کیا ہندہ نے سید الشھداء حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا؟

احمد بن حنبل نے با سند صحیح عبداللہ بن مسعود کی ایک طولانی حدیث نقل کی جس میں حضرت حمزہ علیہ السلام کی جان سوز شہادت کا ذکر ہے کہ آپ کے شکم کو پھاڑا گیا اور ہندہ نے آپ علیہ السلام کا کلیجہ نکال کر اسے چبایا اور اسے کھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پوچھا کیا اس (ہند ) نے اس میں سے کچھ کھایا تو لوگوں نے کہا نہیں پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ سبحانہ تعالی نے حمزہ میں سے کسی چیز کو آگ میں داخل نہیں کیا:
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ۔۔۔۔۔۔ قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَةُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُهُ، وَأَخَذَتْ هِنْدُ كَبِدَهُ فَلَاكَتْهَا، فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْكُلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَأَكَلَتْ مِنْهُ شَيْئًا ” قَالُوا: لَا. قَالَ: ” مَا كَانَ اللهُ لِيُدْخِلَ شَيْئًا مِنْ حَمْزَةَ النَّارَ “.
مسند احمد ج 4 ص 250/251
کتاب کے محقق احمد محمد شاکر نے سند کو صحیح کہا ہے۔

سنن مجتبی صحیح شمار ہوتی تھی۔
حاکم نے بھی صحیح تسلیم کیا:
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً وَقِرَاءَةً ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ : ” بِسْمِ اللَّهِ ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ ، أَوْ أَضِلَّ ، أَوْ أَظْلِمَ ، أَوْ أُظْلَمَ ، أَوْ أَجْهَلَ ، أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ ” . ” هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ ، وَرُبَّمَا تَوَهَّمَ مُتَوَهِّمٌ أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، فَإِنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ جَمِيعًا ، ثُمَّ أَكْثَرَ الرِّوَايَةَ عَنْهُمَا جَمِيعًا “ .
المستدرك على الصحيحين ج 2 ص 202
https://www.islamweb.net/ar/library/index.php?page=bookcontents&idfrom=1793&idto=1794&bk_no=74&ID=772
البتہ ساتھ میں یہ دعوٰی بھی کر دیا کہ شعبی جناب ام سلمہ اور عائشہ کے پاس جاتا تھا مگر خود ہی اپنی بات کا رد بھی کیا اور کہا شعبی نے عائشہ سے کچھ بھی نہیں سنا۔
وقد خالف ذلك في “علوم الحديث ” له، فقال: لم يسمع الشعبي من عائشة”نتائج الأفكار في تخريج أحاديث الأذكار ج1 ص 160

حديثٌ صحيحٌ رواه أبو داود والتِّرمذيُّ وَغيْرُهُمَا بِأسانِيدَ صحيحةٍ. قالَ التِّرْمذي: حديثٌ حسنٌ صحيحٌ، وهذا لَفظُ أبي داودَ.
رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين ص 61
https://al-maktaba.org/book/12014/41#p1
ابن حجر نے ابن مدینی کے قول کو نقل کیا کہ شعبی نے جناب ام سلمہ سے کچھ نہیں سنا:
ام سلمہ سے کچھ نہیں سنا:
عن علي بن المديني أنه قال في علله: إن الشعبي لم يسمع من أم سلمة

نتائج الأفكار في تخريج أحاديث الأذكار ج1 ص 160
اس کے بعد بھی شعبی کی جناب ام سلمہ سے روایت کردہ حدیث کو حسن تسلیم کیا حديث حسن
نتائج الأفكار في تخريج أحاديث الأذكار ج1 ص 157
