمنٹس میں فرمایا کہ علامہ ابن جوزی نے اس حدیث کو حضرت امام حسن عسکریؑ کی وجہ سے موضوع قرار نہیں دیا۔
اسی حدیث کو (جس کو علامہ ابن جوزی نے نقل کیا ہے) علامہ جلال الدین سیوطی نے بھی اپنی کتاب اللالی المصنوعة” میں نقل کر کے حضرت امام حسن عسکریؑ کی وجہ سے موضوع قرار دیا ہے۔
أَبُو الْحُسَيْن) بِهِ الْمُهْتَدي بِاللَّه فِي فَوَائده أَنْبَأنَا أَبُو الْفرج الْحَسَن بْن أَحْمَد بْن عَليّ الْهَمدَانِي حَدَّثَنَا أَبُو عَبْد الله بْن مُحَمَّد بْن جَعْفَر بْن شَاذان حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن مهْرَان بْن جَعْفَر الرَّازِيّ بِحضرة أبي خَيْثَمَة حدَّثَنِي مولَايَ الْحَسَن بْن عَليّ صَاحب الْعَسْكَر حدَّثَنِي عَلِيّ بْن مُحَمَّد حدَّثَنِي أبي مُحَمَّد بْن عَلِيّ بْن مُوسَى الرضي حدَّثَنِي أَبي مُوسَى بْن جَعْفَر حدَّثَنِي أبي جَعْفَر بْن مُحَمَّد عَن أَبِيهِ مُحَمَّد بْن عَليّ عَن جَابِر بْن عَبْد الله مَرْفُوعا: لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ تَعَالَى آدَمَ وحواء تبختر فِي الْجَنَّةِ وَقَالا مَا خَلَقَ اللَّهُ خَلْقًا أَحْسَنَ مِنَّا فَبَيْنَمَا هُمَا كَذَلِكَ إِذْ هُمَا بِصُورَةِ جَارِيَة لم ير الراؤن أَحْسَنَ مِنْهَا لَهَا نُورٌ شَعْشَعَانِي يَكَادُ يُطْفِئُ الأَبْصَارَ عَلَى رَأْسِهَا تَاجٌ وَفِي أُذُنَيْهَا قُرْطَانِ فَقَالَ يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْجَارِيَةُ قَالَ صُورَةُ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ سَيِّدِ وَلَدِكَ فَقَالا مَا هَذَا التَّاجُ عَلَى رَأْسِهَا قَالَ هَذَا بَعْلُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ فَمَا هَذَانِ الْقُرْطَانِ قَالَ ابْنَاهَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ وُجِدَ ذَلِكَ فِي غَامِضِ عِلْمِي قَبْلَ أَنْ أَخْلُقَكَ بِأَلْفَيْ عَامٍ،
مَوْضُوع: الْحَسَن العسكري لَيْسَ بِشَيْء.
ترجمہ: ” ابوالحسن بن مہتدی باالله نے اپنے فوائد میں لکھا ہے کہ مجھ سے ابو الفرج بن احمد نے بیان کیا ہے انھوں نے گیارہویں امام حسن بن علی ؑ صاحب عسکر (عسکری) سے، انھوں نے (دسویں امام ) علی بن محمد ؑ سے، انھوں نے (نویں امام محمد بن علی ؑ سے ، انھوں نے (آٹھویں امام ) علی بن موسیٰ ؑ سے، انھوں نے (ساتویں امام موسی بن جعفر ؑ سے، انھوں نے (چھٹے امام جعفر بن محمد ؑ سے، انھوں نے پانچویں امام محمد بن علی ؑ سے اور انھوں نے جابر بن عبد الله سے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا:
خدا نے آدم ؑ اور حوا کو جب خلق کیا تو انھوں نے جنت میں بڑے فخر سے کہا: ہم سے بہتر کسی کو خدا نے خلق نہیں کیا ہے مگر اسی وقت ان کی نظر ایسے حسین چہرے پر پڑی جس سے بہتر انھوں نے نہیں دیکھا تھا، اس سے ایسا نور ساطع تھا جس سے آنکھیں خیرہ ہو رہی تھیں، اس کے سر پر تاج اور کانوں میں گوشوارے تھے، آدم و حوا نے کہا: اے پروردگار ! یہ کون ہے؟ جواب ملا: یہ تمھاری اولاد کی سردار فاطمہ بنت محمد ؑ کا چہرہ ہے، پوچھا ان کے سر پر تاج کیسا ہے؟ جواب ملا: یہ ان کے شوہر علی بن ابی طالب ؑ ہیں سوال کیا: دونوں گوشوارے کیسے ہیں؟ ارشاد الہی ہوا: یہ ان کے بیٹے حسن ؑ و حسین ؑ ہیں انھیں تمھاری خلقت سے دو ہزار سال قبل خلق کیا ہے۔
(اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد علامہ جلال الدین سیوطی صاحب لکھتے ہیں)
مگر یہ حدیث گھڑی ہوئی ہے کیونکہ یہ (امام) حسن عسکریؑ سے مروی ہے۔ جن کی (معاذالله) کوئی حیثیت نہیں ہے”.
(اللالی المصنوعه، ج ۱، ص ۳۹۵، ۳۹۶، باب مناقب اہلبیت)
ابھی تک ہم نے صرف دو حوالے بھیجے ہیں ورنہ اس پر اور بھی بہت سے حوالے موجود ہیں۔