کیا حضرت مسلم بن عقیلؑ سے جنگ کرنے والا عمرو بن حریث صحابیِ رسول تھا؟ ✨
ابن زیاد نے عمرو بن حریث مخزومی کو جو اسکا سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا ۔ عبدالرحمن اور محمد بن اشعث کے ساتھ ستر یا اسی سواروں کے ساتھ بھیجا اور حضرت مسلم کو پتہ بھی نہ چلا اور جس گھر میں آپ تھے اس کا محاصرہ ہو گیا پس وہ آپ کے پاس گئے تو آپ تلوار لے کر انکے پاس گئے اور تین بار انہیں گھر سے باہر نکال دیا اور آپ کا بالائی اور نچلا ہونٹ زخمی ہو گیا ۔ پھر وہ آپ کو پتھر مارنے لگے اور سرکنڈوں کی رسیوں میں آگ لگانے لگے۔ اور آپ کا دل ان سے تنگ ہو گیا تو آپ تلوار لے کر ان کے پاس گئے اور ان سے جنگ کی۔
حوالہ : [ البدایہ والنہایہ – جلد ہشتم – صفحہ ٢٠٢ ]
بن عمر و بن عثمان بن عبد اللہ بن عمرو بن مخزوم قرشی ، یہ اور ان کے والد صحابی ہیں۔ انہوں نے نبی کریم ، صدیق اکبر ، عمر، علی اور ابن مسعود سے روایت کی ہے۔ اپنے بھائی سعید بن حریث جو خود بھی صحابی ہیں، ان سے بھی روایت کرتے ہیں ۔ جبکہ ان سے ان کا بیٹا جعفر اور کوفہ کے دوسرے حضرات روایت کرتے ہیں جن میں سب سے کم سن فطر بن خلیفہ ہیں۔ زیاد اور اس کے بیٹے عبداللہ بن زیاد کی طرف سے کوفہ کے نائب بھی مقرر ہوئے تھے۔
حوالہ : [ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ – جلد ۴ – صفحہ ١٧۴ ]
الإمام عز الدين ابن الأثير ان کے بارے لکھتے ہیں حضرت عمرو بن حریث بن عمروبن عثمان بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم قریشی مخزومی۔ کنیت ان کی ابو سعید ہے انہوں نے نبی کے دیکھا تھا یہ سعید بن حریث کے بھائی تھے کوفہ میں رہتے تھے وہیں انہوں نے ایک گھر بنا لیا تھا ۔ یہ پہلے قریشی ہیں جنہوں نے کوفہ میں گھر بنایا تھا۔ انہوں نے نبی کے احادیث کی روایت کی ہے نبی نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کوخرید و فروخت میں دعا دی تھی چنانچہ انہوں نے بہت کمایا اور کوفہ میں یہ سب سے زیادہ مالدار تھے سب لوگ ان کے پاس آیا کرتے تھے اور ان پر اعتبار رکھتے تھے
حوالہ : [ أسد الغابة في معرفة الصحابة – جلد ھفتم – صفحہ ٦٩٣ ]
امام اہلسنت حافظ ذھبی لکھتے ہیں : عمرو بن حریث ان بقایا اصحاب رسول ص میں ست ہیں جو کوفہ میں مقیم ہوگئے تھے یہ صحابی ہیں اور پیغمبر اسلام سے روایت کی ہیں۔
حوالہ : [ سير أعلام النبلاء – صفحہ ٢٩۴۴ – رقم ۴٣٢١ ]
ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر لکھتے ہیں کہ : حضرت عمرو بن حریث بن عمروبن عثمان بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم قریشی مخزومی۔ کنیت ان کی ابو سعید ہے انہوں نے نبی کے دیکھا تھا ۔ نبی نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا اور ان کو خرید و فروخت میں دعا دی تھی چنانچہ انہوں نے بہت کمایا اور کوفہ میں یہ سب سے زیادہ مالدار تھے ۔
حوالہ : [ استیعاب فی معرفتہ الاصحاب – صفحہ ١١٧٢ ]
تبصرہ : ہر وقت کوفی اور شیعہ پر واویلا کرنے والوں کو علم ہی نہیں کہ کوفی کون تھے یہ صحابی رسولﷺ علی ع کے چاہنے والا نہیں تھا بلکہ یہ معاویہ و ابن زیاد کا بندہِ خاص اور اس کی پولیس کا سپرنٹنڈنٹ تھا جس شہر کی پولیس و فوج کا سربراہ ہی معاویہ و زیاد کا نمائندہ ہو اس کے ظلم کا الزام بھی شیعہ پر لگانے کی کوشش کی جاتی ہے
