گھوڑے کا جھوٹا پاک یا ناپاک؟ فقہ اہلسنت اور اہلحدیث
محرم الحرام میں کچھ جاہل ناصبی مومنین پر الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیعہ سبیل میں گھوڑے کا جھوٹا پانی پیتے ہیں اور کچھ نادان ناواقف لوگوں نے بھی ایسا فعل سر انجام دیا جس سے ناصبیوں کو بھونکنے کا موقع ملا اس پوسٹ کا مقصد ان جاہلوں کو جواب ہے جو شیعیت پر گھوڑے کا جھوٹا پینے کا الزام لگاتے ہیں ان کے اپنے فرقے میں نا صرف گھوڑے کا جھوٹا پاک ہے بلکہ کچھ کے نزدیک تو گھوڑے کا گوشت بھی حلال ہے۔
▪️ میرا باپ گھوڑا گاڑی چلاتا ہے اکثر وبیشتر وہ گھوڑے کو پانی ہمارے کھانے کے برتنوں میں پلاتے ہیں کبھی کبھی ہم بغیر دُھلے برین کو استعمال کرلیتے ہیں کیا یہ درست ہے؟
جواب : گھوڑے کا جھوٹا پاک ہے اس لیے اس کو کسی برتن میں پانی پلایا جائے تو اس کا استعمال جائز ہے۔
حوالہ : [ دارالافتاء والقضاء – سیریل نمبر ٢٠١۴٣ ]
▪️ فتوی نمبر: WAT-1761 – دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال : کن کن جانوروں کا جھوٹا ناپاک ہے اور کن کن کا پاک؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
” جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے چوپائے ہوں یا پرند اُن کا جوٹھا پاک ہے جیسے گائے ، بیل ، بھینس ، بکری ، کبوتر ، تیتر بٹیر وغیرہ ایسے ہی جو مرغی چُھٹی پھرتی ہے اور غلیظ پر منہ ڈالتی ہے اسکا جوٹھا مکروہ ہے اور اگر بند رہتی ہوتو پاک ہےاور گھوڑے کا جوٹھا بھی پاک ہے۔”
سور، کتا، شیر، چیتا، بھیڑیا، ہاتھی، گیدڑ اور دوسرے درندوں کا جوٹھا ناپاک ہے۔ اور گھر میں رہنے والے جانور جیسے بلی، چوہا، سانپ، چھپکلی، ان کا جوٹھا مکروہ ہے۔
پانی میں رہنے والے جانوروں کا جوٹھا پاک ہے خواہ اُنکی پیدائش پانی میں ہو یا نہ ہو۔اور گدھے، خچر کا جوٹھا مشکوک ہے۔
حوالہ : [ ملخص ازبہارشریعت – جلد ١ – حصہ ٢ -ص ٣۴٢ ، ٣۴٣ ]
https://www.daruliftaahlesunnat.net/ur/kis-janwar-ka-jhoota-pak-hai-aur-kis-ka-ka-napak
▪️ گھوڑے کا جھوٹا پاک ہے۔ اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔
حوالہ : [ الفتاوی الھندیۃ -کتاب الطہارۃ – الباب الثالث فی المیاہ – الفصل الثانی – جلد ۱ – ص۲۳ ، ۲۴ ]
▪️ اہلحدیثوں کی تو کیا بات ہے انکے نزدیک پورا گھوڑا ہی حلال ہے۔
http://forum.mohaddis.com/threads/%DA%AF%DA%BE%D9%88%DA%91%D8%A7-%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D8%AD%D8%B1%D8%A7%D9%85-%DB%81%DB%92.23957/
▪️ جناب مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی صاحب ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
سوال: کن جانوروں کا جوٹھا پانی پاک ہے؟
جواب : آدمی اور حلال جانوروں کا جوٹھا پانی پاک ہے ، جیسے گائے، بکری، کبوتر، گھوڑا!
حوالہ : [ تعلیم الاسلام از کفایت اللہ – صفحہ ۴٣ ]
▪️ اگر کپڑے کو گھوڑے کا پیشاب لگ گیا تو امام ابوحنیفہ اور امام یوسف کے نزدیک ناپاک نہیں گا یہاں تک کہ فاحش ہوجائے اور امام محمد کے نزدیک ناپاک نہیں کرگا چاہیے فاحش ہوجائے۔ گھوڑے کا گوشت حلال ہے مگر جہاد کی وجہ سے منع ہے۔
حوالہ : [ اثمار الھدایة – جلد ١ – صفحہ ٣٠۵ ]
▪️ سوال: وہ کون سے جانور ہیں جن کا جھوٹا پاک ہے؟
جواب: گھوڑے اور گدھے اور خچر کا جھوٹا اور کل ان جانوروں کا جھوٹا جو حلال ہیں خواہ چارپایہ ہوں یا پرند پاک ہے۔
حوالہ : [ رکن دین – صفحہ ٦۵ ]
