✨ سیاہ لباس سنت ہے سیاہ لباس پہننے کا جواز کتب اہلسنت
شیعہ سیاہ پگڑی استعمال کرتے ہیں اور وہ اپنی مخصوص محافل و مجالس میں سیاہ لباس بالخصوص پہنتے ہیں۔ ماہ ِمحرم الحرام میں ان کی رسومات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شیعہ اس مہینہ کو بطور ِ سوگ مناتے اور ان کے عوام وخواص بالعموم سیاہ لباس پہنتے ہیں انکے بالمقابل اہل سنت علما و زعما جب انکا ردّ کرتے ہیں تو اسی ضمن میں سیاہ لباس کی مذمت بیان کرتے ہوئے حد سے تجاوز کرجاتے اور اسے بالکل ناجائز قرار دیتے ہیں ۔ حالانکہ تعصب سے بالاتر ہو کر احادیث کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اہلسنت کی احادیث ِ مبارکہ میں کہیں بھی سیاہ لباس پہننے کی ممانعت وارد نہیں بلکہ بہت سی احادیث سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
▪️نبی کریمؐ کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے جس میں ایک چھوٹی کالی کملی بھی تھی۔ نبی کریم ص نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے یہ چادر کسے دی جائے؟ صحابہ کرام رض خاموش رہے پھر نبی کریم ص نے فرمایا : ام خالد کو میرے پاس بلا لاؤ۔ انہیں گود میں اٹھا کر لایا گیا (کیونکہ بچی تھیں) اور نبی کریم ص نے چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنایا اور دعا دی کہ جیتی رہو ۔ اس چادر میں ہرے اور زرد نقش و نگار تھے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ام خالد! یہ نقش و نگار ”سناہ“ ہیں۔ ”سناہ“ حبشی زبان میں خوب اچھے کے معنی میں آتا ہے۔
حوالہ : [ صحیح بخاری – روایت ٥۸۲٣ – صحیح ]
▪️یحییٰ بن یحییٰ تمیمی و قتیبہ بن سعید ثقفی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔۔ یحییٰ نے کہا : ہمیں معاویہ بن عمار دہنی نے ابو زبیر سے خبر دی اور قتیبہ نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ انھوں نے جابر بن عبد اللہ رض سے روایت کی کہ رسول اللہ ص مکہ میں داخل ہوئے ۔ قتیبہ نے کہا : فتح مکہ کے دن ۔ بغیر احرام کے داخل ہو ئے اور آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ عمامہ تھا۔ قتیبہ کی روایت میں ہے (معاویہ بن عمار نے) کہا : ہمیں ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ۔
حوالہ : [ صحیح مسلم – روایت ٣٣۰۹ – صحیح ]
▪️ شریک نے ہمیں عمار دہنی سے خبر دی انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے جابر بن عبد اللہ رض سے روایت کی کہ نبی ص فتح مکہ کے دن داخل ہوئے تو آپ (کے سرمبارک)پر سیاہ رنگ کا عمامہ تھا۔
حوالہ : [ صحیح مسلم – روایت ٣٣١۰ – صحیح ]
▪️وکیع نے ہمیں مساوروراق سے خبردی انھوں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے انہوں نے اپنے والد ( عمرہ بن حریث بن عمرو ) سے روایت کی کہ رسول اللہؐ نے لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ ( کے سر مبارک ) پر سیاہ عمامہ تھا۔
حوالہ : [ صحیح مسلم – روایت ٣٣١١ – صحیح ]
▪️ابوبکر بن ابی شیبہ اور حسن حلوانی نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا: ہمیں ابو اسامہ نے مساور وراق سے حدیث بیان کی. کہا : مجھے حدیث بیان کی ( جعفر بن عمرو نے ) اور حلوانی کی روایت میں ہے کہا : میں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے سنا. انھوں نے اپنے والد ( عمرو بن حریث ) سے روایت کی، انھوں نے کہا: جیسے میں (اب بھی) رسول اللہ ص کو منبر پر دیکھ رہا ہوں آپ (کے سر مبارک) پر سیاہ عمامہ ہے آپ نے اس کے دونوں کناروں کو اپنے دونوں کندھوں کے درمیا ن لٹکا یا ہوا ہے ابو بکر ( بن ابی شیبہ ) نے منبر پر کے الفاظ نہیں کہے ۔
حوالہ : [ صحیح مسلم – روایت ٣٣١۲ – صحیح ]
▪️ مجھ کو محمد بن قاسم نے براء بن عازب رض کے پاس رسول اللہ ص کے جھنڈے کے بارے میں سوال کرنے کیلیے بھیجا، براء نے کہا: آپ کا جھنڈا دھاری دار چوکور اور کالا تھا ۱؎۔
حوالہ : [ ترمذی – روایت ١٦۸۰ – صحیح ]
▪️رسول اللہ ص کا جھنڈا کالا اور پرچم سفید تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عباس کی یہ روایت اس سند سے حسن غریب ہے۔
حوالہ : [ ترمذی – روایت ١٦۸١ – صحیح ]
▪️نبی اکرم فتح مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوئےکہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں علی ، عمر ، ابن حریث ، ابن عباس اور رکانہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حوالہ : [ ترمذی – روایت ١۷٣٥ – صحیح ]
▪️ نجاشی(شاہ حبشہ) نے نبی اکرم ص کو دو کالے رنگ کے موزے بھیجے آپ نے انہیں پہنا، پھر آپ نے وضو کیا اور ان دونوں موزوں پر مسح فرمایا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف دلہم کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- محمد بن ربیعہ نے دلہم ( راوی) سے روایت کی ہے۔
حوالہ : [ ترمذی – روایت ۲۸۲۰ ]
▪️رسول اللہ فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ایک کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔
حوالہ : [ سنن ابو داؤد – روایت ۴۰۷٦ – صحیح ]
▪️میں نے نبی اکرم ص کو منبر پر دیکھا ، آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے جس کا کنارہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔
حوالہ : [ سنن ابو داؤد – روایت ۴۰۷۷ – صحیح ]
▪️ حضرت عبداللہ بن زید رض سے روایت ہےکہ رسول اللہ ص نے نماز استسقاء پڑھائی تو آپ پر سیاہ اونی چادر تھی ۔
حوالہ : [ سنن نسائی – روایت ١٥۰۸ – صحیح ]
▪️میں مدینہ آیا تو نبی اکرم ص کو منبر پر کھڑے دیکھا اور بلال رض آپ کے سامنے گلے میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے ، پھر اچانک ایک کالا بڑا جھنڈا دکھائی دیا، میں نے کہا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ عمرو بن العاص ہیں جو ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں۔
حوالہ : [ سنن ابن ماجہ – روایت ۲۸١٦ – صحیح ]
▪️رسول اللہ ص کا بڑا جھنڈا کالا اور چھوٹا جھنڈا سفید تھا۔
حوالہ : [ سنن ابن ماجہ – روایت ۲۸١۸ – صحیح ]
▪️میں رسول اللہ ص کی طرف دیکھ رہا ہوں آپ کے سر پر سیاہ عمامہ ( کالی پگڑی ) ہے جس کے دونوں کنارے آپ اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں۔
حوالہ : [ سنن ابن ماجہ – روایت ۲۸۲١ – صحیح ]
▪️نبی اکرم ص مکہ مکرمہ میں اس حال میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔
حوالہ : [ سنن ابن ماجہ – روایت ۲۸۲۲ – صحیح ]
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا حضور ص نے حسب ضرورت مختلف مواقع پر سیاہ چادر ، سیاہ عمامہ ، سیاہ موزے اور سیاہ جھنڈے استعمال کئے۔ سیاہ چادر ایک صحابیہ کو عطا فرمائی ، سیاہ عمامہ ایک صحابی کو عنایت فرمایا۔ نیز حضرت عائشہ نے احرام کے دوران عورت کے لئے سیاہ لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں سمجھا لہٰذا اگر سیاہ لباس استعمال کیا جائےتو شرعی طور پر اس میں نہ کوئی حرج ہے اور نہ اسکی ممانعت ہے علامہ شامی نے تو کالے رنگ کا لباس پہننے کو مستحب قرار دیا ہے ، کیوں کہ نبی ﷺ سے سیاہ (کالے ) رنگ کا لباس پہننا ثابت ہے ، بلکہ سنت رسول ہے ۔
اعتراض : اب یہاں ایک اعتراض ہوا کہ یہاں تو عمامہ چادر وغیرہ ہیں لباس”شلوار قمیض” تو نہی ہے؟؟؟؟
جواب : لباس مصدر ہے بمعنی ملبوس (یعنی پوشاک) کے جیساکہ کتاب بمعنی مکتوب۔ لباس کا لفظ عمامہ ، ٹوپی ، قمیص ، جبہ ، چادر ، تہبند ، پاجامہ اور جو کچھ پہننے میں آئے سب کو شامل ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے لباس کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
🕋 اے آدم علیہ السلام کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس بنایا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے۔
حوالہ : [ سورۂ الاعراف – آیت نمبر ٢٦ ]
لِبَاسُ التقوی سے مراد وہ لباس ہے جس میں حیا ہو۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
🕋 اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں ۔
حوالہ : [ سورۂ النحل – آیت نمبر ٨١ ]
قرآن وسنت کی روشنی میں علماء کرام نے تحریر کیا ہے کہ انسان اپنے علاقہ کی عادات واطوار کے لحاظ سے چند شرائط کے ساتھ کوئی بھی لباس پہن سکتا ہے کیونکہ لباس میں اصل جواز ہے جیسا کہ سورۂ الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ
🕋 ” لباس اور کھانے کی چیزوں میں وہی چیز حرام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔”
حوالہ : [ سورۂ الاعراف – آیت نمبر ٣٢ ]
شریعت مطہرہ میں کالے کپڑے سے ممانعت ثابت نہیں ” والاصل فی الاشیاء اباحۃ” اسوقت چادریں بطور لباس پہنی جاتیں تھیں. جہاں دوسری سنت زندہ کی جاتی ہیں وہاں اسے بھی زندہ کریں ۔جہلاء سنی سنائی باتوں پر کہہ دیتے ہیں کہ ناجائز ہے مگر ایک عالم کا حق یہ ہے کہ تحقیق میں کوشش کرے ۔۔

